’’ملک کی ترقی میں ہی مسلمانوں کی ترقی ہے‘‘:کرنل طاہر مصطفی

جامعہ ہمدرد اور اسلامک فقہ اکیڈمی،انڈیا کے اشتراک سے جامعہ ہمدرد میں دو روزہ قومی سیمینار کا انعقاد
نئی دہلی(پریس ریلیز)
سینٹر فار ریسرچ آن مدرسہ ایجوکیشن، شعبہ اسلامک اسٹڈیز،جامعہ ہمدرد، نئی دہلی اور اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کے اشتراک سے ”ہندوستان میں مسلمانوں کو درپیش تعلیمی و معاشی چیلنجز اور ان کا حل” کے عنوان پر ایک دو روزہ قومی سیمینار کاانعقادبتاریخ26-27 نومبر 2025ہمدرد کنونشن سینٹر میں عمل میں آیا۔سیمینار کے افتتاحی اجلاس کا آغاز بی اے سال دوم کے طالب علم اوصاف ایاز کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور صدارت کے فرائض کرنل طاہر مصطفی (رجسٹرار، جامعہ ہمدرد) نے انجام د ئیے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کا کلیدی خطبہ اُن کی غیر موجودگی میں شمیم اختر قاسمی نے پیش کیا۔
افتتاحی اجلاس کو مہمان خصوصی ڈاکٹر ایس، فاروق(صدر تسمیہ آل انڈیا ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر سوسائٹی، نئی دہلی)مہمانِ اعزازی مولانا عتیق احمد بستوی(سیکرٹری براے اکیڈمک امور، اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا) پروفیسر ایس مہرتاج بیگم(ڈین اسکول آف ہیومنیٹیز اینڈ سوشل سائنسز)ڈاکٹر صفیہ عامر (کنوینر سیمینار) اور دیگر معزز مقررین نے خطاب کیا۔ جبکہ صدارتی کلمات کرنل طاہر مصطفی (رجسٹرار، جامعہ ہمدرد)، نے پیش کیے۔ انہوں نے اس بات پرزوردیا کہ ملک کی ترقی میں ہی مسلمانوں کی ترقی پوشیدہ ہے۔ اس حوالے سے مولانا عتیق احمد بستوی صاحب کی تقریر کوسراہتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک قومیت پسندانہ فکر اور بصیرت مندانہ سوچ رکھنے والے عالم دین ہیں۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر اس۔فاروق نے معاشرے میں اخلاقی انحطاط کی صورت حال پرتاسف کا اظہار کرتے ہوئے مسلم معاشرے کی ترقی کے لیے اس کے ازالے پر جب کہ مولانا عتیق احمد بستوی نے اس پر زوردیا کہ اسلام میں دین اوردنیا کی تفریق نہیں کی گئی ہے اور یہ کہ مسلمانوں کے مسائل اورفلاح وبہبود کوملک کے مسائل اور فلاح وبہبود سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔
دو دن جاری رہنے والے اس علمی اجتماع میں ملک کی متعدد جامعات، مدارس اور تحقیقی اداروں سے آئے ہوئے ماہرین نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی، معاشی محرومی، خواتین کی تعلیم، مدارس کی عصری ضروریات، اسلامی مالیات، زکوٰۃ کے اجتماعی نظام اور سرکاری اسکیموں تک مسلمانوں کی رسائی جیسے موضوعات پر مقالات پیش کیے۔
سیمینار کی مختلف علمی نشستوں میں مقالہ نگاروں نے تعلیم اور معاش کے حوالے سے مسلمانوں کو درپیش چیلنجز پر بحث کرتے ہوئے اس پہلو پر زور دیا کہ اس حوالے سے داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر چیلنجز درپیش ہیں جن کے تدارک کے لیے مختلف سطحوں پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔موثر حکمت عملی اور منصوبہ بند اجتماعی کوششوں کے بغیر ان چیلنجز سے نمٹنا ممکن نہیں ہے۔
اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر بصیر احمد خان سابق پرو وائس چانسلر ’’اگنو‘‘نے کی، سیمینار کی رپورٹ ڈاکٹر وارث مظہری (ڈائریکٹر سیمینار) نے پیش کی ، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر نجم السحر (کنوینر سیمی نار)نے انجام دئیے۔

 

Comments are closed.