خلع-احکام ومسائل
از:قاضی محمدفیاض عالم قاسمی
قاضی شریعت دارالقضاء ناگپاڑہ، ممبئی۔
8080697348
شریعت اسلامی میں نے نکاح کو ایک مقدس اور مضبوط عہد قرار دیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر میاں بیوی کے درمیان باہمی سکون اورمحبت باقی نہ رہے، ازدواجی زندگی شدتِ نزاع، ناچاقی اورظلم وستم کا سبب بن جائے تو اسلام ایسے رشتے کو محض جبر و اکراہ سے قائم رکھنے کا قائل بھی نہیں۔ اسی بنا پر مرد کے لئے طلاق اور عورت کے لئے خلع کا نظام رکھا گیا ہے؛ تاکہ دونوں فریق باوقار طریقے سے رشتہ ازدواج سے جدا ہوسکیں۔
خلع کی لغوی تعریف: خلع (خَلعٌ) عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے چند مشہور لغوی معانی درج ذیل ہیں:(الف) اتار دینا یا نکال دینا،عرب کہتے ہیں: خَلَعَ الثَّوْبَ یعنی “اس نے کپڑا اتار دیا”۔اسی طرح خَلَعَ النَّعْلَ یعنی "جوتا اتار دیا”۔قرآن کریم میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کے لئے لباس کہا گیاہے۔
خلع کی اصطلاحی تعریف:فقہ کی اصطلاح میں عوض کے بدلے میں شوہر کی جانب سے نکاح کوختم کرنا خلع کہلاتا ہے۔یعنی عورت مرد کو کچھ مال دے،یامہرواپس کردے یامعاف کردے،اور شوہر اس کے بدلے اسےاپنی زوجیت سے الگ کر دے۔تو یہ خلع ہے، خلع خواہ لفظ خلع کے ذریعہ ہو، یالفظ طلاق کے ذریعہ ہو، یاکسی اورلفظ سے نکاح ختم کیاجائے ، خلع کہلاتاہے۔
قرآن کریم میں میاں بیوی میں سے ہر ایک کو دوسرے کے لئے لباس کہاگیاہے۔ خلع کے ذریعہ گویا مرد وعورت نکاح کالباس اتاردیتے ہیں اوردونوں ایک دوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں۔
خلع کا حکم اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں بیان فرمایاہے،ترجمہ: اور جو کچھ تم بیویوں کو دے چکے ہو ، تمہارے لئے اس میں سے کچھ بھی واپس لے لینا درست نہیں ، سوائے اس کے کہ تم دونوں کو اندیشہ ہوکہ اﷲ کی ( مقررکی ہوئی) حدوں کو قائم نہ رکھ سکوگے،(اورتم خلع کے ذریعہ اپنا رشتہ ختم کرناچاہو،چنانچہ)اگر تم کو اندیشہ ہوکہ میاں بیوی اﷲ کی حدوں کو قائم نہ رکھ سکیں گے، پھر عورت اپنی رہائی کے لئے کچھ دے دے تو زوجین پر ( اس طرح معاملہ طے کرنے میں ) کچھ مضائقہ نہیں ،یہ اﷲ کی ( قائم کی ہوئی ) حدیں ہیں ، ان سے تجاوز نہ کرنا ، اور جو لوگ اﷲ کی (مقرر کی ہوئی ) حدوں سے تجاوز کرجاتے ہیں ، وہی ظالم ہیں ۔ (البقرہ:٢٢۹)
یہ آیت خلع کے جواز پر دلالت کرتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ ناچاقی اور ضرر کی صورت میں اپنی آزادی حاصل کرنے کے لئے کچھ مال دے یا کوئی حق معاف کرکے چھٹکاراحاصل کرلے۔
حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی کا واقعہ مشہورہے کہ انھوں نے بارگاہ رسالت میں حاضرہوکر عرض کیا یا رسولَ اللہ! مجھے ثابت بن قیس کے دین و اخلاق پر کوئی اعتراض نہیں، مگر مجھے ڈر ہے کہ میں ان کے حق میں کوتاہی نہ کردوں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کیا تم ان کا باغ واپس کروگی؟انہوں نے کہا: جی ہاں۔آپ ﷺ نے ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: باغ لے لو اور اسے باغ کے بدلے طلاق دیکر اپنی زوجیت سے علیحدہ کردو۔(صحیح بخاری:٥٢۷٣) اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عوت کا خلع لیناجائز ہے۔
علماء کرام نے لکھاہے کہ عورت کے لئےبغیرکسی وجہ کے خلع یاطلاق مانگناجائز نہیں ہے،ایک حدیث میں ہے کہ ایسی عورت کو جنت کی خوشبو تک نہیں ملے گی۔(ابوداؤد، حدیث نمبر:٢٢٢۶،بذل المجہود:۸/٢٥٣)دوسری حدیث میں ہے کہ ایسی عورتیں منافق ہوتی ہیں۔(سنن نسائی، حدیث نمبر:٣٤۶١)
بہرحال اگر کوئی معقول وجہ ہو مثلاً وہ شوہر کے حقوق کو ادانہیں کرسکتی ہے،یا شوہر اس کے حقوق کو صحیح سے ادانہیں کررہاہے، اس پر ظلم وستم کررہاہے تو ایسی صورت حا ل میں عورت کو یہ حق ہے کہ شوہر سے خلع کامطالبہ کرےاورمرد کوچاہئے کہ خلع قبول کرکے اس کو آزاد کردے۔ورنہ اگر وہ عورت کے مطالبہ خلع کو قبول نہیں کرتاہے کہ تو بسااوقات وہ گنہگارہوگا۔حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:جب عورتیں تم سے خلع مانگے تو تم انکارنہ کرنا۔(سنن کبریٰ للبیھقی،حدیث نمبر:١٤۸٥٤)
خلع کے صحیح ہونے کے لیے شوہر کا راضی ہونا ضروری ہے۔مرد یا عورت میں سے کوئی ایک ایجاب کرے تو دوسراقبول کرے۔ مثال کے طورپرعورت کہے: "میں مہر واپس کرتی ہوں،یا مہر معاف کرتی ہوں۔ مجھے خلع دے دیں”اور شوہراسی مجلس میں کہے کہ ہاں ٹھیک ہے۔یاکہے: “میں نے خلع قبول کیا”۔تو خلع صحیح ہوجائے گا۔اگراسی مجلس میں نہ کہے بلکہ بعد میں کہے تو خلع نہیں ہوگا۔
عام طورپر وکیل حضرات جو خلع نامہ بناتے ہیں، اس میں خلع کے الفاظ لکھتے ہیں، ایجاب وقبول بھی ہوتاہے، اس میں میاں بیوی سے الگ الگ اوقات بلکہ بعض دفعہ چنددنوں کے بعد سائن لیتے ہیں،اس طرح خلع نہیں ہوتاہے۔ اسی طرح بعض دفعہ مرد یاعورت خلع نامہ بناکر دوسرے فریق بذریعہ پوسٹ بھیج دیتے ہیں ، وہ وصول کرنے کے بعد دو چاردن غور وفکرکرکے خلع نامہ پر دستخط کرتے ہیں، چوں کہ اتحاد مجلس نہیں ہوتاہے اس لئے ایسی صورت میں خلع نہیں ہوگا۔ چوں کہ یہ حلال وحرام کا مسئلہ ہے اس لئے بہتر ہے کہ معتبر علماء کرام اورمعتبر قاضی، شرعی اور معتبر دارالقضاء کی نگرانی میں خلع نامہ بنایاجائے۔
عام طورپرخلع عوض کے ساتھ ہوتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ عوض جائزاورحلال مال ہو، جیسےمہر واپس کرنا،یامعاف کردینا، یاعدت خرچ معاف کردینا،یا کچھ رقم دینا،لیکن بہرحال مہر سے کم ہو۔چوں کہ خلع باہمی رضامندی سےایجاب وقبول کے ذریعہ نکاح ختم کرنے کانام ہے، اس لئے جس طرح مرد کاراضی ہوناضروری ہے اسی طرح عوض کے لئے بھی بیوی کا راضی ہوناضروری ہے۔اگر عورت عوض پر راضی نہ ہو، یا خواہی نہ خواہی راضی ہوجائے، یا اس پر ظلم وستم ہواہو، ظلم سے نجات کے لئے جب اس نے خلع لینا چاہا تو اس کو مہر واپس کرناپڑا، یامہر معاف کرناپڑا،یاعدت خرچ معاف کرناپڑا،یاکچھ مال دینا پڑا تو ایسی صورت میں اس پر مزید ظلم ہوگا۔ ایسامال مرد کے لئےحلال نہیں ہوگا۔اسی لئے اگر خلع بغیرکسی عوض کے ہو، یا مرد عورت سے مہرواپس نہ لے یامعاف نہ کرائے ،بلکہ اداکرے،ساتھ میں عدت خرچ بھی دے۔وسعت ہوتو متاع بھی دے۔تو مرد کو خوب خوب ثواب ملے گا اورنکاح بھی ختم ہوجائے گا۔اس سے بہت ممکن ہے کہ عورت کے دل میں مر د کی محبت جاگ اٹھے اور خلع نہ لیناچاہے یا خلع کے بعد جب احساس ہو تواسی مردسے نکاح کرلے۔
ہندوستان کے ماحول میں عام طورپر عورت اس وقت خلع کامطالبہ کرتی ہے جب اس پر ظلم وستم کے پہاڑے توڑے جاتے ہیں، شوہر،ساس اورنند کی طرف سے ذہنی اورجسمانی اذیت دی جاتی ہے،جہیز کا مطالبہ کیاجاتاہے،کم جہیز لانے کاطعنہ دیاجاہے۔ ایسی صورت میں اگر عورت سے کہا جائے کہ تم لئے ہوئے مہر کو واپس کرو،یا شوہر نامدار کو دو چار لاکھ روپئے لاکر دو، تب خلع ملے گا، توعورت پر مزید ظلم کہلائے گا۔یا وہ یہ سوچنے پر مجبورہوگی کہ اگر دوچارلاکھ روپئے دینے کے بعد ہی خلع ملے گاتو اتنی رقم دیکر شوہر کےساتھ ہی کیوں نہ رہ لیاجائے ۔اس لئے قاضی،حَکم، پنچ وغیرہ کو پہلے یہ طے کرناچاہئے کہ کیا واقعی عورت پر ظلم ہواہے یانہیں؟ اگر ظلم ہواہے تو اس سے مہر واپس دِلاکر،یامعاف کرواکر ،یاکچھ رقم (جو عام طورپر کچھ نہیں ہوتاہے)کامطالبہ کرکےاس پر مزید ظلم نہ کیاجائے۔
بعض حضرات کاخیال ہے کہ خلع میں سب کچھ معاف ہوجاتاہے یاکچھ دینانہیں پڑتاہے،حالاں کہ یہ اس وقت ہے جب عورت ہی کاقصورہو،اوروہ خلع طلب کرے۔ ورنہ اگر عورت کاقصورنہ ہو،اس پر ظلم ہواہو تو کچھ بھی معاف نہیں ہوتاہے؛بلکہ اگر عورت خواہی نہ خواہی زبان سےمعاف بھی کردے تو بھی عنداللہ معاف نہیں ہوگا، آخرت میں مواخذہ ہوگا۔اسی وجہ سے حضرت امام محمد ؒ کامسلک یہ ہے کہ خلع میں میاں بیوی نے جن حقوق کی معافی کےبارےمیں طے کیا ہے صرف وہی معاف ہوں گے، دیگرحقوق باقی رہیں گےاورعصر حاضرکے علماء کرام نے اسی کوراجح قراردیاہے۔(مجموعہ قوانین اسلامی، باب خلع)
بہرحال خلع کی تکمیل کے بعد نکاح ختم ہوجاتاہے،عورت عدت (تین حیض یا وضع حمل)کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہے۔تاہم اگر یہی دونوں میاں بیوی رجوع ہوناچاہیں تو عدت کے دوران اور عدت کے بعدبھی نئے مہرکے ساتھ نیا نکاح کرسکتے ہیں۔بشرطیکہ پہلے دو طلاق نہ دی ہو۔ کیوں کہ خلع ایک طلاق بائن کے حکم میں ہے،پس اگر پہلے دو طلاق دیدی تھی، پھر خلع (طلاق بائن)ہوا توگویااب تین طلاق ہوگئیں، اب نکاح بھی نہیں ہوسکتاہے۔فقط
Comments are closed.