مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

 

اے ایم یو کے 10 طلبہ کا پلیسمنٹ

 

علی گڑھ، 6 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے دس طلبہ کو ایکسینچر نے ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ آفس (جنرل)؛ ٹی پی او،ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی؛ شعبہ کمپیوٹر سائنس اور شعبہ شماریات و آپریشنس ریسرچ کے اشتراک سے منعقدہ پلیسمنٹ مہم کے توسط سے منتخب کیا ہے۔

 

ایکسینچر، کنسلٹنگ، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، ٹکنالوجی سروسز اور آؤٹ سورسنگ کے میدان کی سرفہرست کمپنیوں میں شامل ہے۔ کمپنی نے اے ایم یو کے دس طلبہ کو ایسوسی ایٹ سافٹ ویئر انجینئر اور ایڈوانسڈ ایسوسی ایٹ سافٹ ویئر انجینئر کے عہدے کے لیے منتخب کیا۔

 

ٹریننگ و پلیسمنٹ آفیسر (جنرل) مسٹر سعد حمید نے بتایا کہ منتخب طلبہ میں مشرف عبداللہ، حذیفہ صغیر خان، محمد عمار، آیوشی گپتا، ورتیکا راوت، محمد جمال مسنون (سبھی بی ٹیک)، ہاجرہ محمد شاہد (ایم ایس سی ڈیٹا سائنس)، محمد رمیز خان، مانسی سکسینہ اور شبھم کمار سنگھ (سبھی ایم سی اے) شامل ہیں۔ انھوں نے سبھی طلبہ کو مبارکباد پیش کی۔

 

٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے ڈاکٹر میوریش کمار نے او ای سی ڈی گلوبل فورم میں مرکزی وزیر مالیات کے خطاب کی ترجمانی کی

 

علی گڑھ، 6 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ غیر ملکی زبانوں کے ہسپانوی زبان کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر میوریش کمار نے 2 تا 4 دسمبر 2025 کو نئی دہلی میں منعقدہ 18ویں پلینری میٹنگ آف گلوبل فورم آن ٹرانسپیرنسی اینڈ ایکسچینج آف انفارمیشن فار ٹیکس پرپزیز میں کانفرنس انٹرپریٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ہندوستان کی میزبانی میں اور او ای سی ڈی گلوبل فورم کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی اس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں 170 سے زائد ممالک کے وزراء، ٹیکس افسران اور سینئر حکام نے شرکت کی۔

 

پلینری اجلاس کا افتتاح مرکزی وزیر مالیات و کارپوریٹ امور محترمہ نرملا سیتا رمن نے کیا، جنہوں نے منصفانہ اور ذمہ دارانہ اقتصادی نظم و نسق کے لیے ٹیکس شفافیت کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر انڈورا، مونٹی نیگرو، ہنگری، کویت، کیمین آئی لینڈز، سلوواک جمہوریہ، پناما اور زمبابوے سمیت متعدد ممالک کے وزرائے مالیات بھی موجود تھے۔

 

٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے شعبہ فائن آرٹس میں ریسرچ میتھڈولوجی پر خصوصی لیکچر

 

علی گڑھ، 6 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ فائن آرٹس میں ”ریسرچ میتھڈولوجی، تحقیقی عمل کی آسان رہنمائی“ کے عنوان پر شعبہ کے سابق طالب علم اور فری لانس آرٹسٹ ڈاکٹر انوج کمار سنگھ راٹھور نے لیکچر دیا۔

 

انھوں نے ریسرچ میتھڈولوجی کا ایک واضح اور منظم خاکہ پیش کیا، جو پینٹنگ، مجسمہ سازی اور ڈیجیٹل آرٹ جیسے تخلیقی شعبوں کے لیے خصوصی طور پر ترتیب دیا گیا تھا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ منہج کی درستگی نہ صرف فن پاروں کے معیار کو بہتر بناتی ہے بلکہ تخیلاتی گہرائی میں اضافہ کرتی ہے اور تخلیقی تحقیق کے لیے ایک مضبوط تعلیمی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ سیشن میں تحقیقی سوالات کی تیاری، مناسب فریم ورک کے انتخاب، اور فنکارانہ عمل کی مؤثر دستاویز بندی سے متعلق عملی رہنمائی شامل تھی۔ ڈاکٹر راٹھور نے تحقیق پر مبنی تخلیقی عمل کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی شناخت کا ذکر کرتے ہوئے فنکاروں کو تحقیق پر مبنی طریق ہائے عمل اپنانے کی ترغیب دی۔ لیکچر کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہوا۔ اسکالرز نے پریکٹس بیسڈ ریسرچ میں درپیش منہجی چیلنجوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

 

اس موقع پر شعبہ کے چیئرمین ڈاکٹر عابد ہادی نے کہا کہ اس طرح کے علمی پروگرام فائن آرٹس کی تعلیم میں تحقیقی فریم ورک کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

 

٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو میں کوانٹم فوٹونکس لیبارٹری کا افتتاح، شعبہ طبیعیات کی تاریخ میں نیا سنگ میل

 

علی گڑھ، 6 دسمبر: ہندوستان کے سائنسی تحقیقی نظام کے استحکام کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ طبیعیات میں جدید ترین کوانٹم فوٹونکس لیبارٹری کا افتتاح ایچ این بی گڑھوال یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور سابق ڈین فیکلٹی آف سائنس پروفیسر ایس کے سنگھ نے کیا۔ یہ تاریخی پیش رفت اے ایم یو کو اُن چند منتخب اداروں میں شامل کرتی ہے جو ملک میں اس نوعیت کی اعلیٰ درجے کی کوانٹم تحقیق کی صلاحیت رکھتے ہیں۔افتتاحی تقریب میں شعبہ طبیعیات کے چیئرمین پروفیسر محمد سجاد اطہر، پروفیسر ایس ایس زیڈ اشرف اور پروفیسر وصی خان سمیت متعدد سینئر اساتذہ موجود تھے۔

 

پروفیسر سنگھ نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ سہولت ہندوستان کے سائنسی منظرنامے میں ایک انقلابی اضافہ ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر فراز احمد انعام کی صلاحیت اور مہارت کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی اعلیٰ تحقیقی لیبارٹریاں ملک میں کوانٹم ٹیکنالوجیز کے شعبے میں مسابقت بڑھانے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔

 

یہ نئی سہولت اے ایم یو کی تاریخ میں ایک نمایاں سنگِ میل ہے۔ اے ایم یو ملک کی پہلی مرکزی اور ریاستی یونیورسٹی ہے جو کوانٹم لائٹ کیریکٹرائزیشن انجام دینے کی اہل ہے۔ یہ سہولت اب تک صرف چند آئی آئی ٹی اور ممتاز تحقیقی اداروں تک محدود تھی۔

 

اس پہل کے لئے صدر شعبہ پروفیسر محمد سجاد اطہر نے ڈی ایس ٹی – فِسٹ اسکیم کے ذریعے مالی اعانت حاصل کی اور جدید آلات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا۔ لیبارٹری کو ڈاکٹر انعام کی نگرانی میں ریسرچ اسکالرز محمد اشہر احمد، فیصل اسحاق اور منصور احمد نے تیار کیا ہے۔

 

جدید کوانٹم لائٹ سورسز جیسے کوانٹم ڈاٹس، نینو ڈائمنڈز اور ٹو ڈی میٹریئلز کے استعمال سے اعلیٰ درجے کی تحقیق کے لیے ڈیزائن کی گئی یہ لیبارٹری کوانٹم سینسنگ، پریسیزن ڈیٹیکشن اور بایومیڈیکل ڈائیگنوسٹکس جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں ملٹی ڈسپلینری تحقیق کے نئے دروازے کھولے گی۔ مستقبل میں لیبارٹری میں کینسر اور دیگر بیماریوں کی ابتدائی تشخیص کے لیے کوانٹم سینسنگ تجربات انجام دینے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

 

٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے ڈاکٹر زیڈ اے ڈینٹل کالج میں نو وارد بی ڈی ایس طلبہ کے لیے اورینٹیشن و اینٹی ریگنگ پروگرام منعقد

 

علی گڑھ، 6 دسمبر: ڈاکٹر ضیاء الدین احمد ڈینٹل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی ڈی ایس، سالِ اول کے طلبہ کو ادارے کی تعلیمی توقعات، ضابطہئ اخلاق اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کے لیے ایک اورینٹیشن و اینٹی ریگنگ پروگرام منعقد کیا گیا۔

 

پروگرام کا آغاز ڈاکٹر سید امان علی کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ اس کے بعد ڈاکٹر عاطف نے اساتذہ کا تعارف کرایا۔ ڈاکٹر جوہی گپتا نے ڈینٹل کونسل آف انڈیا کی رہنما ہدایات پر روشنی ڈالی اور ڈینٹل گریجویٹس کے لیے مطلوبہ اخلاقی و پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو واضح کیا۔ طلبہ نے بھی اپنا تعارف پیش کیا، جو کالج کمیونٹی کے ساتھ ان کی پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔

 

ڈاکٹر سبزر عبداللہ نے ایک اہم سیشن میں ڈینٹل کلینکس میں حفاظتی پروٹوکول خصوصاً مریضوں کی نگہداشت اور پیشہ ورانہ تحفظ کے معیارات پر گفتگو کی۔

 

اینٹی ریگنگ کمیٹی میں شامل پروفیسر گیتا راجپوت، ڈاکٹر صبا خان اور ڈاکٹر ناصر صلاتی نے طلبہ میں باہمی احترام اور تحفظ کے احساس کو مضبوط کرنے کے لیے ایک خصوصی ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ مہمان مقرر پروفیسر سنجے سنگھ، (شعبہ اورل و میکسیلوفیشیل سرجری، جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے ریگنگ سے متعلق قوانین، مضمرات اور طلبہ کے حقوق پر خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ریگنگ ایک سنگین جرم ہے اور اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

 

بی ڈی ایس سال دوم کے طلبہ کے پراثر اینٹی ریگنگ ڈرامے اور سوال و جواب کے سیشن نے طلبہ کے درمیان آگہی اور اعتماد میں اضافہ کیا۔

 

پروگرام کا اختتام اس عزم کے اعادے کے ساتھ ہوا کہ ادارہ اعلیٰ تعلیمی معیار، اخلاقی اقدار اور تمام طلبہ کے لیے معاون تعلیمی ماحول فراہم کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہے گا۔

 

٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے ڈاکٹر طاہر ایچ پٹھان نے سنت ادبیات پر لیکچر دیا

 

علی گڑھ، 6 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ جدید ہندوستانی زبانوں میں مراٹھی سیکشن کے انچارج، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر طاہر ایچ پٹھان نے ”سنت ادبیات اور قومی یکجہتی“ کے موضوع پر ایک لیکچر 30ویں سنت دھیانیشور اور سنت تکارام لیکچر سیریز کے تحت دیا، جو سنت دھیانیشور کی 700ویں سنجیون سما دھی تقریب کے موقع پر منعقد کیا گیا۔ پروگرام کا اہتمام سنت دھیانیشور اور سنت تکارام لیکچر سیریز ٹرسٹ، پونے، ورلڈ پیس سینٹر (آلندی) اور ایم آئی ٹی ورلڈ پیس یونیورسٹی، پونے (یونیسکو چیئر، ہیومن رائٹس، ڈیموکریسی اینڈ پیس) نے مشترکہ طور سے کیا تھا۔

 

اپنے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر طاہر پٹھان نے کہا کہ سنت ادبیات نے ہندوستان کی کثرت میں وحدت کی تہذیبی روایت کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنت دھیانیشور، سنت تکارام، سنت نام دیو، ایکناتھ، کبیر، گرو نانک، روی داس، سور داس اور نرسنگھ مہتا جیسے بزرگوں کی تعلیمات نے لسانی، ثقافتی اور مذہبی سرحدوں سے بالا ہو کر آفاقی اخوت کا پیغام دیا۔

 

انہوں نے کہا کہ سنتوں نے انسانیت کو ذات پات اور معاشرتی حیثیت سے پرے رہ کر مخاطب کیا اور سنت ادب نے امتیازی سماجی ڈھانچوں کو توڑ کر ان کی جگہ مساوات، اخلاقی پاکیزگی اور اجتماعی شعور کی اقدار کو فروغ دیا۔

 

ڈاکٹر پٹھان نے کہا کہ عوام میں گائے جانے والے بھکتی گیت، جذباتی اور ثقافتی سطح پر ایسا رشتہ قائم کرتے ہیں جس نے ہندوستانی سماج کی مشترکہ تہذیبی شناخت کو مضبوط کیا ہے۔ یہ ایک طاقتور ثقافتی قوت ہے جو آج بھی ہندوستان کو ہم آہنگی اور اتحاد کی سمت لے جا رہی ہے۔

 

٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے پروفیسر محمد ثناء اللہ ندوی کا دورہئ برطانیہ اور لندن کانفرنس میں خطاب

 

علی گڑھ، 6 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہئ عربی کے استاد اور سابق صدر شعبہ پروفیسر محمد ثناء اللہ ندوی نے 19 تا27نومبر برطانیہ کا دورہ کیا، جس کی ابتداء لندن میں واقع معروف تحقیقی ادارے الفرقان اسلامک ہیریٹیج فاؤنڈیشن کی جانب سے’اسلامی تاریخ میں ترجمہ نگاری کی اولین روایات‘ کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت سے ہوئی جس میں پروفیسر ثناء اللہ کو ہندوستان کی نمائندگی کے لئے خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔

 

پروفیسرثناء اللہ نے ’عہدوسطیٰ کے بغدادکی تشکیل میں ہندوستان کے کردار‘ کے اہم موضوع پر کانفرنس میں خطبہ پیش کیا جس میں ادبیات، فلسفہ، طب، ریاضیات و فلکیات کے موضوعات پرترجمہ شدہ سنسکرت نصوص کو تاریخی اور موضوعاتی تناظر میں پیش کیا گیا۔

 

انھوں نے کہا کہ عہد وسطی میں علوم و فنون کی تشکیل و ارتقاء میں عقلی و تجرباتی علوم کے یونانی، سریانی و قبطی سرمایہ کے دوش بدوش ہندوستان کے سنسکرت کے ان درجنوں نصوص کے عربی ترجمہ کا خصوصی کردار رہا ہے جوبیت الحکمت میں منصور، ہارون الرشید و مامون جیسے نامور عباسی حکمرانوں اور خالد، یحی،فضل اور جعفر جیسے برمکی وزیروں کی سرپرستی میں انجام پایا۔ اسی سرپرستی میں برہمگپت، لتا دیو، مہرشی چرک، چانکیہ، آریہ بھٹ، ویراہامہیرا اورپاتنجلی جیسے ہندوستانی طبیبوں، فلسفیوں اور علمائے فلکیات کی نمائندہ کتابوں کا ترجمہ عربی میں کیا گیا جن کا بغداد کے علمی ورثہ اور اسلامی تاریخ میں علووم و فنون کی عمومی تشکیل میں ایسا نمایاں کردار رہا ہے جس کو عرب مؤرخین کے علاوہ یوروپی فضلاء اور تاریخ نگاروں نے بھی اپنی تصنیفات میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ پروفیسر ثناء اللہ نے اپنے خطاب میں ترجمہ شدہ نصوص کے مخطوطات، اصل نصوص اور عربی اسلامی ورثہ میں ان کی شمولیت جیسے پہلوؤں کا احاطہ کیا۔

 

کانفرنس کے اختتام کے بعد پروفیسر ثناء اللہ نے لندن کے علمی اور تاریخی مقامات کا مشاہدہ بھی کیا، جن میں معروف شاہی محلات کے علاوہ لندن یونیورسٹی، برٹش میوزیم، برٹش لائبریری، ایتھینیم کلب، کیکسٹن ہال،21میکلمبرگ اسکوائر وغیرہ شامل ہیں۔ ایتھینیم کلب اور21 میکلمبرگ اسکوائر اس حوالہ سے بھی محبان علی گڑھ کے لئے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں کہ سرسید علیہ الرحمۃ اپنے سفر لندن کے دوران 1869 تا 1870 اسی میں قیام پذیر تھے۔ ایتھینیم کلب ایک تاریخی انجمن ہے جس کی رکنیت سر سید نے لندن قیام کے دوران لی تھی۔

 

پروفیسر ثناء اللہ نے آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیوں کا بھی دورہ کیا۔انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے بوڈیلین چیئر کے منصب پر فائزنامور محققہ پروفیسرجولیا برے اور پروفیسر طاہرہ قطب الدین سے ملاقات کی۔ باہمی اظہار خیال میں عالمی سطح پر مخطوطہ شناسی، علوم اسلامیہ پر تحقیق کا منظرنامہ اور آکسفورڈ یونیورسٹی اور شعبہئ عربی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مابین علمی تعاون کے موضوعات نمایاں رہے۔

 

پروفیسر ثناء اللہ نے آکسفورڈ مرکز برائے علوم اسلامیہ کے اہلکاروں کے علاوہ معروف مفکر ومصنف اور لندن کے معروف ادارہ ’السلام انسٹی ٹیوٹ‘ کے بانی و صدر ڈاکٹر محمد اکرم ندوی سے خصوصی ملاقات کی۔ نوبل پرائز کے لئے نامزد معروف ادبی شخصیت اور’انٹر نیشنل آرگنائزیشن آف لٹریچر فار پیس‘کی سربراہ محترمہ ڈاکٹر وفاء عبد الرزاق سے خصوصی ملاقات اس دورہ کی دوسری اہم کڑی تھی۔

Comments are closed.