حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی انتہائی خطرناک : مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
دارالعلوم سبیل الفلاح جالے میں عظیم الشان تکمیلِ حفظِ قرآن کی تقریب، صدر مسلم پرسنل لاء بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا خصوصی خطاب
حکومتی ایجوکیشن پالیسی کو ’’زہر آلود‘‘ اور ’’خطرناک‘‘ قرار دیا
جالے (مظفراحسنرحمانی)
ملک کے موجودہ حالات کے پس منظر میں اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی نئی ایجوکیشن پالیسی کو نہایت خطرناک اور زہر آلود قرار دیتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ یہ وقت انتہائی بیداری اور منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے۔ وہ دارالعلوم سبیل الفلاح جالے میں منعقد عظیم الشان تقریبِ تکمیلِ حفظ قرآن کریم سے خطاب کر رہے تھے۔
مولانا رحمانی نے کہا کہ ہر گاؤں، ہر محلے اور ہر ٹولے میں منصوبہ بندی کے ساتھ مکاتب کا قیام ناگزیر ہے، تاکہ بچے ضروری دینی معلومات حاصل کرکے الحاد کے بڑھتے ماحول میں اپنے ایمان کی حفاظت کرسکیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ دور میں مکاتب کے ساتھ ایسے انگلش میڈیم اسکولوں کی بھی سخت ضرورت ہے، جن میں تجوید کے ساتھ قرآنِ کریم، نماز، روزہ، حج و زکوٰۃ اور عقائد کی بنیادی کتاب لازماً زیرِ نصاب ہو، تاکہ بچوں میں دینی شعور اور اپنے عقیدے کی حفاظت کی صلاحیت پیدا ہو۔

مرزا قاری نصیر احمد بیگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن اپنی عظمت کے ساتھ باقی ہے اور ہمیشہ باقی رہے گا۔ انہوں نے دارالعلوم سبیل الفلاح کو علاقے کے لئے عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے کم وقت میں ایسا دینی انقلاب برپا کیا کہ اب ہر گھر میں تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنے کا ماحول بن چکا ہے۔
تعارفی خطاب میں مولانا محمد عفان قاسمی نے کہا کہ ایک وقت تھا جب علاقے میں حفاظ کی تعداد بہت کم تھی اور تراویح کے لئے باہر سے حفاظ بلانے پڑتے تھے، مگر اس ادارے کی برکت سے آج بڑی تعداد میں مقامی حفاظ موجود ہیں۔
مفتی عامر مظہری نے سالانہ تعلیمی رپورٹ پیش کی۔
مولانا محمد عباس قاسمی نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ اس سال مجموعی طور پر 14 طلبہ نے حفظِ قرآن مکمل کیا۔ اس خوشی میں ادارے کے بانی و ناظم اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے انعامات سے نوازا۔

اس موقع پر مولانا مظفر احسن رحمانی، معتمد رابطہ عامہ دارالعلوم سبیل الفلاح نے اعلان کیا کہ ادارے نے مولانا اشفاق مظاہری اور مولانا محمد عفان قاسمی کو ’’نشانِ اعتراف ایوارڈ‘‘ دیا ہے۔ ایوارڈ کی تقسیم مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے دستِ مبارک سے ہوئی۔
مولانا اشفاق مظاہری کے متعلق بتایا گیا کہ وہ ابتدا سے چہارم عربی تک اسی ادارے میں تعلیم حاصل اور اعلی تعلیم کے لئے ہندوستان کے معروف دینی درسگاہ مظاہر علوم سہارنپور کا رخ کیا اور اپنی تعلیم مکمل کیا ۔ انہوں نے نورانی قاعدہ ، جو اس ادارے کی شناخت ہے کو پوری قوت سے آگے بڑھایا۔ اس خدمت کے اعتراف میں انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا۔
اسی طرح مولانا محمد عفان قاسمی کو بھی نمایاں خدمات پر ’’نشانِ اعتراف‘‘ پیش کیا گیا۔
پروگرام کا آغاز حافظ عاقل کی تلاوتِ قرآن سے ہوا۔ نعتیہ کلام سیف اللہ خالد پٹھریا، عبدالرحمن جھارکھنڈ، عبداللہ ماجد جالے، زہرا فاطمہ، ثنا اور شبنم نے پیش کیا۔
تقریری مسابقے میں محمد رضوان مدھوبنی، محمد عاصم شریف پور، ظل الرحمن برار، طالب الرحمن جھارکھنڈ، وقاص انجم بھاگلپور نے حصہ لیا۔
اردو ادب کی بقا کے لئے ’’بیت بازی‘‘ کا بھی دلکش پروگرام رکھا گیا، جس میں طلبہ نے کلیم عاجز، علامہ اقبال، میر تقی میر، سودا اور غالب کے اشعار پیش کیے۔
نماز کی پابندی پر صبغت اللہ اور عبدالرشید کو خصوصی ایوارڈ دیا گیا، جبکہ حافظ عبدالرشید کو ’’مثالی طالب علم (بیسٹ اسٹوڈنٹ ایوارڈ)‘‘ سے نوازا گیا۔
تقریب میں سعید عالم (العالم)، پروفیسر بدر عالم پرنسپل قاضی احمد ڈگری کالج جالے، سماجی کارکن محمد عامر، کانگریسی رہنما صادق آرزو، حافظ محمد سفیان، گلریز خان، مولانا صفات احمد، محمد نشاط، کلیم اللہ سیفی، اسعد اعظمی، حافظ نوید احسن، مولانا زاہد سبیلی، حافظ محمد عمران ریوڑھا، مولانا عبدالجبار ندوی، ماسٹر محمد سمیر (استاد شاہین گروپ)، قاری غفران سمیت متعدد سیاسی، سماجی اور علمی شخصیات موجود رہیں۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی دعا پر تقریب اختتام پذیر ہوا
Comments are closed.