سنچار ساتھی ایپ: ڈیجیٹل تحفظ کی طرف قدم یا نگرانی کا نیا دروازہ

محمد رفیع ساگر
ملک میں ڈیجیٹل خدمات جس تیزی سے پھیل رہی ہیں، اسی رفتار سے نگرانی اور ڈیٹا کنٹرول کے نظام بھی وسیع ہو رہے ہیں۔ حکومت نے سنچار ساتھی ایپ کو ایک ایسے ٹول کے طور پر پیش کیا ہے جس کی مدد سے شہری اپنے نام پر جاری سم کارڈ کی تفصیل جان سکتے ہیں، گم شدہ موبائل ٹریس کر سکتے ہیں اور فرضی یا مشکوک نمبروں کی اطلاع دے سکتے ہیں۔ سرکاری مؤقف یہ ہے کہ ایک ایسے دور میں جب آن لائن فراڈ، شناختی چوری اور سائبر جرائم خطرناک رفتار سے بڑھ رہے ہوں شہریوں کو ایک ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جو انہیں تحفظ فراہم کر سکے۔ لیکن اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ ایپ واقعی تحفظ کا ذریعہ بنے گی یا پھر شہری آزادی، نجی زندگی اور رازداری پر ایک نئے دباؤ کا سبب بنے گی۔
دنیا میں ڈیجیٹل نگرانی پر تشویش کوئی نئی بات نہیں۔ عالمی رپورٹوں کے مطابق دنیا کے 72 فیصد ممالک اپنے شہریوں کے ڈیجیٹل رویوں پر کسی نہ کسی درجے میں نظر رکھتے ہیں اور تقریباً 40 فیصد صارفین کو یہ خوف رہتا ہے کہ حکومت یا نجی کمپنیاں ان کے ڈیٹا کا غلط استعمال کر سکتی ہیں۔ بھارت میں بھی یہ بے اعتمادی آہستہ آہستہ ایک بڑی بحث کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ انفراسٹرکچر تو ضرور بڑھا ہے، ڈیجیٹل سہولتیں زندگی کا لازمی جزو بن چکی ہے مگر پرائیویسی اور ڈیٹا تحفظ کے قوانین ابھی تک اس رفتار سے نہیں بڑھے جس رفتار سے ٹیکنالوجی شہریوں کی روزمرہ زندگی میں داخل ہوئی ہے۔
سنچار ساتھی ایپ کے ذریعے صارف یہ دیکھ سکتا ہے کہ اس کے نام پر کتنے سم کارڈ جاری ہیں۔ یہ سہولت یقیناً اہم ہے کیوں کہ فرضی سم کارڈ اکثر فراڈ، ٹھگی، فشنگ اور جرائم میں استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح گم شدہ موبائل کی ٹریکنگ اور مشکوک نمبروں کی شکایت جیسی خصوصیات بھی بظاہر صارف دوست محسوس ہوتی ہیں۔ لیکن سوال یہیں پیدا ہوتا ہے کہ یہ سارا ڈیٹا کس سطح پر محفوظ رہے گا، کون اسے دیکھے گا، کس ادارے کے پاس کن حالات میں رسائی ہو گی، ڈیٹا کو کب تک ذخیرہ کیا جائے گا اور سب سے اہم یہ کہ عام شہری کو اس سب کی اصل خبر بھی ہوگی یا نہیں۔ وہ ملک جہاں پرائیویسی پالیسیوں کی بنیادیں ابھی مکمل طور پر مضبوط نہ ہوئی ہوں، وہاں ایک ایسا مرکزی پلیٹ فارم جس کے ذریعے لوگوں کی شناخت، لوکیشن، کال لاگ اور موبائل سرگرمیوں کا وسیع ڈیٹا جمع ہو سکے، تشویش کو جنم دیتا ہے۔
بھارت میں سائبر فراڈ کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ خوف مزید بڑھ جاتا ہے۔ صرف 2022 میں ملک میں ایک لاکھ انتالیس ہزار سائبر فراڈ کے واقعات درج ہوئے جو پچھلے سال کی نسبت چوبیس فیصد زیادہ تھے۔ 2023 میں یہ تعداد بڑھ کر ستاسی ہزار سے بھی تجاوز کر گئی اور ان میں سب سے زیادہ واقعات براہ راست مالی دھوکہ دہی اور آن لائن فراڈ سے متعلق تھے۔ 2024 میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی جب ملک بھر میں مالی فراڈ کی رپورٹیں چھتیس لاکھ سے بھی زیادہ ہو گئیں اور شہریوں کو تقریباً بائیس ہزار آٹھ سو پینتالیس کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ سائبر جرائم محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں رہے بلکہ یہ اب ایک معاشی، سماجی اور سلامتی کا مسئلہ بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کا یہ کہنا کہ سنچار ساتھی ایپ عوام کو ٹھگوں کے جال سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے، ایک حد تک درست دکھائی دیتا ہے۔
لیکن اس تمام صورت حال میں ایک پہلو ایسا ہے جو اکثر بحث سے باہر رہ جاتا ہے۔ وہ یہ کہ عام شہری ڈیجیٹل خواندگی کے جس نچلے درجے پر کھڑا ہے وہ نہ تو یہ سمجھ پاتا ہے کہ وہ کون سی معلومات شیئر کر رہا ہے، نہ اسے علم ہوتا ہے کہ سرکاری ایپس میں اس کا ڈیٹا کہاں محفوظ ہو رہا ہے کس مقصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور مستقبل میں اس کا کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ عالمی رپورٹوں کے مطابق دنیا کے ستاون فیصد موبائل صارفین اس بات سے بے خبر رہتے ہیں کہ ان کا فون مسلسل کس قسم کا ڈیٹا جمع کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی طاقتور حکومتی ایپ کا وجود خطرے کو بڑھا دیتا ہے، کیوں کہ شہری یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ ان کی نجی زندگی کہاں تک افشا ہو رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اس ایپ پر شدید اعتراض کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب نگرانی کے نظام ایک بار مضبوط ہو جائیں تو پھر انہیں کم کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ دنیا کے چودہ سے زیادہ ایسے ممالک کی مثالیں موجود ہیں جہاں نگرانی ابتدا میں ’عارضی‘ بنیادوں پر نافذ ہوئی لیکن بعد میں وہ عوامی زندگی کی ہر پرت تک رسائی حاصل کر گئی۔ بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں جہاں سیاسی اختلاف اور اظہارِ رائے پہلے ہی کئی دباؤ کا شکار ہیں، ایک ایسا مرکزی ڈیٹا پلیٹ فارم جس میں شہریوں کی نجی زندگی کی باریک ترین معلومات جمع ہو سکیں، مستقبل میں کسی بھی حکومت کو حد سے زیادہ طاقت فراہم کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر رازداری کی حدود متعین نہ ہوں تو وقت کے ساتھ ساتھ حکومت کے پاس شہریوں کی روزمرہ زندگی، عادتوں، روابط، مالی سرگرمیوں اور سماجی رویوں تک بے حد حساس معلومات جمع ہو جائیں گی۔
یہ خدشات محض نظری نہیں بلکہ عملی نوعیت کے ہیں۔ اگر اس ایپ کو مستقبل میں بینکنگ ریکارڈ، ڈیجیٹل شناخت، لوکیشن ہسٹری یا کال ریکارڈ جیسی معلومات کے ساتھ جوڑ دیا گیا تو نجی زندگی کا دائرہ مزید تنگ ہوتا جائے گا۔ بھارت چونکہ ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ترقی اور آزادی کے درمیان وہ توازن قائم رکھا جائے جو شہریوں کو محفوظ بھی رکھے اور آزاد بھی۔ یورپی یونین جیسے خطوں نے مضبوط ڈیٹا پروٹیکشن قوانین نافذ کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ ترقی کا راستہ شہری آزادی کے احترام سے ہو کر بھی گزرتا ہے۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم کردار شہری کا ہے۔ ماہرین بار بار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بیداری سب سے ضروری شرط ہے۔ جب تک شہری اپنے ڈیجیٹل حقوق، اپنے ڈیٹا کی حساسیت اور آن لائن خطرات کو نہیں سمجھیں گے، تب تک کوئی بھی قانون یا ٹیکنالوجی انہیں مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکتی۔ اسی کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی شفافیت، احتساب اور مضبوط قانون سازی کے ذریعے یہ اعتماد دینا ہو گا کہ شہریوں کا ڈیٹا صرف اور صرف ان کی سکیورٹی کیلئے استعمال ہوگا نہ کہ نگرانی یا سیاسی مقاصد کے لیے۔ میڈیا کا کردار بھی اس مقام پر بے حد اہم ہو جاتا ہے، کیوں کہ یہی وہ ذریعہ ہے جو حقیقت اور خطرات دونوں کو عوام تک پابندی کے ساتھ پہنچا سکتا ہے۔
آخرکار بات پھر وہیں آ جاتی ہے کہ ڈیجیٹل مستقبل کا راستہ صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اعتماد سے بھی ہو کر گزرتا ہے۔ اگر قوانین واضح ہوں، نگرانی کی حدود سختی سے متعین ہوں، غیر ضروری ڈیٹا جمع نہ کیا جائے اور شہریوں کو یہ گارنٹی دی جائے کہ ان کی پرائیویسی ریاستی طاقت کے ہاتھوں کمزور نہیں پڑے گی، تو یہ ممکن ہے کہ سکیورٹی بھی مضبوط ہو اور آزادی بھی محفوظ رہے۔ لیکن اگر یہ توازن قائم نہ رہ سکا تو ایک چھوٹی سی ایپ مستقبل میں ایک بڑے نگرانی نظام کا دروازہ کھول سکتی ہے جسے بند کرنا پھر شاید کسی کے اختیار میں نہ رہے۔

Comments are closed.