مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

اے ایم یو کے سول انجینئرنگ شعبہ کے سابق فیکلٹی ممبر پروفیسر سید خالد کو خراج عقیدت پیش کیا گیا

علی گڑھ، 11 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سول انجینئرنگ کے اساتذہ اور عملہ کے اراکین نے شعبہ کے سابق استاد پروفیسر سید خالد کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پروفیسر خالد 1998 میں شعبے سے سبکدوش ہوئے تھے۔ گزشتہ 8 دسمبر کی صبح ان کا انتقال ہوا۔

پروفیسر خالد کو ان کی لگن، خلوص اور محنت کے باعث نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھاجاتا تھا۔ ان کی گرانقدر تحقیقی خدمات اور علم کے فروغ میں ان کی  کوششیں آج بھی اساتذہ اور طلبہ کے لئے مشعل راہ ہیں۔ انہوں نے شعبہ میں ہائیڈرولکس انجینئرنگ لیبارٹری کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، جس سے شعبے کی تحقیق اور تدریس کے بنیادی ڈھانچے میں نمایاں بہتری آئی۔

اساتذہ اور سابق طلبہ انہیں ان کی اصول پسندی، محنت اور یونیورسٹی سے بے پناہ وابستگی کی وجہ سے یاد کرتے ہیں۔ تعزیتی پیغام میں شعبے کے چیئرمین پروفیسر اظہار الحق فاروقی نے پروفیسر خالد کو ایک رہنما شخصیت کے طور پر یاد کیا جن کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے مرحوم کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کی اور ان کی بلندیئ درجات کے لئے دعا کی۔

٭٭٭٭٭

پروفیسر ایچ ایس اے یحییٰ کی خودنوشت کا اجراء

علی گڑھ، 11 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف لائف سائنسز کے سابق ڈین پروفیسر ایچ ایس اے یحییٰ کی خودنوشت ”نظرہ ٹو نیوجرسی“ کا اجراء ابن سینا اکیڈمی، دود ھ پور، علی گڑھ میں عمل میں آیا۔ اس سے قبل پروفیسر یحییٰ نے کتاب کی دستخط شدہ کاپی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کو وائس چانسلر لاج میں پیش کی۔ اس دوران پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان اور رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر بھی موجود تھے۔

وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا کہ یہ خودنوشت محض ذاتی داستان نہیں بلکہ یہ ایک متاثر کن علمی وراثت کا حصہ ہے، جو مستقبل کے اسکالرز کو یاد دلائے گی کہ ثابت قدمی، اقدار اور وژن ہی غیر معمولی سفر کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

رسم اجرا کے دوران کے اے نظامی مرکز برائے قرآنی علوم کے ڈائریکٹر پروفیسر اے آر قدوائی نے کتاب کا جائزہ پیش کیا، جس میں پروفیسر یحییٰ کی علمی و تدریسی خدمات، قائدانہ کردار اور قابل قدر علمی کارناموں کو اجاگر کیا گیا۔ اپنے خطاب میں شعبہ وائلڈ لائف سائنسز کے چیئرمین پروفیسر ستیش کمار نے بطور چیئرمین شعبے کو مستحکم کرنے میں پروفیسر یحییٰ کی اہم خدمات کا ذکر کیا۔

صدرِ جلسہ پدم شری پروفیسر حکیم سید ظل الرحمٰں نے پروفیسر یحییٰ کی لگن کی تعریف کی اور نوجوان اسکالرز کو مشورہ دیا کہ وہ ممتاز علمی شخصیات کے عملی تجربات سے تحریک حاصل کریں۔

تقریب میں مختلف شعبوں کے اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز موجود تھے۔ پروگرام کی نظامت پروفیسر عبدالرّحیم کے (چیئرمین، شعبہ میوزیولوجی) نے کی۔ اس دوران شرکاء میں کتاب کی کاپیاں تقسیم کی گئیں۔

٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں سائنس و آرٹس کی نمائش کا اہتمام

علی گڑھ، 11 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے عبداللہ اسکول میں رنگا رنگ سائنس اور آرٹ نمائش کا اہتمام کیا گیا، جس میں ابتدائی درجات کے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں، جدت پسندی اور مہارتوں کو پیش کیا گیا۔ ننھے طالب علموں نے ورکنگ اور نان ورکنگ سائنسی ماڈلز پیش کئے اور اپنے تصورات نہایت اعتماد کے ساتھ نمائش میں آنے والے افراد لوگوں کو سمجھائے۔ نمائش میں ہاتھ سے بنے ہوئے گملے، فوٹو فریم، کروشے کے نمونے اور دیگر فن پارے بھی شامل تھے۔

نمائش میں طلبہ کے تیار کردہ گیمنگ زون نے بھی خاصی توجہ حاصل کی، جس میں ہاتھ سے بنائے گئے گیمز اور کوئز شامل تھے۔ ہاتھ سے تیار کردہ سیلفی کارنرز کو بھی خاصا سراہا گیا۔ تقریب میں ڈاکٹر صالحہ جمال، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، اسکول ایجوکیشن، اے ایم یو، ڈاکٹر ثمینہ، پرنسپل اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول اور ڈاکٹر نائلہ راشد، پرنسپل، احمدی اسکول برائے نابینا طلبہ بھی شامل ہوئے۔ انھوں نے طلبہ کی صلاحیتوں، جدت پسندی اور تخلیقی کاوشوں کو سراہا۔

مختلف مقابلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو نقد انعامات اور اسناد سے نوازا گیا۔ مستحق طلبہ کو توحید قمر ایوارڈپیش کیا گیا۔

سپرنٹنڈنٹ محترمہ عمرہ ظہیر نے طلبہ کی خاطر خواہ حوصلہ افزائی کی۔ پروگرام کے انعقاد میں عنبرین ذکی، عرشیہ آفتاب، سارہ صدیقی اور صہبا عاصم نے بھرپور تعاون کیا۔ نظامت کے فرائض سینئر ٹیچر محترمہ انجم انور نے انجام دئے۔

٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے شعبہ قانون کے طالب علم محمد صہیب نے قومی سطح کے مضمون نویسی مقابلہ میں دوم انعام جیتا

علی گڑھ، 11 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ قانون کے طالب علم محمد صہیب نے قومی سطح کے آئی آئی ایف او ایم اے ایس مضمون نویسی مقابلہ 2025 کے سویلیئن زمرہ میں دوم انعام حاصل کیا۔ انہیں یہ ایوارڈ دہلی کے مانک شا سینٹر میں منعقدہ انڈیا انٹرنیشنل فورم آن مائن ایکشن اینڈ سیفٹی (آئی آئی ایف او ایم اے ایس) کے دوسرے سالانہ سمپوزیم میں پیش کیا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل دُشینت سنگھ (ریٹائرڈ)، ڈائریکٹر جنرل، سینٹر فار لینڈ وارفیئر اسٹڈیز نے مسٹر محمد صہیب کو ایوارڈ پیش کیا۔ اس مقابلے کا انعقاد سبکدوش فوجی افسران کی سربراہی والے ایک دفاعی تھنک ٹینک نے کیا تھا۔ تقریب میں مسلح افواج، سی اے پی ایف، سفارتی حلقوں، اکیڈمیا اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد نے حصہ لیا۔

مسٹر محمد صہیب کو سات ہزار کا نقد انعام دیا گیا۔ ن کے مضمون کا عنوان تھا: دی امپیریٹیو آف سِنرجی: گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی اِنوولمنٹ اِن ایکسپلوژیو آرڈیننس رِسک مٹیگیشن۔ اس مضمون میں انہوں نے بارودی سرنگوں سے متعلق خطرات میں کمی کے لیے حکومت اور مقامی لوگوں کی شرکت پر مبنی حکمت عملی کی ضرورت کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔ جائزہ کمیٹی نے صہیب کے مضمون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت مرکوز روایتی نقطہ نظر سے آگے بڑھ کر کمیونٹی پر مبنی جامع فریم ورک کو سامنے لاتا ہے۔ شعبہ قانون کے اساتذہ نے محمد صہیب کو ان کی اس نمایاں کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔

٭٭٭٭٭

اے ایم یو سنٹر ملاپورم کے طلبہ نے پونّانی سب جیل کا تعلیمی دورہ کیا

علی گڑھ، 11 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ملاپورم سنٹر، کیرالہ کے شعبہ قانون کے لیگل ایڈ سیل نے ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی کے تعاون سے طلبہ کے لئے پونّانی سب جیل کے ایک تعلیمی دورہ کا اہتمام کیا، جس کا مقصد طلبہ کو فوجداری نظامِ انصاف کے عملی پہلوؤں سے روشناس کرانا تھا۔

سب جج مسٹر شبیر ابراہیم ایم کی رہنمائی میں اس دورے کے دوران طلبہ کو جیل کی انتظامی کارروائیوں، قیدیوں کے حالاتِ زندگی اور قانونی معاونت کی دستیابی کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔ سنٹر کے ڈائرکٹر پروفیسر ایم شاہ الحمید نے اس اقدام کو طلبہ کے لئے علمی نقطہ نظر سے انتہائی مفید قرار دیا۔ اس پروگرام کی نگرانی ڈاکٹر عظمت علی اور ڈاکٹر نسیمہ پی کے نے کی، جبکہ کوآرڈینیشن مسٹر شاہنواز احمد ملک نے کیا۔

جیل کا تعلیمی دورہ کرنے والے طلبہ میں محمد عامر وارثی، ارباز خان، ماجد، نواز قاسمی اور سید محمد فواز نے قیدیوں اور جیل کے عملہ سے بات چیت کی اور روزمرہ کے انتظامی امور، مقدمات سے متعلق مسائل اور قانونی آگہی کی اہمیت کے بارے میں عملی بصیرت حاصل کی۔

Comments are closed.