جمعیۃ علماء گوونڈی کے آفس سکریٹری حافظ عبدالرشید کا انتقال، جمعیۃ کے صدر،جنرل سیکریٹری اور خازن کا اظہار تعزیت
ممبئی (پریس ریلیز) جمعیۃعلماء گوونڈی (مولانا ارشد مدنی) کے قدیم اور فعال آفس سکریٹری حافظ عبدالرشید کا آج صبح حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے انتقال ہوگیا، ان کے انتقال کی خبر سن کر جمعیۃ علماء کے ذمہ داران و کارکنان کو شدید صدمہ پہونچا، اس موقع پر جمعیۃعلماء گوونڈی کے صدر حافظ شمس الحق نے حافظ عبدالرشید کے انتقال پر اپنے گہرے دکھ اور صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی جمعیۃ علماء گوونڈی کی خدمات کے تئیں خراج عقیدت پیش کیا اور جمعیۃ کے لیے ان کی خدمات کو ناقابل فراموش بتایا، انہوں نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے اہل خانہ سے اظہار تعزیت پیش کیا، جمعیۃ علماء گوونڈی کے جنرل سیکریٹری مولانا صدر عالم قاسمی نے اپنے تعزیتی بیان میں فرمایا کہ مرحوم حافظ عبدالرشید صاحب جمعیۃ علماء کے ایک محنتی، قابل بھروسہ اور فعال کارکن تھے، انہوں نے ایک طویل عرصے تک جمعیۃ علماء گوونڈی کی خدمت کی، جمعیۃ علماء گوونڈی کو زمینی سطح پر مضبوط کرنے میں مرحوم کا بڑا کردار تھا، اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے، یقینا ان کا انتقال جمعیۃعلماء گوونڈی کے لیے بڑا نقصان ہے، میں اپنی جانب سے اور جمعیۃ علماء گوونڈی کی جانب سے مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت کرتا ہوں اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہوں، اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین، جمعیۃعلماء شمال مشرقی زون کے جنرل سیکریٹری اور جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے فعال کارکن مولانا اسید قاسمی نے حافظ عبدالرشید کے انتقال کو جمعیۃ علماء گوونڈی کے لیے بڑا نقصان بتایا، انہوں نے مرحوم کے اہل خانہ کو صبر جمیل کی تلقین کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت کی دعا کی. جمعیۃ علماء گوونڈی کے خازن مفتی محمد احمد قاسمی نے بھی حافظ عبدالرشید کے انتقال پر اپنے رنج و غم کا اظہارِ کرتے ہوئے مرحوم کے لیے مغفرت کی دعا کی اور اہل خانہ کوصبر کی تلقین کرتے ہوئے تعزیت مسنونہ پیش کی.
واضح رہے کہ مرحوم حافظ عبدالرشید گذشتہ دس سالوں سے جمعیۃ علماء گوونڈی سے جڑے ہوئے تھے، جمعیۃ علماء گوونڈی کے آفس سکریٹری تھے، آج صبح حرکت قلب بند ہوجانے سے ان کا انتقال ہوگیا، بعد نماز ظہر مسجد دعوۃ الایمان کے باہر نماز جنازہ ادا کی گئی، جنازہ کی نماز دعوۃ الایمان مسجد کے امام و خطیب مفتی اصغر قاسمی نے پڑھائی، جنازہ میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی.
Comments are closed.