تقریر اور خطابت پیغام رسانی کے لیے سب سے مؤثر ذریعہ ہے : مولانا صابر قاسمی

 

تقریر اور خطابت پیغام رسانی کے لیے سب سے مؤثر ذریعہ ہے : مولانا صابر قاسمی

 

الجامعہ میوات کیمپس کے تقریری مقابلے میں ججز نے اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔

 

نوح میوات (پریس ریلیز)

 

سالانہ فیسٹیول نشاط 2025 رنگا رنگ سالانہ پروگرام ہر سال کی طرح اس سال بھی تعلیمی ادارہ الجامعہ میوات کیمپس مروڑہ میں تعلیمی مقابلے کا آغاز کیا گیا ۔

دریں اثنا، تعلیمی مقابلہ نشاط نامی پروگرام 2025 اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ دوسرے مرحلے کا آغاز دو سیشنز پر محیط تھا : پہلا سیشن ‘درس قرآن’ پر اور دوسرا سیشن اردو تقریری مقابلے پر مرکوز رہا۔

اس موقع پر علاقے کی ممتاز شخصیات نے ججز کی حیثیت سے شرکت کی، جنہوں نے بالترتیب درس قرآن اور تکریری پروگراموں کے ججز کے طور پر پروگرام کی زینت بخشی۔ پہلے جج کے طور پر سماجی شخصیت مولانا محمد صابر قاسمی جبکہ دوسرے جج کے طور پر عبید الرحمن فلاحی مہمان مدعو ریے ۔ پروگرام کے اختتام پر دونوں جج صاحبان نے پروگرام کی مناسبت سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مولانا محمد صابر قاسمی نے تقریر کو جامع اور اثر انگیز بنانے کے لیے چند اہم نکات کو ذہن نشین کرنے پر تاکید فرمائی جیسے انداز بیان، طرز تکلم اور باڈی لینگویج وغیرہ۔ انہوں نے کہا کہ تقریر رابطے کا سب سے قدیم ذریعہ ہے اور یہ آج تک کا سب سے مؤثر وسیلہ ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 4 دسمبر کو شروع ہونے والا یہ تعلیمی کمپٹیشن 20 دسمبر کو ایک شاندار ایوارڈ تقریب کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا، جس میں خطہ میوات کے تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والی قابل ذکر شخصیات شرکت کریں گی۔

الجامعہ میوات کیمپس ادارے کے ڈائیریکٹر شبلی ارسلان نے کہا کہ الجامعہ کیمپس کا اپنی نوعیت منفرد تعلیمی پروگرام ہوتا ہے ، جہاں کیمپس کے طلبہ کو تین گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور دوستانہ مقابلوں کی صورت میں منعقد کیے جانے والے درجنوں ادبی اور ثقافتی پروگراموں میں طلبہ و طالبات حصہ لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت کھیلوں اور تحریری مقابلوں کا پہلا دور ختم ہو چکا ہے۔ اس اہم دوسرے دور میں ہندی، اردو، انگریزی اور عربی میں تقریری مقابلوں کے ساتھ ساتھ کتابوں کے جائزے، شاعری پریزنٹیشنز، اسٹوری ریڈنگ، مونو ایکٹس، مونولوگو، مائم، ڈرامہ، انتاکشری، مباحثے اور درجنوں دلچسپ مقابلے شامل ہوں گے۔

یاد رہے کہ ہر مقابلے کے لیے دو مہمانوں پر مشتمل جج ہوتے ہیں جو طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کا باریکی سے جائزہ لیتے ہیں۔ اس سلسلے میں خطہ میوات کے علاوہ دہلی اور پڑوسی ریاست راجستھان سے بھی اسکالرز، ماہرین تعلیم اور دانشوروں کو جج کی حیثیت سے مدعو کیا جاتا رہا ہے۔

 

Comments are closed.