مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

 

اے ایم یو میں نیوٹرینو فزکس کی 50 سالہ شاندار سائنسی خدمات کا جشن

 

علی گڑھ، 29 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ طبیعیات نے نیوٹرینو فزکس کے شعبے میں مسلسل پچاس برسوں پر محیط اپنی علمی و تحقیقی خدمات کا ایک قابل فخر سنگ میل عبور کیا۔ یہ ایک ایسا اعزاز ہے جس کا اعتراف اسپرنگر جرنل نے بھی کیا ہے۔ اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے دی یورپین فزیکل جرنل اسپیشل ٹاپکس نے اس موضوع پر ”ففٹی ایئرس آف نیوٹرینو فزکس ایٹ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی“ کے عنوان سے ایک خصوصی مضمون پروفیسر ایس کے سنگھ اور پروفیسر ایم سجاد اطہر سے تحریر کرایا۔

 

نیوٹرینوز، کائنات میں سب سے زیادہ پائے جانے والے لیکن سب سے کم سمجھے جانے والے پارٹیکلز (ذرات) میں شمار ہوتے ہیں۔ اس کا تصور پہلی مرتبہ وولف گانگ پاؤلی نے 1930 میں پیش کیا تھا، جبکہ ان کی تجرباتی دریافت 1956 میں ہوئی۔ اپنی غیر معمولی اور مشکل سے پکڑی جانے والی خصوصیات کے باعث نیوٹرینوز نے ذرّاتی طبیعیات میں کئی انقلاب برپا کیے ہیں، اور اب تک تقریباً ایک درجن نوبل انعامات ایسی علمی تحقیق کو مل چکے ہیں جن کا تعلق براہِ راست نیوٹرینوز یا ان سے وابستہ کائناتی مظاہر سے ہے۔ یہ ذرات سیاروں کے اندر جاری عمل، کائنات میں عناصر کی تشکیل اور حتیٰ کہ زمین کی اندرونی ساخت کو سمجھنے میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

 

اے ایم یو میں نیوٹرینو فزکس کا باقاعدہ تحقیقی سفر نصف صدی قبل اس وقت شروع ہوا، جب پروفیسر ایس کے سنگھ (جو کارنیگی میلن یونیورسٹی سے پروفیسر لنکن وولفن شٹائن کی نگرانی میں پی ایچ ڈی مکمل کرکے وطن واپس آئے تھے) نے شعبہ طبیعیات میں ایک منظم نظریاتی ریسرچ پروگرام کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد سے یونیورسٹی نے اس میدان میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تحقیقی روایت کو جاری رکھا ہے، اور یہاں سے سامنے آنے والے متعدد نظریاتی نتائج نے عالمی تجرباتی مطالعات کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

 

پروفیسر ایم سجاد اطہر نے اے ایم یو کی مہارت کو عالمی سطح تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ وہ فیرمی لیب میں ہونے والے تجربے میں شامل رہے ہیں اور اگلی نسل کے بڑے تجربے”ڈیون“ کے فعال رکن ہیں۔ اے ایم یو کے اسکالرز نے اس موضوع پر جدید ترین تحقیقی منصوبوں میں حصہ لیا ہے اور 120 سے زیادہ اہم تحقیقی مقالات بین الاقوامی جرائد میں شائع کیے ہیں۔ اس گروپ نے عالمی سطح کی کانفرنسوں میں پچاس سے زائد لیکچر ز بھی پیش کیے ہیں۔

 

اس ممتاز علمی سفر میں ایک اہم اضافہ وہ اعلیٰ سطحی درسی کتاب بھی ہے جو اے ایم یو کے نیوٹرینو گروپ نے ”دی فزکس آف نیوٹرینو انٹرایکشنز“ کے عنوان سے تصنیف کی، جسے کیمبرج یونیورسٹی پریس نے شائع کیا۔ یہ تصنیف دنیا کی کئی یونیورسٹیوں میں شامل نصاب ہے۔

 

پروفیسر اطہر عالمی نیوٹرینو گوورننس میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ وہ این یو ایس ٹی ای سی اور آئی یو پی اے پی نیوٹرینو پینل میں برصغیر سے واحد نمائندہ ہیں۔ وہ نیوکلیائی فزکس میں امریکہ اور یوروپ کے اداروں میں فعال کردار ادا کر چکے ہیں۔ ہندوستان میں وہ نیوکلیائی فزکس پر انڈین میگا سائنس وِژن 2035 رپورٹ کے ماہرین کے پینل کے رکن ہیں۔

 

اے ایم یو کے پچاس سالہ خدمات کے جشن کے طور پر ”ففٹی ایئرس آف نیوٹرینو فزکس ایٹ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی“ مقالہ بنیادی سائنس میں شعبہ طبیعیات کے کردار کا گرانقدر اعتراف ہے۔

 

مزید معلومات ویب لنک https://link.springer.com/article/10.1140/epjs/s11734-025-01498-y پر دستیاب ہیں۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے مؤرخ، کولکاتا یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر مدعو

 

علی گڑھ، 29 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ممتاز مؤرخ، پروفیسر علی اطہر، سابق چیئرمین، شعبہ تاریخ نے کولکاتا یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر خطبات دئے۔ اس علمی دورے کے رابطہ کار کولکاتا یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے چیئرمین پروفیسر امت ڈے تھے۔

 

پروفیسر اطہر نے اپنی تدریسی مصروفیات کے دوران فیکلٹی اراکین، ریسرچ اسکالرز اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے ساتھ متعدد لیکچرز اور مباحثوں میں حصہ لیا، جن میں ہند-فارسی تاریخ نگاری کی ابتدا و ترقی، تاریخی مآخذ کے مواد کی نوعیت اور ان کی تشریح، ابتدائی اسلامی روابط برصغیر سے، اور دہلی سلطنت و مغل دور کے سماجی و ثقافتی اثرات جیسے موضوعات شامل تھے۔

 

پروفیسر اطہر نے قرونِ وسطیٰ کی ہندوستانی تاریخ پر کام کرنے والے طلبہ کو علمی رہنمائی بھی فراہم کی۔

 

ئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کی ڈاکٹر شہنا علی کے شعری مجموعے ”ورچو وائبس“کی تقریب رونمائی

 

علی گڑھ، 29 نومبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اینستھیسیولوجسٹ ڈاکٹر شہنا علی نے اپنا انگریزی شعری مجموعہ ”ورچو وائبس“ کے عنوان سے شائع کیا ہے، جو اُن کے ادبی سفر میں ایک نمایاں سنگِ میل ہے۔

 

مجموعے کی رونمائی تقریب کی صدارت سر سید اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروفیسر شافع قدوائی نے کی، جنہوں نے نفیس شعری اسلوب کی تعریف کی۔ مہمانِ خصوصی پروفیسر اے آر قدوائی، ڈائریکٹر کے اے نظامی سینٹر فار قرآنک اسٹڈیز نے زبان و بیان کی فنی پختگی کو سراہا، جبکہ مہمان اعزازی ڈاکٹر شمس اقبال، ڈائریکٹر، فروغ اردو کونسل (این سی پی یو ایل) نے ڈاکٹر علی کی تخلیقی آگہی اور جدید اُردو ادب کے تناظر میں شعری مجموعے کی ثقافتی اہمیت کو اجاگر کیا۔

 

کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر سمیع رفیق (شعبہ انگریزی) نے ’ورچو وائبس‘ میں پیش کیے گئے اخلاقی اقدار کے عمیق مطالعے کو سراہا۔ پروفیسر عاصم صدیقی (شعبہ انگریزی) نے اس شعری مجموعے میں استعارات، علامتی اظہار اور موسیقیت جیسے ادبی وسائل کے مؤثر استعمال پر گفتگو کی، اور اس بات کی نشاندہی کی کہ کتاب کلاسیکی اور جدید رجحانات کو خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔

 

پروفیسر طارق چھتاری اور پروفیسر صغیر افراہیم نے بھی شاعرانہ فن پر اپنے اہم نکات پیش کیے۔ ڈاکٹر شہنا علی کے والد، ممتاز اُردو شاعر اور ناول نگار پروفیسر غضنفر علی نے مجموعے کی تخلیقی وسعت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ مجموعہ نئی نسل میں اخلاقی قدروں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

 

تقریب کی نظامت ڈاکٹر شارق عقیل نے کی۔ اس موقع پر پروفیسر محمد خالد، ڈین، فیکلٹی آف میڈیسن بھی موجود تھے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو سنٹر ملاپورم میں سائبر لیگل اویئرنیس پروگرام منعقد

 

علی گڑھ، 29 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ملاپورم سنٹر کی این ایس ایس یونٹ نے لیگل ایڈ سیل اور ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی، ملاپورم کے تعاون سے ایک سائبر لیگل اویئرنیس پروگرام، گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول، کنّکّاؤ میں منعقد کیا۔

 

اسکول کے پرنسپل مسٹر سری جیتھ کے نے حاضرین کا خیرمقدم کیا، جبکہ اے ایم یو سنٹر ملاپورم کے ڈائریکٹر پروفیسر ایم شاہ الحمید نے صدارت کے فرائض انجام دئے۔ سول جج (سینئر ڈویژن) اور ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی کے سکریٹری مسٹر شبیر ابراہیم نے پروگرام کا افتتاح کیا اور طلبہ کے لیے سائبر آگہی کی اہمیت پر زور دیا۔ ڈاکٹر شاہنواز احمد ملک نے تہنیتی خطاب پیش کیا۔

 

لیگل ایڈ کلینک کے طلبہ نے شناخت کی چوری، فِشنگ اور سائبر پائریسی جیسے اہم موضوعات پر پرزنٹیشن دیا۔ این ایس ایس رضاکاروں نے ڈاکٹر راگھل وی راجن کی رہنمائی میں پروگرام کو کامیابی سے منظم کیا۔ تعلقہ لیگل سروسز کمیٹی کے ایڈوکیٹ پرسون رام رام آر ایس نے بھی پروگرام میں معاونت کی۔ آخر میں ڈاکٹر نسیمہ پی کے نے شکریہ ادا کیا۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے پروفیسر ابصار احمد مائیکولوجیکل سوسائٹی آف انڈیا کے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈکے لئے منتخب

 

علی گڑھ، 29 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے انٹر ڈسپلینری نینوٹکنالوجی سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ابصار احمد کو مائیکولوجیکل سوسائٹی آف انڈیا (ایم ایس آئی) کی جانب سے سال 2026 کے لیے دو باوقار اعزازات، ایم ایس آئی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور پروفیسر کے آر انیجا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

 

سوسائٹی نے یہ دونوں ایوارڈ فنگل بایولوجی، بایو پروسپیکٹنگ اور نینو بایوٹکنالوجی میں پروفیسر احمد کی شاندار خدمات کے اعتراف میں منظور کیے۔ ایم ایس آئی نے خاص طور پر فنگس کے ذریعے نینو پارٹیکل سِنسیس پر ان کے ابتدائی اور اختراعی کام کو سراہا، جس نے گرین نینو ٹکنالوجی اور بایومیڈیکل ایپلی کیشنز کی تحقیق کو نمایاں طور پر آگے بڑھایا ہے۔

 

پروفیسر احمد اپنی گرانقدر تحقیقی اشاعتوں، بین الاقوامی اشتراک و تعاون اور متعدد پی ایچ ڈی اسکالرز کی مؤثر رہنمائی کے باعث قومی و بین الاقوامی سطح پر معروف ہیں۔یہ دونوں ایوارڈ 2026 میں تمل ناڈو کی مدورائی کامراج یونیورسٹی میں منعقد ہونیو الے ایم ایس آئی کے 53ویں سالانہ اجلاس میں پیش کئے جائیں گے۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

قومیت، ہندی -اُردو کی مشترکہ ادبی وراثت ہے: پروفیسر شمبھو ناتھ تیواری

 

علی گڑھ، 29 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ ہندی کے پروفیسر شمبھو ناتھ تیواری نے گوتم بدھ یونیورسٹی، نوئیڈا میں بھارتیہ ہندی پرادھیاپک پریشد کے قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی ثقافتی نشأۃ ثانیہ کے دوران تشکیل پانے والی قومیت، ہندی اور اُردو کی مشترکہ ادبی میراث ہے۔

 

پروفیسر تیواری نے کہا کہ آزادی کی جدوجہد محض ایک سیاسی تحریک نہیں بلکہ ایک ثقافتی بیداری بھی تھی، جس میں ادب نے نظریاتی طاقت، اتحاد اور اجتماعی شعور پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اُردو نے ہندی اور دیگر ہندوستانی زبانوں کی طرح حب الوطنی کے جذبات کو پروان چڑھانے اور اجتماعی بیداری پیدا کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

 

سن 1857 کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بغاوت عسکری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک تہذیبی انقلاب بھی تھی، جس میں شعراء اور ادیبوں نے کھلے اور پوشیدہ انداز میں ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کی۔ ان کے مطابق اُردو ادب قوم پرستی کی تحریک کی“ثقافتی روح”بن گیا، جس نے ہم آہنگی کو فروغ دیا اور نوآبادیاتی غلبے کو چیلنج کیا۔

 

ترقی پسند تحریک پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر تیواری نے کہا کہ اُردو ادیب قومی ثقافتی تحریک کے صف اول میں شامل تھے، اور یہ تحریک آج بھی ہماری مشترکہ ہندی اُردو ادبی روایت کا ایک لازمی حصہ ہے۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو اسکالر نے برطانیہ کی کانفرنس میں اپنی تحقیق پیش کی

 

علی گڑھ، 29 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سماجیات کی ڈاکٹر شاذیہ فاروق فاضلی نے رائل ہولووے، یونیورسٹی آف لندن میں ”صحت کی عدم مساوات اور ہندوستان اور یوکے میں فوڈ سسٹمز“ کے عنوان پر منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی اور محققین، پالیسی سازوں اور پبلک ہیلتھ ماہرین کے سامنے اپنا تحقیقی مقالہ بعنوان ”مڈ ڈے میل اور طویل مدتی صحت نتائج“ پیش کیا۔ اس میں انھوں نے ہندوستان میں بچوں کی غذائی حالت اور طویل مدتی صحت پر کی مڈ ڈے میل اسکیم کے اثرات کا تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی روزانہ غذائی ضروریات کا بڑا حصہ اسکول میں پورا ہوتا ہے، اس لیے ادارہ جاتی غذائی نظام کا معیاری ہونا بچوں کی نشوونما اور مجموعی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔

 

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسکولوں میں غذائی ماحول کو مضبوط بنانے کے لیے بہتر معیار، مؤثر نگرانی اور منصفانہ رسائی ناگزیر ہیں، تاکہ سماجی و معاشی صحت میں عدم مساوات کو کم کیا جا سکے۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے ویمنس کالج میں اے آئی پر مبنی ڈیجیٹل فیشن السٹریشن ٹریننگ کا اہتمام

 

علی گڑھ، 29 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ویمنس کالج کے سینٹر فار اسکل ڈیولپمنٹ اینڈ کیرئیر پلاننگ نے اے آئی پر مبنی ڈیجیٹل فیشن السٹریشن پر دو روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیا، جس کا مقصد طالبات کو جدید ڈیجیٹل ڈیزائن مہارتوں سے آراستہ کرنا تھا تاکہ وہ صنعت کے نئے ابھرتے رجحانات کے ساتھ مطابقت پیدا کر سکیں۔

 

پچاس سے زائد طالبات نے اس میں حصہ لیا اور عالمی ڈیجیٹل فیشن ٹولز و تکنیکوں سے واقفیت حاصل کی۔ پروگرام کی کوآرڈنیٹر ڈاکٹر سمرین حسن خان تھیں۔ ریسورس پرسن محترمہ ادیبہ سلیم نے تربیتی سیشن منعقد کیے، جن میں انہوں نے جدید فیشن ڈیزائن میں استعمال ہونے والے کلیدی پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجیز کا عملی مظاہرہ کیا، جن میں کینوا، ایڈوب السٹریٹر، آگمینٹیڈ ریئلٹی ٹولز، سی جی آئی ایڈز، سی ایل او تھری ڈی ورچوئل اپیلیکیشنز اور اے آئی پر مبنی ڈیجیٹل فیشن پلیٹ فارمز شامل تھے۔ طالبات نے ڈیجیٹل اسکیچنگ، تھری ڈی گارمنٹ ویژولائزیشن، ورچوئل پروٹو ٹائپنگ اور جدید دور کے ڈیزائن ورک فلو سے متعلق مہارتیں سیکھیں۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو میں این ای پی 2020، این سی ایف اور یو جی سی ڈرافٹ نصاب پر گول میز مذاکرہ منعقد

 

علی گڑھ، 29 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ تعلیم نے سینٹر فار ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (سی ای آرٹی) کے تعاون سے این ای پی 2020، نیشنل کریکولم فریم ورک (این سی ایف) اور یو جی سی ڈرافٹ نصاب پر مبنی ایک گول میز مذاکرہ منعقد کیا، جس میں حالیہ تعلیمی اصلاحات پر جامع علمی گفتگو ہوئی۔

 

اجلاس کی نظامت ڈائریکٹر ایگزیکٹو بورڈ، سی ای آرٹی، ڈاکٹر روشن محی الدین نے کی۔ گفتگو کا مرکز ملٹی پل انٹری ایگزٹ سسٹم کے عملی اثرات، موجودہ تعلیمی پالیسی میں ہونے والی تبدیلیوں کی علمی حیثیت، اور یو جی سی ڈرافٹ نصاب سے سامنے آنے والے مسائل رہے۔ ڈاکٹر محی الدین نے پروگرام کے بنیادی مقاصد بیان کیے اور پھر پینلسٹ حضرات کو اپنی رائے پیش کرنے کی دعوت دی۔

 

اپنے افتتاحی خطاب میں پروفیسر نکہت نسرین، چیئرپرسن شعبہ تعلیم، نے شرکا کا خیرمقدم کیا اور قومی سطح کی پالیسی تبدیلیوں پر سنجیدہ بحث کی ضرورت پر زور دیا۔

 

گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے پروفیسر گنجن دوبے نے این ای پی 2020 کے تحت ملٹی پل انٹری ایگزٹ نظام کے عملی نفاذ میں درپیش چیلنجز خصوصاً ریکارڈ مینجمنٹ کے مسائل پر تشویش ظاہر کی۔ پروفیسر ساجد جمال نے این ای پی 2020 کے نظریاتی اور ساختی پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی تعلیمی پالیسیوں میں ”مساوات“ پر زور تھا جبکہ موجودہ اصلاحات ”معیار“ پر مرکوز ہیں، اور یہ کہ سماجی و سیاسی عوامل تعلیمی ڈھانچوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔

 

ڈاکٹر محمد شہیر صدیقی نے این سی ایف ایس ای 2023 کا تنقیدی جائزہ پیش کیا اور اس کے نظریاتی پس منظر اور عملی مضمرات پر روشنی ڈالی، جب کہ ڈاکٹر محمد حنیف احمد نے سماجی انصاف پر زور، ادارہ جاتی خود مختاری کی اہمیت اور اقلیتی و محروم طبقات کے لیے مالی امداد کی مسلسل ضرورت کا ذکر کیا۔

 

شعبہ انگریزی کے ڈاکٹر محمد دانش اقبال نے تعلیم میں بدلتے ہوئے تصورات اور ان ثقافتی تبدیلیوں پر گفتگو کی جو موجودہ علمی رویوں کو تشکیل دے رہی ہیں۔

 

سوال و جواب کے سیشن کے ساتھ پروگرام تکمیل کو پہنچا۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو میں ذیابیطس آگہی پروگرام منعقد

 

علی گڑھ، 29 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) اکائی نے دی ڈائیبیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون اور دی نوبل سپورٹ فاؤنڈیشن کی معاونت سے ”میری صحت، میرا سفر“ کے عنوان سے ذیابیطس آگہی اور کمیونٹی آؤٹ ریچ پروگرام منعقد کیا۔

 

اپنے کلیدی خطاب میں پروفیسر حامد اشرف، راجیو گاندھی سینٹر فار ڈائیبیٹس اینڈ اینڈوکرائنولوجی، اے ایم یو نے ذیابیطس کی روک تھام، بروقت تشخیص اور طویل مدتی دیکھ بھال پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے ہندوستان میں بڑھتے ہوئے ذیابیطس کے بوجھ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے طرزِ زندگی میں تبدیلی، مسلسل جانچ اور وسیع عوامی آگہی کی ضرورت پر زور دیا۔

 

این ایس ایس پروگرام کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد محسن خان اور پروگرام آفیسر ڈاکٹر منظور عالم صدیقی نے آگہی مہمات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں طلبہ میں بیداری پیدا کرتی ہیں۔

 

دی ڈائیبیٹس فاؤنڈیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے مدیحہ ہاشمی نے کمیونٹی ہیلتھ میں اپنے تجربات بیان کیے اور رضاکاروں پر زور دیا کہ وہ ذیابیطس اور اس کے خطرات کے بارے میں بیداری پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھیں۔

 

سیشن میں پروگرام آفیسرز محمد عمران خان اور نعیم احمد کے علاوہ بڑی تعداد میں طلبہ، رضاکاروں اور مقامی افراد نے شرکت کی۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو طالب علم کے تحقیقی مقالہ کی بین الاقوامی شہرت یافتہ جریدے میں اشاعت

 

علی گڑھ، 29 نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ ترسیل عامہ کے پی جی طالب علم نوید عالم کی تحقیق بعنوان ”رول آف اے آئی اِن ایڈیپٹیو اینڈ پرسنلائزڈ لینگویج لرننگ: ٹووارڈ حلال ٹرسٹ تھرو ڈیجیٹیل انّوویشن“، جرنل آف حلال سائنس، انڈسٹری اینڈ بزنس کے نومبر 2025 کے شمارے میں شائع ہوئی ہے جو حلال سائنس سنٹر، چولالونگکورن یونیورسٹی، تھائی لینڈ کا ایک معروف جریدہ ہے۔

 

نوید عالم اس مقالے کے بنیادی مصنف ہیں جبکہ شریک مصنفین میں پروفیسر تانیا حسین (واسیڈا یونیورسٹی، جاپان)، ڈاکٹر ریاض احمد (سی ڈی او ای، اے ایم یو) اور نبیلہ رحمٰن (شعبہ لسانیات، اے ایم یو) شامل ہیں۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے کارڈیالوجی شعبہ کے کیتھ لیب کے 10 برس مکمل، ایک دہائی پر محیط شاندار خدمات کا جشن

 

علی گڑھ، 29 نومبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ امراضِ قلب نے اپنی کیتھ لیب کے دسویں یوم تاسیس کا اہتمام کیا، جس میں میڈیکل کالج کے پرنسپل و سی ایم ایس پروفیسر ایس امجد علی رضوی شریک ہوئے۔ پروگرام میں شعبے کی دس سالہ خدمات، کارڈیالوجی کے شعبے کی نمایاں پیش رفت اور اس کی طبی، تحقیقی و کمیونٹی خدمات کو اجاگر کیا گیا۔

 

شعبہ کے چیئرمین پروفیسر آصف حسن نے گزشتہ تین برسوں کی اہم دستیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہر سال یہاں تقریباً2500 انٹروینشنل کیسیز کا اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی ایم کارڈیالوجی پروگرام کامیابی سے جاری ہے، جس میں ہر سال دو نشستیں رہتی ہیں، اور انہیں بڑھاکر پانچ کرنے کے لیے درخواست جمع کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ ڈی این بی نے انٹروینشنل کارڈیالوجی میں ایک سالہ پوسٹ ڈی ایم فیلوشپ کو منظوری دے دی ہے۔

 

پروفیسر حسن نے بتایا کہ شعبے نے مِڈ ٹرم یو پی سی ایس آئی کانفرنس لکھنؤ میں کامیابی سے منعقد کی جسے وسیع پذیرائی ملی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جے این ایم سی کارڈیئک سینٹر کو اسٹیمی ہرِدے سیتو پروگرام کے لئے مرکزی ہب کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، جو علی گڑھ کے اطراف کے سات اضلاع کا احاطہ کرتا ہے۔ ان اضلاع کے طبی عملے کو ای سی جی میں تبدیلیوں کی شناخت اور بروقت ریفرل کے لیے تربیت فراہم کی گئی ہے۔

 

آیوشمان بھارت اسکیم کے مثالی نفاذ کے لیے شعبہ دیگر اداروں کے لیے ایک ماڈل بن چکا ہے۔ یہ متعدد بین الاقوامی تحقیقی منصوبوں میں بھی شامل ہے۔ فی الوقت کیتھ لیب چوبیسوں گھنٹے فعال رہتا ہے، جس سے سی سی یو پر دباؤ کم ہوا ہے اور مریضوں کو جلد ڈسچارج کرنا ممکن ہوا ہے۔ تاہم، شعبے کو اب بھی دوسری کیتھ لیب کی تنصیب، نئے سی سی یو /اسٹیپ ڈاؤن وارڈ اور پیچیدہ طبی عمل کے لیے اعلیٰ معیار کے امیجنگ کیتھیٹرز کی خریداری کے لیے فنڈ کی ضرورت ہے۔

 

تقریب میں شریک سینئر فیکلٹی ممبران میں پروفیسر ابرار، پروفیسر ایم آر اجمل، پروفیسر قاضی احسان، پروفیسر شگفتہ معین اور پروفیسر معین الدین شامل تھے۔ پروفیسر ملک کو آیوشمان بھارت میں نمایاں خدمات ادا کرنے پر خصوصی اعزاز سے نوازا گیا۔ پروفیسر شاد عبقری اور ڈاکٹر شیاملے کو یادگاری نشان پیش کیے گئے، جبکہ عباس اصغر، فردوس اور طلعت کو بہترین ملازم کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

 

اپنی اختتامی گفتگو میں پروفیسر حسن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شعبے کو مستقبل میں کم لاگت اور اعلیٰ معیار کی طبی خدمات کے حامل ایک سرکردہ ریفرل سینٹر کی شکل میں مزید ترقی دی جائے گی۔

 

ٌئئئئئئئئ٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے شعبہ سنّی دینیات میں ریسرچ اسکالرز کا پندرہ روزہ مقالہ خوانی پروگرام منعقد

 

علی گڑھ، 29 نومبر: شعبہ سنی دینیات،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ریسرچ اسکالر ز کی جانب سے پندرہ روزہ مقالہ خوانی پروگرام منعقد کیا گیا، جس کی صدارت شعبہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمن نے کی۔

 

پروگرام میں ریسرچ اسکالر محمد احمد محمد صغیر غریر نے اپنا مقالہ بعنوان ”منھج السلف فی تفسیر القرآن الکریم فی ضوء تفسیر الصحابۃ: دراسۃ فی المصادر والاھمیۃ“ بزبان عربی پیش کیا جس میں انہوں نے تفسیر قرآن کے تعلق سے منہج سلف،منہج صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر سیر حاصل گفتگو کی۔ اسی طرح دوسری ریسرچ اسکالر امتل رحمن نے ”سیرت النبیؐ کی روشنی میں مثالی معاشرہ کی تشکیل“ کے عنوان پر مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جو عدل و انصاف اور مساوات کی اعلیٰ ترین مثال پیش کرتا ہے۔

 

صدر شعبہ پروفیسر محمد راشد نے اپنے خصوصی خطاب میں تمام ریسرچ اسکالر زکو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ مقالہ نگار محمد احمد محمد صغیر غریر نے تفسیر قرآن میں صحابہ کرام کے منہج کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔تفسیر کو سمجھنے کے لئے عربی زبان سے واقف ہونا ضروری ہے اس لئے کہ وہی اصل مصدر ہے کیوں کہ قرآن کریم عربی زبان کے اندر نازل ہوا۔اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام ہی قرآن کریم کو سمجھنے کا اصل منبع و ملجا ہیں۔

 

صدر مجلس ڈاکٹر حبیب الرحمن نے کہا کہ دونوں مقالہ نگاران نے نہایت عمدہ اور باوقار انداز میں اپنے اپنے مقالہ جات پیش کئے۔

 

پروگرام کی نظامت ریسرچ ایسوسی ایشن کے کنوینر زاہد علی نے انجام دی جب کہ اجلاس کا آغاز محمد انس کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اس موقع پر ڈاکٹر ندیم اشرف،ڈاکٹر ریحان اختر،ڈاکٹر محمد عاصم کے علاوہ کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات شریک رہے۔

Comments are closed.