بابری مسجد کی شہادت ملک کی پیشانی پر بدنما داغ: مولانا صابر قاسمی
ہندوستانی مسلمانوں سمیت دیگر انصاف پسند طبقہ بابری مسجد کی شہادت کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا
بابری مسجد کے انہدام کی برسی کو بڑکلی چوک، میوات میں یوم سیاہ کے طور پر منایا گیا
نوح میوات(پریس ریلیز)
ایودھیا میں 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام کی برسی کو میوات میں یوم سیاہ کے طور پر یاد کیا گیا۔اس موقع پر میوات بھر میں لوگوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے بابری مسجد کی دلخراش شہادت کو یاد کیا ۔
قابل ذکر ہے کہ بابری مسجد کا انہدام کا حوالہ دیتے ہوئے، معزز سپریم کورٹ نے 9 نومبر 2019 کو فیصلہ حقائق کی بجائے ہندوؤں کی آستھا پر مبنی فیصلہ دیا تھا۔ ان باتوں کا ذکر جمعیتہ علماء ہند سابق جنرل سیکرٹری نے کیا
انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کا انہدام ہندوستانی تاریخ کی ستم ظریفی ہے جسے ہم کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آج 6 دسمبر کو میوات بھر میں سوگوار اور یوم سیاہ کے طور پر یاد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ پیش کردہ حقائق یہ کہتے ہیں کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر نہیں بنائی گئی،اس کے باوجود 2019 میں بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کا اعلان کیا گیا۔ یہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ صورت حال تھی۔ اس سب کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کیا۔
اکبر نگینہ نے کہا کہ ہم بابری مسجد کے انہدام کو بطور احتجاج یوم سیاہ کے طور پر مناتے رہیں گے۔
میٹینگ میں حاجی الیاس جلالپور، حامد نانگل، فضل الدین بھوڈباس، غفار کرہیڑی ، عبدالکریم، اور دیگر معززین موجود تھے۔۔
Comments are closed.