سیاسی قیادت،وقت کی اہم ضرورت
ڈاکٹر نعمت اللہ محمد ناظم
بہار اسمبلی انتخابات کا مرحلہ آخر کار گذر ہی گیا،سیکولر طاقتوں کو یقین کامل تھا کہ اس بار عوام ان کے حق میں قیادت کی تبدیلی چاہ رہی ہے،ووٹنگ میں جوش و خروش اور ووٹ ڈالنے میں اضافی تناسب کو اسی عینک سے دیکھا جارہا تھا،مگر نتائج سبھوں کو چونکا دینے والے آئے،سیکولر پارٹیوں کا متحدہ محاذ 243والی اسمبلی میں صرف 31 پر سمٹ گیا،ظاہر ہے یہ پارٹیاں اپنی اس بد ترین شکست کے اسباب اور اس کے عوامل پر غورو خوض کریں گی،اور مستقبل کے لئے لائحہ عمل بنائیں گی۔
سرکاری اعداد و شمارکے مطابق بہار میں مسلمانوں کی تعداد سترہ فیصد ہے،جس کے لحاظ سے مسلمانوں کی آبادی تقریبا 23ملین ہوتی ہے،مسلمانوں کی اتنی بڑی آبادی سیکولر شبیہ والی سیاسی پارٹیوں کو ہی ا پنا سیاسی قائد مانتے چلے آرہی ہے،جن میں لالو پرشاد کی آرجے ڈی،نتیش کمار کی جدیو اور کانگریس پارٹی خاص طور پر قابل ذکر ہیں،یہ پارٹیاں اپنے مفاد کے خاطر حلقوں اورنمائندوں کا انتخاب کرتی ہیں اور پھر انتخابی عمل میں اترتی ہیں،انتخاب کا یہ پورا عمل ان ہی سیاسی پارٹیوں کے قائدین کے درمیان گھومتار ہتا ہے،یہ پارٹیاں بعض دفعہ جانے انجانے میں ایسے فیصلے بھی لیتی ہیں جن کو اگر سیاسی خودکشی سے تعبیر کیا جائے تو شاید بے جا نہ ہو،اب حالیہ الیکشن میں ہی ان گیارہ سیٹوں کی بات کریں جن پر سیکولر محاذ نے دوستانہ کرکٹ میچ کی طرح سیاسی پچ پر دوستانہ انتخابی مقابلہ کیا،اور اس کا خمیازہ بدترین شکست کی شکل میں بھگتنا پڑا،ظاہر ہے اپنی حیثیت سے زیادہ کا دعوی اور زمینی حقائق سے منھ چھپا کر جب کوئی فیصلہ لیا جائے تو اس طرح کا نتیجہ سامنے آنا خلاف توقع نہیں ہے۔
انتخاب کے اس پورے مرحلہ میں اگر آپ بحیثیت قوم مسلمانوں کے سیاسی شعور کا اندازہ لگانا چاہیں تو بہ آسانی لگاسکتے ہیں،اور اس کی واضح مثال بہار اسمبلی میں مسلم ممبران کا گرتا ہوا گراف ہے،جو اب تک کی سب سے کمتر تعداد پر پہونچ گیا ہے،ظاہر ہے اس تنزلی کے اسباب پر مختلف ناحیتوں سے غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے،ایک زندہ قوم کی حیثیت سے ہمیں اس موضوع کا اس ناحیہ سے بھی جائزہ لینا چاہیئے کہ اس تنزلی میں ہماری کس کمی اور کوتاہی کا دخل ہے،ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ہماری کیا ذمہ داریاں تھین جن کو ادا کرنے سے ہم قاصر رہے، کیوں کہ اگر ہم نے اس جانب توجہ نہیں دی اور صرف سیاسی پارٹیوں کے رحم و کرم پر جیتے رہے تو پھر وہ وقت دور نہیں جب صوبہ کے سترہ فیصد مسلمان صرف اور صرف ووٹ دینے والے اور بے دست وپا ہوکر رہ جائیں گے۔
صورت حال اتنی دگرگوں ہے کہ مسلم معاشرہ ابھی تک سیاست کو دین سے الگ ایک شجر ممنوعہ سمجھتا ہے، مسلم قیادت انتخاب کے موقع پر صرف گول مول بیان بازی کر کے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جاتی ہے،نہ کوئی راہ عمل اور نہ کوئی روڈمیپ،آزادی کے بعد مسلم قیادت نے صرف دینی مدارس و مکاتب کے قیام کو ہی مسلم معاشرہ کے لئے ضروری سمجھا، جب کہ سیاسی شعور کی بیداری اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے جدد جہد جہاں مسلم قوم کے لئے انتہائی ضروری ہے وہیں یہ ملک کے فلاح و سالمیت کے لئے بھی انتہائی ضروری امر ہے، کیوں کہ اسی سے ملک کی دوسری بڑی اکثریت کے حقوق کو تحفظ حاصل ہوگا اور اس سے یقینا ملک کی جمہوریت مضبوط و مستحکم ہوگی، مگر افسوس کہ ہم سیاسی طورپر اتنے بے وزن ہوگئے ہیں کہ ہمیں اپنی حیثیت کا خود ہی کوئی اندازہ نہیں ہے۔
آج مسئلہ صرف مسلم قیادت کا نہیں بلکہ ملک کے سلامتی اور ترقی کا ہے جو قوتیں ہندتو اور فاشزم کو بنیاد بنا کر اپنی روٹی سیکنے میں لگی ہیں وہ ملک کے لئے کبھی بھی مخلص نہیں ہوسکتیں وہ موقع ملتے ہی اپنی گھٹی میں پیوست طبقاتی نظام کی بنیاد پر جہاں دلتوں اور نیچی ذات کے لوگوں کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بتاتے ہیں اور بناتے رہیں گے ،وہیں اسلام دشمنی میں اندھے ہوئے ان ظالموں کو مسلمانوں کو ہر طرح سے پریشان کرنے میں ہی انہیں اپنی کامیابی نظر آتی ہے۔
ان حالات کامقابلہ کرنے اور ملک میں جمہوریت اور قانون کی بالادستی کو قائم رکھنے کے لئے مسلم قیادت کو کمر کسنا ہوگا،مسلم دانشوران کی ذمہ داری ہے کہ کم از کم ہر صوبہ کی سطح پر ایک ایسا سیاسی پریشر گروپ تیار کیا جائے جس میں سیاسی، سماجی اور مذہبی دانشوران ہوں اور صوبہ کے اسمبلی و پارلیمانی حلقہ جات کی تمام باریک سے باریک تفاصیل اور ان کا ڈاٹا جمع کیا جائے، مسلم معاشرہ میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے لئے وقتا فوقتا تربیتی کیمپ منعقد کئے جائیں، الیکشن کے موقع پر سیکولر پارٹیوں کو مفید مشورے دیے جائیں اور سیکولر ووٹوں کو منتشر ہونے سے بچانے کے لئے ان کے ساتھ مل کر کوئی قدم اٹھایا جائے اور یہ سب اس نیت کے ساتھ کیا جائے کہ جمہوریت کی حفاظت اور سیکولر فورسز کی مضبوطی ملک کے مفاد میں ضروری ہے، اگر ہم نے اس جذبے کے ساتھ کوئی تحریک شروع کی تو یقین اس میں برادران وطن کا تعاون بھی ہمیں پورا ملے گا اور پھر یہ کاروان آگے بڑھتا چلا جائے گا۔
مسئلہ کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ سیکولرپارٹیاں، جن طبقوں کو آج تک اپنا ووٹ بینک خیال کرتی تھیں، آج ان پر ہندو توا کا اثر سرچڑھ کر بول رہا ہے، یہ یقیناً ان پارٹیوں کے لئے غور و فکر کا مقام ہے کہ فاسشت قوتوں کا مقابلہ اور ہند توا کے زہر کا تریاق کس طرح کر پاتے ہیں؟ ظاہر ہے اس کے لئے زمینی سطح پر انتھک کوشش کے ضرورت ہے مگر افسوس ہے کہ یہ پارٹیاں زمینی سطح پر محنت کے بجائے فضائی سروس اور ہیلی کاپٹرسے اُڑ کر آنے والے دس منٹ کے قائدین کی جذباتی تقریروں سے اپنے حق میں تبدیلی کی امید باندھ لیتے ہیں۔
کاش قوم کے دانشوران کو اپنی سیاسی بے وزنی کا احساس ہو ، تاکہ ملک کی فلاح وترقی اور مسلم قوم کی سیاسی نمائندگی کو مضبوط بنانے کے لئے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے روشن مستقبل کے لئے کوئی مضبوط ومستحکم لائخہ عمل تیار کرسکیں۔
Comments are closed.