“سیرتِ رسول ﷺ ہی وہ روشنی ہے جو اُمت کو منتشر راستوں سے نکال کر ایک منزل پر لا سکتی ہے۔” مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی
جماعت اسلامی ہند ممبئی شہر نے کُرلا مقام پر کیا اجلاس عام؛ بڑی تعداد میں مرد و خواتین نے کی شرکت
ممبئی، 28 نومبر:
جماعتِ اسلامی ہند ممبئی میٹرو اور مقام کُرلا کے زیرِ اہتمام "سیرت النبی ﷺ اور اتحادِ اُمت کانفرنس” پر خطاب عام نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ يه خطاب انجمن اسلام اسکول، CST روڈ پر منعقد کیا گیا تھا، جس میں علما، شعراء، نوجوانوں اور مقامی شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن سے ہوا، جس کے بعد شعرائے کرام جناب فیض گورکھپوری، جناب یاسر اعظمی، جناب ذوالفقار سعیدی، اور مولانا عبد اللہ ندیم فلاحی نے نعتیہ اور اصلاحی کلام پیش کیا۔
کانفرنس کا سب سے اہم اور مرکزی حصہ مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی کا صدارتی خطاب تھا، جو اپنی جامعیت اور بصیرت کے اعتبار سے سامعین پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔ مولانا نے کہا کہ موجودہ حالات میں اُمت کی سب سے بڑی ضرورت اتحاد، حکمت، صبر اور اعلیٰ اخلاق ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیرتِ نبوی ﷺ اختلافات کو دور کرنے، اجتماعی قوت کو مضبوط کرنے اور معاشرے میں عدل و رحمت پھیلانے کا بہترین عملی نمونہ فراہم کرتی ہے۔ مولانا نے مرد و خواتین ،نوجوانوں کو علمی و اخلاقی تیاری، سماجی قیادت اور خدمتِ خلق کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی ترغیب دی۔
پروگرام کے دیگر مقررین میں جناب عبید الرحمٰن (سکریٹری جماعت اسلامی ہند) نے موجودہ ملکی حالات میں سیرت رسول کا عملی مظہر بننے، دعوت و اصلاح کے دائرے کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ جناب راشد خان (ناظم شہر،جماعت اسلامی ہند، ممبئی) نے دینی بیداری اور سماجی ذمہ داریوں کے لیے تیار ہونے کی تاکید کی، سماج کےتئیں نافع بن کر ملک کی تعمیر میں زبردست رول ادا کرنے کی بابت رہنمائی کی۔ مولانا غلام عسکری نے "نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی تربیت کیسے کریں” عنوان پر خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے مستقل پیمانے پر کی جانے والی تربیت کی اہمیت پر زور دیا۔ مولانا افروز علیمی(امام و خطیب، مسجد سراجیہ) نے "زندگی میں سکون، رشتوں کو نبھائیں” عنوان کی فہمائش کرتے ہوئے قرآن سے مضبوط تعلق اور اخلاقی تربیت پر زور دیا، مزید انہوں نے کہا کہ زندگی میں اصل سکون تو اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے ممکن ہے ۔پھر مولانا مفتی رضوان احمد نے”خاندانی نظام کے استحکام میں میرا رول” موضوع پر اپنے احساسات پیش کیے ۔انہوں نے سماجی مسائل کے حل اور نوجوان نسل کی رہنمائی کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔گھر کے ہر ایک فرد کی تکریم پر بات کی۔ محبت و عزت کے ساتھ ساتھ اپنی ذمّہ داریوں کی ادائی پر بھی توجہ مرکوز کروائی ۔
شرکاء نے اس اجتماع کو نہایت مفید، منظم اور اتحادِ اُمت کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا، جبکہ مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی کا خطاب پروگرام کی نمایاں ترین خصوصیت کے طور پر سامنے آیا۔ خطاب عام میں نظامت کے فرائض جناب ایڈووکیٹ عشرت خان نے انجام دیے اور امیرِ مقامی کُرلا جناب عبد التواب نے رسمِ شکریہ ادا کیے۔کانفرنس کا اختتام دعا پر ہوا۔
Comments are closed.