قابض اسرائیلی آبادکاروں کی غنڈہ گردی جاری، پانی کی لائنیں کاٹیں، گاڑیاں جلائیں، زیتون کے باغ اجاڑ دیے

بصیرت نیوزڈیسک
قابض اسرائیلی آبادکاروں نے جمعہ کو مقبوضہ غرب اردن کے مختلف علاقوں میں ایک نئی لہر کی شکل میں اپنے منظم اور ریاستی سرپرستی میں جاری حملوں کو دوہرایا جن کا نشانہ فلسطینی شہریوں کی املاک اور ان کی زرعی زمینیں بنیں۔ یہ حملے اس تسلسل کا حصہ ہیں جو قابض اسرائیلی فوج کی مکمل حفاظت میں روزانہ کی بنیاد پر دہرائے جا رہے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق وادی اردن کے شمالی حصے میں آبادکاروں کے ایک گروہ نے خربہ الدیر میں پانی کی سپلائی کاٹ دی۔ انسانی حقوق کے معروف کارکن عارف دراغمہ نے بتایا کہ آبادکاروں نے شہری عمار جهاد دراغمہ کی پانی کی کھینچائی والی لائنیں کاٹ کر تباہ کر دیں۔ یہ اقدام علاقے کے فلسطینی باشندوں کو ان کے قدرتی وسائل سے محروم کرنے اور بالآخر انہیں جبراً بے دخل کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔

اسی سلسلے میں مشرقی رام اللہ کی بستی الطیبہ میں آبادکاروں نے فجر کے وقت دو گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا اور جاتے ہوئے نسل پرستانہ نعرے لکھ چھوڑے۔ یہ مناظر اس بات کی کھلی گواہی دیتے ہیں کہ فلسطینی دیہات کے خلاف آبادکاروں کی منظم دہشت گردانہ کارروائیاں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔

رام اللہ کی مقبوضہ گورنری کے دیگر علاقوں میں بھی یہی صورتحال رہی جہاں ترمسعیا کے زرعی میدانوں میں قابض اسرائیلی اور آبادکاروں کی مشینری نے درجنوں زیتون کے درخت اکھاڑ پھینکے۔ زیتون کے یہ باغات نہ صرف فلسطینی کسانوں کی روزی روٹی کا بنیادی ذریعہ ہیں بلکہ اس سرزمین سے ان کے اٹوٹ تعلق کی علامت بھی ہیں جنہیں مٹانے کی ایک بڑی استعماری کوشش جاری ہے۔

ایک اور اشتعال انگیز کارروائی میں آج صبح مقامی باشندوں نے دیکھا کہ ایک آبادکار نے شلال العوجہ کے علاقے میں ایک فلسطینی شہری کی باڑ کے ساتھ جان بوجھ کر ایک گدھا باندھ دیا۔ مقامی آبادی نے اسے کھلی اشتعال انگیزی اور خوف پھیلانے کی سازش قرار دیا۔

اس کے علاوہ آبادکاروں کا ایک گروہ مشرقی رام اللہ کے علاقے جسر الخلہ میں جمع ہوا اور اپنی موجودگی سے مقامی شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی۔

یہ تمام واقعات اس حقیقت کو پھر نمایاں کرتے ہیں کہ قابض اسرائیلی فوج کی مکمل سرپرستی میں آبادکار گروہ منصوبہ بند انداز میں فلسطینی دیہات، کھیتوں اور زراعت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا مقصد فلسطینی وجود کو کمزور کرنا اور زمینوں پر اپنے ناجائز قبضے کو مزید وسعت دینا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم البيدر نے کہا کہ یہ حملے طویل عرصے سے جاری منظم اذیت ناک پالیسی کا حصہ ہیں۔ تنظیم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر مداخلت کر کے ان خطرناک اقدامات کو روکے جو فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی، ان کی سلامتی اور ان کے وجود کو براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں۔

Comments are closed.