مدارس اسلامیہ سماج کی فکری رہنمائی کے مراکز : پروفیسر شکیل احمد قاسمی

 

 

نئی نسل کی تعلیمی و اخلاقی تربیت کیلئے مدارس کا کردار ناگزیر: مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی

 

مدرسہ ناصرالعلوم ناصرگنج نستہ کی جلسۂ دستاربندی و تعلیمی کانفرنس سے موقر علماء کا خطاب ،8 حفاظ کرام کی دستاربندی

 

جالے: محمد رفیع ساگر / بی این ایس

مدارس و مکاتب مسلمانوں کے وجود، تشخص اور ان کے خوابوں کی حقیقی تعبیر ہیں۔ انہی اداروں کے ذریعے نئی نسل کی دینی تربیت، اخلاقی اصلاح اور سماج کے روشن مستقبل کی راہ متعین کی جا رہی ہے۔ یہ خیالات امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے سنگھوارہ بلاک کے ناصرگنج نستہ میں واقع مدرسہ ناصرالعلوم کی جلسۂ دستاربندی سے صدارتی خطاب کے دوران پیش کیے۔

 

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور تعلیمی انقلاب کا دور ہے، جس میں والدین اور سماج کے ہر فرد کو نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور کردار سازی کے لیے اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ ان کے مطابق مدارس کے دائرے کو وسعت اور تقویت کے بغیر سماج کے ڈھانچے کو درست نہیں کیا جا سکتا، اور یہی بے توجہی نئی نسل کو فکری و اخلاقی بے راہ روی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

تقریب کا آغاز قاری صبغة اللہ ثاقبی کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جس کے بعد اشتیاق رہبر اور شہنواز اختر نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ نظامت کے فرائض مولانا امان اللہ نستوی (استاد مدرسہ قاسم العلوم لکھمینا) نے انجام دیے اور سرپرستی دارالعلوم مئو کے سابق استاد مولانا حسین احمد ناصری نے کی۔

 

تقریب میں 8 حفاظ کرام—محمد خالد کٹکا بریل، محمد زکریا فاروقی مظفر پور، محمد ضمان اللہ صدیقی بیلپکونہ، محمد رحمت علی شکرپور، محمد اسد شکرپور، محمد اعظم خلیق شیو دھارا، محمد حمزہ جگولیا مظفر پور، اور محمد اسجد ہاشمی دمہ گھاٹ—کی شاندار دستاربندی کی گئی۔ اسی طرح ناظرہ قرآن مکمل کرنے والے ولی اللہ، محمد ارشاد اقبال، محمد اکرم، محمد ارمان، محمد تاجدار اور محمد فاتح کو بھی اسناد اور انعامات سے نوازا گیا۔

 

مفتی ثناء الہدیٰ قاسمی نے کہا کہ ناصرگنج نستہ کی سرزمین کی علمی روایت قدیم اور شاندار ہے، جسے حاجی منور علی علیہ الرحمہ نے برسوں قبل روشن کیا تھا، اور آج اسی روشن روایت کو مدرسہ ناصرالعلوم جیسے ادارے آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے اسے حاجی عتیق احمد کے خوابوں کی تعبیر اور مولانا انوار احمد رشادی و مفتی سلیم احمد ناصری کی محنت کا نتیجہ قرار دیا۔

 

مولانا حسین احمد ناصری نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا کی کوئی نعمت حفظِ قرآن کی نعمت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ دینی ادارے قوم کے روشن مستقبل کی اصل ضمانت ہیں، اور انہی اداروں نے ملت کے بچوں کے سینوں کو قرآن کے نور سے منور رکھنے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔

 

مدرسے کے ناظم مفتی سلیم احمد ناصری نے کہا کہ یہ ادارے قوم کے لیے ایسے چراغ ہیں، جن کی روشنی نہ صرف دینی تعلیم کو فروغ دیتی ہے بلکہ سماج کے مستقبل کی سمت بھی متعین کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ ان کے والد مرحوم الحاج عتیق احمد کے خوابوں کی تعبیر اور حاجی منور علی کے مشن کا تسلسل ہے۔ انہوں نے معاونین، اساتذہ اور علاقے کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔

 

پروفیسر شکیل احمد (پٹنہ اورینٹل کالج) نے کہا کہ ہندوستان میں دو تعلیمی نظام پروان چڑھے—ایک لارڈ میکالے کا نظام جو فکری غلامی کی بنیاد پر قائم تھا، اور دوسرا علماء کا نظام جس نے دارالعلوم دیوبند جیسے ادارے قائم کرکے قوم کی دینی شناخت اور فکری آزادی کو محفوظ رکھا۔ انہوں نے کہا کہ مدارس نہ صرف علم و تہذیب کے محافظ ہیں بلکہ سماج کی فکری رہنمائی کے مستقل مراکز بھی ہیں۔

 

اسلامک مشن اسکول جالے کے ڈائریکٹر مولانا ارشد فیضی قاسمی نے کہا کہ قرآن انسانیت کے لیے مکمل دستور حیات ہے، اور مدارس وہ مراکز ہیں جہاں اس کی روشنی دلوں اور دماغوں کو منور کرتی ہے۔ ان کے مطابق حفاظ کرام کے سینے اللہ کے کلام کے امین ہوتے ہیں اور ان کی عزت و حفاظت پوری امت کی ذمہ داری ہے۔

 

امارت شرعیہ سنگھوارہ کے سکریٹری عبدالقادر نے کہا کہ دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت کے فقدان نے سماج میں بے راہ روی کو جنم دیا ہے، اس لیے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ دینی تعلیمات کو عام کرنے میں حصہ ڈالے۔

 

اجلاس کے اختتام پر تمام مقررین نے اتفاق کیا کہ مدارس و مکاتب کے کردار کو مضبوط کرنا اور نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کو یقینی بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ جلسے میں مولانا انوار احمد رشادی، ڈاکٹر مفتیض احمد، مرزا ذکی احمد بیگ، محمد آرزو، عامر نشاط، شمشاد احمد، مولانا منت اللہ بھپورہ، انجینئر خالد، محمد مرتضیٰ، ڈاکٹر منتظر احمد پیارے اور دیگر معززین نے شرکت کی اور مدرسہ ناصرالعلوم کی خدمات کو سراہا۔

 

آخر میں ادارہ کے بانی الحاج عتیق احمد نستوی مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور حفاظ کرام کے روشن مستقبل کی دعائیں کی گئیں۔

 

Comments are closed.