امارت شرعیہ ملت اسلامیہ کا قیمتی اثاثہ : مفتی سہیل اختر قاسمی، وقف کی جائیدادیں ملت کی امانت: مولانا قمر انیس قاسمی

 

رانچی(پریس ریلیز) امارت شرعیہ ملت اسلامیہ کا قیمتی اثاثہ ہے، اس ادارہ کی تاریخ اپنی گو ناگوں ملی خدمات کی وجہ سے زندہ و تابندہ ہے، جب بھی ملت اسلامیہ کو کوئی ضرورت پڑی ہے امارت شرعیہ نے پوری ذمہ داری اور ایمانداری کے ساتھ کام کیا ہے، امارت شرعیہ کا نظام آج بھی موجودہ امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم کی امارت و سرپرستی میں شریعت کے تحفظ اور ملت کی سربلندی کے لیے ہمہ وقت مستعد اور تیار ہے، مذکورہ خیالات کا اظہار حضرت مولانا مفتی محمد سہیل اختر قاسمی نائب قاضی شریعت مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ نے ضلع رانچی کے بساہا کھٹنگا اور ٹرگرو میں جاری اصلاحی و دعوتی دورہ کے درمیان کیا؛ انہوں نے بتایا کہ امارت شرعیہ کا دعوتی و اصلاحی دورہ حضرت امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی کی ہدایت اور حضرت مولانا مفتی سعید الرحمن قاسمی ناظم امارت شرعیہ کے ایماء پر ضلع رانچی کے مختلف مواضعات میں گزشتہ چار دنوں سے جاری ہے ۔ اس وفد کے ایک معزز رکن حضرت مولانا قمر انیس قاسمی معاون ناظم امارت شرعیہ نے اپنے خطاب میں امارت شرعیہ کی شرعی حیثیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور فرمایا کہ امارت شرعیہ الہی نظام کا نام ہے ۔ امارت شرعیہ اس روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے اور ملت کے وجود کی روشن علامت ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری ہم سب کی ہےنیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتحاد اسلام کی روح اور وقت کی اہم ترین ضرورت ہے مسلمان اپنے فروعی مسائل سے بالاتر ہو کر محض کلمہ کی بنیاد پر متفق ہو کر زندگی گزاریں۔ حضرت مولانا مفتی انور قاسمی قاضی شریعت دار القضاء امارت شرعیہ رانچی نے وقف کی جائداد کے تحفظ کے سلسلہ میں قیمتی گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ وقف کی جائیدادیں ملت کی امانت اور صدقۂ جاریہ کی ایسی مثال ہیں جنہیں اہل خیر نے اللہ کی رضا اور دینی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ہمیشہ کے لیے وقف کیا ہے۔ وقف کا اصل مقصد یہ ہے کہ اس کا نفع عام مسلمانوں تک پہنچے اور اس سے دینی، تعلیمی، سماجی اور رفاہی خدمات کو تقویت ملے۔ شریعتِ اسلامی میں وقف کی حیثیت نہایت اہم ہے، یہی وجہ ہے کہ وقف شدہ املاک کو ضائع ہونے سے بچانا، ان کی حفاظت کرنا اور ان کا صحیح استعمال یقینی بنانا پوری ملت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔اس حوالے سے امارت شرعیہ نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ،دار القضاء امارت شرعیہ لوہردگا کے قاضی شریعت مفتی محمد عمر فاروق نے دار القضاء کی اہمیت و ضرورت پر مفید گفتگو کی اور کہا کہ مسلمانوں کو اپنے معاملات شرعی قوانین کی روشنی میں کم وقت اور کم خرچ پر دار القضاء سے حل کرانا چاہیے ۔اور اپنے مسائل دار القضاء میں لانا چائیے ،مفتی ابو داؤد قاسمی معاون قاضی دار القضاء امارت شرعیہ رانچی نے بچوں کی تعلیم و تربیت پر موثر خطاب کیا اور کہا کہ اسلام میں تعلیم کی اہمیت مسلم ہے جس سے ہر شخص واقف ہے لیکن افسوس ناک بات ہے مسلمان تعلیم میں اب تک پیچھے ہیں۔انھوں نے تعلیم کے میدان میں آگے آنے کی تلقین کی ،اس پروگرام کا آغازحافظ حافظ صابر صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا اور نظامت کے فرائض حضرت مولانا مزمل حسین قاسمی اور حافظ محمد شہاب الدین مبلغین امارت شرعیہ نے مشترکہ طور پر انجام دی۔ اس پروگرام میں علاقے کے علماء، ائمہ اور دانشوران قوم و ملت نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

Comments are closed.