ارونا چل وچین : مودی کی آنکھ دیکھنے کی اور، دکھانے کی اور
ڈاکٹر سلیم خان
ارونا چل پردیش کا تنازع فی الحال ہندوستان و چین کے درمیان تعلقات کے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے۔ یہ معاملہ ہندو پاک سرحدی تنازعات سے مختلف نوعیت کا ہے۔ ان دشمن پڑوسیوں میں کبھی کبھار آپریشن بالا کوٹ اور آپریشن سندور وغیرہ تو ہوجاتے ہیں لیکن دہلی دھماکے کے بعد مودی سرکار کے احتیاط نے فی الحال اس کا امکان مفقود کردیا ہے ۔ وزیر اعظم نے ویسے تو اعلان کیا تھا کہ آپریشن سندور جاری ہے مگر دہلی دھماکوں میں پاکستان کے ملوث ہونے پر میڈیا میں بحث کے باوجود گوں ناگوں وجوہات کی بنیاد پر کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوئی۔ ان دونوں ہم سایہ ممالک کے رہنما عوام کو بہلانے پھسلانے کے لیے کچھ بیان بازی تو کرتے ہیں مگر زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں جاتے۔ اس کے برعکس چین اور ہندوستان کی سرحد میں تو ہر سال کچھ نہ کچھ تبدیلی ہوجاتی ہے۔ اس بابت حزب اختلاف کے اعتراضات کو بی جے پی والے چین کی زبان کہہ کر مسترد کردیتے ہیں مگر 19؍ نومبر 2019 کو خود اپنے ہی رکن پارلیمنٹ تاپر گاؤ کی تردید کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے ؟موصوف نے تو ایوان کے اندر چین کے وسعت پسندانہ رویہ کو سامنے لا کرخود اپنی ہی حکومت کی قلعی کھول دی تھی۔
مشرقی اروناچل سے بی جے پی کے رکن پارلیمان نے کہا تھا کہ اروناچل پردیش میں لگاتار چین دراندازی کر رہا ہےوہ ہندوستان کے کئی علاقوں پر قبضہ کر چکا ہے مگر اس انتہائی سنگین مسئلہ پر حکومت دھیان نہیں دے رہی ہے۔ اب چونکہ حکومت نظر انداز کررہی ہے تو انہیں بھی بھول جانا چاہیے تھا مگران کی دلیل ہے کہ اگر اس ایشو کو وہ نہیں اٹھائیں گے تو ہندوستان کی آنے والی نسل انہیں معاف نہیں کرے گی۔ بی جے پی کو آئندہ نسلوں کی چنداں فکر نہیں کیونکہ ویسے بھی مستقبل میں کوئی اس کا نام لیوا نہیں ہوگا۔ اس انتباہ کے بعد ۶؍ سال گزرگئے ۔ مودی سرکار مختلف ریاستی و قومی انتخاب پر متوجہ رہی اور نوبت یہ آئی کہ چین نے ارونا چل سے تعلق رکھنے والی ایک معزز خاتون کا ہندوستانی پاسپورٹ تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ تاپر گاؤ نے اپنے خطاب میں مثالیں دے کر یاد دلایا تھا کہ 14 نومبر 2019 کو ملک کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نےتوانگ جاکر بی آر او کے ایک پل کا افتتاح کیا تو اس پر چین نے آفیشیل پریس کانفرنس کر کے اعتراض ظاہر کیا۔ صدر جمہوریہ اور پی ایم مودی اروناچل گئے، اس پر بھی چین نے اعتراض جتایا اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے دورے پر بھی ناراضی ظاہر کی تھی مگر یہ سب ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرلیا گیا ۔
بی جے پی رکن پارلیمنٹ تاپر گاؤ نے اعتراف کیا کہ ’’آج 50 سے 60 کلو میٹر سے زیادہ چین نے ہمارے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس لیے میں حکومت، ایوان اور میڈیا ہاؤس سے یہ اپیل کرنا چاہوں گا کہ اس ایشو کو اٹھائیں۔ اگر کوئی پاکستان کا ایشو آتا ہے تو وہ اٹھتا ہے، میڈیا مین خبریں آتی ہیں، لیکن چین اگر اروناچل پردیش میں قبضہ کرتا ہے تو وہ خبر کہیں نہیں آتی ۔‘‘ یہ ایسی تلخ حقیقت پھر بھی اگر اس کو بیان کرنے والے کا تعلق کسی اور سیاسی جماعت سے ہوتا تو آسمان سر پر اٹھا لیا جاتامگر کیا کریں ہونٹ بھی اپنےاور دانت بھی اپنے ہی تھے ۔ موصوف نے بڑی دردمندی سے خبردار کیا تھا کہ وقت رہتے اروناچل پردیش پر حکومت نے دھیان نہیں دیا تو وہ دن دور نہیں جب اروناچل میں دوسرا ڈوکلام بن جائے گا، تب حکومت کے لیے بے حد مشکل ہوگی۔ اس کے باوجود مودی سرکار کمبھ کرن کی نیند سوتی رہی۔ وہ اساطیری کردار تو ۶؍ ماہ تک سوتا تھا مگر یہ حکومت تو ۶؍ سال سے سورہی اور کب بیدار ہوگی؟ یا ہوگی بھی نہیں یہ کوئی نہیں جانتا۔
ہندوستانی ریاست اروناچل پردیش کو چینی حکومت زنگنان کہہ کر اپنا علاقہ بتاتی ہے۔ حالیہ تنازع ذرائع ابلاغ سرخیوں میں اس وقت آیا جبکہ اروناچل پردیش کی ایک خاتون ہندوستانی پاسپورٹ پر جاپان کا سفر کرتے ہوئے چین کے شنگھائی ہوائی اڈے پر اتری تو حکام نے یہ کہہ کر ان کا بھارتی پاسپورٹ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ تو چین کا علاقہ ہے اور انہیں چینی پاسپورٹ پر سفر کرنا چاہیے۔ پریما وانگجوم نامی یہ ہندوستانی شہری تقریباً 14 برس سے برطانیہ میں مقیم ہے لیکن انھوں نے اپنی ہندوستانی شہریت نہیں چھوڑی۔ 21 نومبر کو لندن سے جاپان جاتے ہوئے انہیں شنگھائی ہوائی اڈے پر جہاز بدلنا تھا۔ اس کے لیے وہ امیگریشن کی قطار میں کھڑی تھیں تو حکام نے انھیں لائن سے نکال کر ایک الگ جگہ بٹھا دیا ۔ انہوں نے جب پوچھا کہ مسئلہ کیا ہے، تو جواب ملا، ‘اروناچل ہندوستان کا حصہ نہیں ہے’ اور وہ مذاق اڑاتے ہوئے ہنسنے لگےنیز یہ کہا کہ ‘آپ کو چینی پاسپورٹ کے لیے اپلائی کرنا چاہیے، آپ تو چینی ہیں، آپ ہندوستانی نہیں ہیں‘۔یہ ایسا ہی ہے جیسے ہندوستانی حکام اپنےبنگالی نژاد مسلمان شہریوں سے کہتے ہیں کہ ’آپ ہندوستانی نہیں بنگلہ دیشی ہیں‘ لیکن فرق یہ ہے کہ چینی اپنا پاسپورٹ دینے کی پیشکش کرتے ہیں مگر یہ تو آدھار کارڈ بھی چھیننے پر اتارو ہیں۔
لداخ کے سونم وانگچوک کی طرح پریما وانگجوم بھی بے قصور ہے۔ اس کا واحد قصور ہندوستانی پاسپورٹ پر جائے پیدائش کے سامنے اروناچل پردیش کالکھا ہونا ہے۔ وہ لندن سے 12 گھنٹے کے سفر کرنے کے بعد شنگھائی پہنچی مگر پھر’تین گھنٹے کا سٹاپ اوور اُس کے لیے عذاب بن گیا ۔‘ اسے نہ صرف جاپان کی پرواز پر سوار ہونے سے روک دیا گیا بلکہ 18 گھنٹے تک بغیر کچھ کھائے پیے ہراساں کیا گیا ۔ اس نے لندن میں ایک دوست کی مدد سےہندوستانی سفارتخانے کےساتھ رابطہ کیااور اہلکاروں نے ہوائی اڈے پرآکر ملاقات بھی کی مگر کسی ایک نہیں چلی ۔پریما ایک خود دار خاتون نکلی جو چینیوں سے ان کے ملک میں الجھ گئی ۔ اس کی جگہ کوئی ابن الوقت سنگھی ہوتا چینی پاسپورٹ بھی لے لیتا تاکہ حسبِ ضرورت استعمال کرسکے۔ اپنی اس دھاندلی پر چینی حکام نے معذرت کرنے کے بجائے ڈھٹائی سے کہا کہ’ ارونا چل پردیش ہندوستان کا نہیں، چین کا حصہ ہے‘ اس لیے پریما کا پاسپورٹ جائز نہیں ہے البتہ وہ چاہیں تو چین کا پاسپورٹ لے سکتی ہیں۔
چینی حکام کے اس توہین آمیز سلوک کے باوجود دہلی کے اندر بھیانک سناٹا پسرا رہا ۔ مودی جی غالباً کی اپنی لال دکھانے کے بجائے انہیں موند کر آنسو بہاتے رہے اور قوم روتی رہی یہاں تک کہ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے مذکورہ خاتون کے ساتھ سخت کارروائی یا حراست و ہراسانی کاانکار کردیا بلکہ چینی فضائی کمپنی کے ذریعہ پریما کو آرام کرنے کے لیے جگہ اور کھانا وغیرہ فراہم کرنےکا دعویٰ کرکےاپنے اہلکاروں کی کارروائی کوقانون اور ضوابط کے مطابق حق بجانب ٹھہرایا۔ اس کے بعد جاکر ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال میدان میں آئے حالانکہ اب تک تو پانی سر سے اوپر ہوچکا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ’’ نئی دہلی نے اس معاملے کو چینی حکام کے ساتھ "سختی سے” اٹھایا ہے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ "اروناچل پردیش بھارت کا ایک اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ ہے، اور یہ ایک بذات خود واضح حقیقت ہے۔ چین کی طرف سے کسی قسم کی تردید اس ناقابل تردید حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔” اس پر وزیر اعظم ، وزیر خارجہ ، وزیر دفاع یا وزیر داخلہ کی جانب سے مذمت ہونی چاہیے تھا مگر سب کو سانپ سونگھا ہوا تھا۔
دو برس قبل بھی یہی کیفیت تھی جب چین نے اپنے نقشے میں اروناچل پردیش کے 15 مقامات کا نام تبدیل کر کے انہیں نئے ناموں سے منسوب کردیا۔ اس پر ہندوستان بھر میں مختلف شہروں کے نام بدل کر اپنی پیٹھ تھپتھپانے والے مودی، یوگی وغیرہ وغیرہ خاموش تماشائی بنے رہے۔ وہ اروناچل پردیش کو تبت کا ایک حصہ کہہ کر اس پر ہندوستانی قبضے کو غیر قانونی بتا تارہا مگر ہماری جانب سے ارونا چل ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے کہہ کر اطمینان کرلیا گیا۔ اس کی اس منہ زوری کا سفارت اور تجارت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ 2020 میں گلوان کے اندر شدید جھڑپوں میں کم از کم 20ہندوستانی اور 4 چینی فوجیوں کی ہلاکت پر بھی مودی جی نے وہی شتر مرغ کی روش اپناتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے علاقے میں نہ کوئی آیا اور نہ آ ئے گا۔ یہ کہہ کر انہوں نے چین کو کلین چٹ دے دی ظاہر ہے کوئی آیا نہیں اور تصادم ہوگیا تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے فوجی اس کے علاقے میں چلے گئے ۔ اس طرح نادانستہ مودی جی نے خود اپنی فوج پر ہی تصادم کی ذمہ داری ڈال کر چین کو خوش کردیا۔ ایسے وزیر اعظم سے بھلا چین کو کیا پریشانی لاحق ہوسکتی ہے اس لیے وہ دھڑلے کے ساتھ نہ صرف اروناچل پر دعویٰ ٹھونکتا ہے بلکہ وہاں پر شہروں کے نام تبدیل کردیتا ہے۔ اس کے باوجود کوئی سخت ردعمل مثلاً چینی سفارتخانے پر دباو تک نہیں آتا تو ہمارے شہریوں کی بدسلوکی پر اتر آتا ہے کیونکہ جانتا ہے’مودی کی (لال) آنکھ دیکھنے کی اور دکھانے کی اور‘۔
(۰۰۰۰۰جاری)
Comments are closed.