مدرسہ ناصرالعلوم ناصر گنج نستہ میں جلسۂ دستار بندی و تعلیمی بیداری کانفرنس 9 دسمبر کو ، علاقہ کے نامور علماء کی شرکت یقینی

 

جالے(محمد رفیع ساگر)

سنگھواڑہ بلاک کی علمی و فکری شناخت کہی جانے والی سرزمین ناصر گنج نستہ میں قائم مدرسہ ناصرالعلوم اپنی تاسیس کے دنِ اول سے علم، اخلاق اور تربیت کی مضبوط روایت کو آگے بڑھا رہا ہے۔ مرحوم الحاج عتیق احمد نستوی علیہ الرحمہ کی برسوں کی محنت، خلوص اور دعاؤں سے وجود میں آیا یہ ادارہ آج ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس کا مقصد نئی نسل کو محض تعلیم نہیں بلکہ کردار سازی کا وہ عملی شعور دینا ہے جس سے سماج سنورتا ہے اور کمیونٹی مضبوط ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مدرسہ میں مسلسل تربیتی پروگرام منعقد ہوتے رہتے ہیں جن میں طلبہ کو اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنے اور مستقبل کی ذمہ داریوں کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔

 

اسی تربیتی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر مدرسہ کے زیر اہتمام 9 دسمبر کو جلسۂ دستار بندی و تعلیمی بیداری کانفرنس منعقد ہونے جا رہی ہے، جس کو علاقے بھر میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ ناظمِ مدرسہ مولانا مفتی سلیم ناصری نے اس نمائندے سے گفتگو میں بتایا کہ یہ اجلاس نہ صرف طلبہ کے لیے اپنی قابلیت کے اظہار کا ایک اہم پلیٹ فارم ہوگا بلکہ مقامی آبادی اور اہلِ علم کے درمیان ایک مضبوط فکری ربط بھی قائم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کی صدارت امارتِ شرعیہ پٹنہ کے نائب ناظم مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی فرمائیں گے، جبکہ سرپرستی دارالعلوم مئو کے سابق استاد اور ممتاز عالمِ دین مولانا حسین احمد نستوی کے سپرد ہوگی۔ موقع پر متعدد ممتاز شخصیات بھی شرکت کریں گی جن میں مولانا ڈاکٹر شکیل قاسمی پروفیسر پٹنہ اورینٹل کالج، مولانا سعید احمد قاسمی صدر مدرس مدرسہ اسلامیہ شکرپور، مولانا قاضی اخلاق احمد قاسمی قاضی شریعت مدرسہ اسلامیہ شکرپور، مولانا امان اللہ قاسمی ناظم مدرسہ قاسم العلوم لکھمنیا بیگوسرائے، مولانا عبدالقادر کورونی سکریٹری سنگھوارہ بلاک امارت شرعیہ پٹنہ، مولانا محمد ارشد فیضی قاسمی ڈائریکٹر اسلامک مشن اسکول جالے کے نام بطورِ خاص شامل ہیں۔ قرب و جوار کے درجنوں علماء، دانشوران اور سماجی شخصیات کی موجودگی اس کانفرنس کو مزید وقار بخشے گی۔

مفتی سلیم ناصری نے یہ بھی بتایا کہ پروگرام کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور مدرسہ انتظامیہ کی پوری کوشش ہے کہ اجلاس کو ہر لحاظ سے تاریخی بنایا جائے۔ علاقہ کے عوام میں بھی اس جلسے کو لے کر جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ کانفرنس نہ صرف طلبہ کے اعتماد میں اضافہ کرے گی بلکہ تعلیمی بیداری اور مثبت سماجی شعور کو نئی سمت بھی دے گی۔

Comments are closed.