ڈی جے بجانے کا احتجاج کرنے پر جان لیوا حملہ،4 افراد زخمی، 3 ملزم گرفتار
جالے (محمد رفیع ساگر)
سنگھواڑہ کے سمری تھانہ علاقے کے سڈھواڑا گاؤں میں نشے کی حالت میں تیز آواز میں ڈی جے بجانے کے خلاف احتجاج کرنے پر اہلِ خانہ پر جان لیوا حملے کا سنسنی خیز واقعہ پیش آیا۔ اس معاملے میں دس نامزد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے باپ بیٹے سمیت تین ملزمان سندر لال یادو، اروند کمار اور پنکج کمار کو گرفتار کر کے عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔
متاثرہ خاندان کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت میں جگدیش سہ کی اہلیہ سنینا دیوی نے بتایا کہ 2 دسمبر کی رات تقریباً 11 بجے ان کے پڑوسی پنکج یادو، ناگمنی، سوشانت کمار، اروند یادو، روی کمار، سندر لال یادو، بکی یادو، مانو یادو، اشوک یادو، کاری یادو سمیت کئی نامعلوم افراد شراب اور نشہ آور اشیا کے اثر میں دھت ہو کر ان کے گھر کے قریب ڈی جے بجا رہے تھے اور شور شرابے کا ماحول پیدا کر رکھا تھا۔
سنینا دیوی کے مطابق ان کی طبیعت خراب تھی اور دل کے مریض ہونے کے سبب بلند آواز انہیں تکلیف پہنچا رہی تھی۔ ان کے بڑے بیٹے مکیش سہ نے پڑوسیوں سے گزارش کی کہ ڈی جے کا والیم کم کر دیں، مگر پنکج یادو نے الٹا ساتھیوں کو بلا کر کہا کہ "ڈی جے بند نہیں ہوگا، جو کرنا ہے کر لو۔”
اسی دوران سندر لال یادو نے غصّے میں سب کو اکسا کر مکیش سہ پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ ملزمان نے لاٹھی اور لوہے کی راڈ، فائیڈر، ڈائیگر سمیت کئی مہلک ہتھیاروں سے لیس ہو کر مکیش پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ کسی طرح جان بچا کر گھر کے اندر بھاگ گیا، مگر مشتعل بھیڑ نے گھر میں گھس کر اسے بے رحمی سے مارا پیٹا۔
شور سن کر مکیش کے تین بھائی منیش ساہ، راج کشور ساہ اور راجو ساہ جب بچانے پہنچے تو حملہ آوروں نے ان پر بھی وحشیانہ حملہ کر کے شدید زخمی کر دیا۔ چاروں زخمیوں کو مقامی لوگوں نے خون آلود حالت میں پرائمری ہیلتھ سنٹر سنگھواڑہ پہنچایا، جہاں انہیں طبی امداد دی گئی۔
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ملزمان مجرمانہ ذہنیت کے ہیں اور انہیں اندیشہ ہے کہ وہ دوبارہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اس معاملے میں تھانہ انچارج اروند کمار نے بتایا کہ ڈی جے کے تنازعے میں تین افراد کی گرفتاری عمل میں آچکی ہے جبکہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے مسلسل چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
Comments are closed.