علامہ انور شاہ کشمیری سیمینار کا انعقاد _ ایک مبارک اقدام

مولانا بدر الحسن القاسمی کویت

امام العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیری کی ذات علوم وفنون کی جامعیت ہر فن میں مہارت حافظہ کی بے مثال قوت اور مختلف علوم کے استحضار کے لحاظ سے تاریخ کی نادرہ روزگار شخصیتوں میں سے ایک تھی

ایسی بے مثال شخصیت صدیوں میں کبھی پیداہوتی ہےاور قدرت الہی کی خاص نشانیوں میں شمار کی جاتی ہے

شاہ صاحب بارا ن رحمت کی طرح آئے اور ایک عالم کو فیض یاب کرکے اس دنیا سے رخصت ہوئے

آپکے وجود نے علم وتحقیق کی ایک ایسی دنیا آباد کی جسکی نظیر گزشتہ صدیوں میں بھی آسانی سے نہیں مل سکتی

جس کس پر بھی آپ کی نظر عنایت پڑگئی اور جس جوہر قابل نے بھی آپ سے اکتساب فیض کی کوشش کی اور آپ سے قریب ہوا وہ اپنے زمانہ میں علم وتحقیق کا ایک دائرہ بن گیا

علامہ سید مناظر احسن گیلانی علامہ سید محمد یوسف بنوری شیخ الحدیث مولانا سید فخر الدین احمد مراد آبادی مولانا بدر عالم مہاجر مدنی حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب قاسمی مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندی مولانا احمد رضا بجنوری مولانا محمد ادریس کاندھلوی مولانا شمس الحق افغانی مولانا سعید احمد اکبر آبادی مفتی عتیق الرحمن عثمانی مولانا حبیب الرحمن اعظمی یہ سب اپنی اپنی جگہ پردائرہ علم کی حیثیت رکھتے ہیں اور سب ذات انوری کے پرتو اورشمع انوری کی ضیاء پاشیوں سے منور ہونے والے روشنی کے مینار ہیں

اور جو لوگ ہماری طرح حضرت شاہ صاحب کی رویت اور فیض صحبت سے محروم رہ کر بھی انکی محبت میں گرفتار اور انکی عقیدت سے سرشار ہیں وہ انکے علمی خوان یغما کی زلہ ربائی ہی میں اپنی یافت پر خوش ہیں اور جوکچھ بھی گرفت میں آجائے اور انکے افادات کاجتنا حصہ بھی انکی سمجھ آجائے اسی میں مگن رہتے ہیں

ان کیلئے دار العلوم دیوبند وقف کے عالی مقام مہتمم حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب کی طرف سے علامہ کشمیری سیمینار منعقد کرنے کا یہ اقدام نہایت قابل ستائش اور لائق تحسین ہے

امید ہیکہ اس سیمینار میں حضرت شاہ صاحب کے علوم ومعارف کے بہت سے نئے گوشے سامنے آ ئینگے

زہر بیشہ گماں مبر کہ خالیست

شاید کہ پلنگے خفتہ باشد

اس لئے امید یہی ہےکہ سیمینار میں شریک ہونے والے علماء نے اپنے قیمتی مقالات میں حضرت شاہ صاحب کے افادات کے بارے میں بہت سے نئے پہلووں پر روشنی ڈالی گئی ہوگی اور ان سے استفادہ کے طریقوں کی بھی نشاندہی کی ہوگی

میرے نزدیک تو سیمینار کےاس اہم

مو قع پر درج ذیل امور قابل توجہ ہیں جن پر سیمینار کے بعد فورا عمل شروع کرنے کی ضرورت ہے :

1 خاص طور پر "فیض الباری” اورآپکی سوانح "نفحة العنبر” کے ایسے نسخہ شائع کیا جائے جو طباعت کی غلطیوں سے پاک ہو اورجس میں طباعت کے ان اصولوں کی رعایت کی گئی ہو جو سمجھنے میں معاون ہوتے ہیں

2 مولانا مناظر احسن گیلانی کی لکھی ہوئی تقریر صحیح مسلم اور مولانا قاری محمد طیب کی لکھی ہوئی دس کالمی تقریر انوری کو حاصل کر کے شائع کرنے کی کوشش کی جائے

3 شاہ صا حب کی تمام تصنیفات عقیدة الاسلام ، تحية الاسلام فصل الخطاب مع فاتحة الكتاب

نيل الفرقدين مع بسط اليدين

اكفار الملحدين ، مشكلات القران ،

كشف الستر عن صلاة الوتر ،خاتم النبيين وغیرہ کی تصحيح اور تحقیق کے بعد طباعت واشاعت کا اہتمام کیا جائے

4 سنن ابی داؤد وسنن ترمذی وسنن ابن ماجہ وغیرہ کی عربی تقریروں کو نظر ثانی کے بعد از سرنو ترتیب دیکر شائع کیا جائے

5 "الاتحاف لمذهب الاحناف ” یعنی علامہ انور شاہ کشمیری کی وہ تعلیقات وحواشی جو انہوں نے محدث نیموی کی "آثار السنن مع التعلیق الحسن ” پر لکھے ہیں اور اس لحاظ سے وہ بیحد اہم ہیں کہ تقریبا پچیس سال تک علامہ اس میں ترمیم و اضافہ کرتے رہے ہیں گوکہ وہ صرف اشاروں اور حوالوں کی زبان میں تھے

اب جبکہ وہ تخریج وتنسیق کے بعد جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے ادارہ” دعوت و تحقیقات اسلامی "کی طرف سے کتاب دو جلدوں میں شائع ہوکر منظر عام پر آگئی ہے

اب ضرورت اس بات کی ہیکہ یہ واضح کیا جائے کہ علم حدیث سے شغف رکھنے والوں اور خاص طور پر فقہائے احناف کیلئے اس میں خاص بات کیا ہے ؟

اوران میں استدلال کے نئے پہلو کیا ہیں ؟

جنکے لئے علماء کی طرف سے اس کا انتظار انتہائی بے صبری کے ساتھ سالہا سال سے کیا جارہا تھا ؟

یہ تو پہلے مرحلے کے کام ہیں اس کے بعد دوسرے مرحلہ کےکام کی نوعیت یہ ہونی چاہیے :

1 حضرت شاہ صاحب کی مختلف علوم وفنون میں امامت کو سامنے

رکھ کر عربی زبان اور ادبی علوم میں انکی مہارت شاعری کےذوق انکے حافظہ میں موجود عربی اشعار کے ذخیرہ کا ذکر کیاجائے

اور شرعی نصوص کی تفسیر میں انکو بطور شواہد پیش کرنے میں انکی انفرادیت کو بیان کیا جائے

قرآن کریم کی بلاغت اور اعجاز کے بارے میں شاہ صاحب کے خاص نظریہ کی تفصیل سے مثالوں کے ذریعہ وضاحت کی جائے

2 اصول فقہ میں شاہ صاحب کے طریق کار کی پیروی علامہ ابن الہمام کی ” التحریر ” کی شاہ صاحب کی نظر میں اہمیت اورفقہی قواعد سے استدلال کے معاملہ میں آپکی بصیرت پر مبنی طریقہ کو متعارف کرایا جائے

اسی طرح تنقیح مناط تخریج مناط اور تحقیق مناط کے درمیان فرق کی مثالوں کے ذریعہ وضاحت کی جائے اور ائمہ مجتہدین کے مدارک اجتہاد کو سامنے رکھ کر ہر ایک کے استدلال کے الگ الگ طریقوں پر شاہ صاحب کی نظر اور ان سے استفادہ کا ان کا انداز واضح کیا جائے

3 فن جرح وتعدیل اورعلم اسماء الرجال کے اصولوں کا صحیح استعمال اور انصاف کے ساتھ انکی تطبیق تاکہ کسی راوی کو اسکے فقہی مسلک کی بنیاد پر یا اسکے اشعری یا ماتریدی مشہور ہونے کی وجہ سے انکو نقد کا نشانہ نہ بنایا جائے اور اسے ناقابل اعتبار نہ قرار دیا جائےجبکہ بعض بڑے محدثین نے شیعہ اور خوارج کی روایتوں کو بھی اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے اس بارے میں بعض ناقدین حدیث کے یہاں کافی بے اعتدالی پائی جاتی ہے اور شاہ صاحب نے اس پر کھل کر تنبیہ کی ہے

4 عقائد وعلم کلام کے پیچیدہ مسائل کےحل اور صفات باری کے بارے میں تعطیل و تجسیم سےبچ کر شرعی نصوص کی ایسی تشریح وتوجیہ جو صحابہ وتابعین اورائمہ مجتہدین کی تشریح کے مطابق ہو

5 شیخ اکبر محی الدین ابن عربی مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ دہلوی اور دیگر علمائے حقائق کے کشفی علوم اور نظریا ت کی روشنی میں بعض متشابہات

کی توجیہ اور نصوص کی مشکلات کے حل میں شاہ صاحب کے طریق کار کی پیروی جس میں احتیاط کا پہلو غالب ہے اور ہر نظریہ کی تائید سے اجتناب کیا گیا ہے

6 فتنہ قادیانیت کے خلاف حضرت شاہ صاحب کی غیرت وحمیت کو سامنے رکھ کر اور ان کے جمع کردہ علمی مواد کی روشنی میں عصر حاضر کے دیگر فتنوں کے سدباب کیلئے خاص طور پر انکی تصنیف

” اکفار الملحدين ” کی روشنی میں رہنما اصول طے کرنا اور باطل عقیدوں کی تردید کا مضبوط نظام قائم کرنا

امید ہیکہ یہ سیمینار ایک سنگ میل ثابت ہوگا اور وقف دارالعلوم اور جامعہ امام انور دونوں کے سامنے اس سیمینار کے بعد علامہ انور شاہ کشمیری کے علوم معارف کی خدمت کا نیا اور وسیع میدان ہوگا، فکر و عمل کے نئے گوشے سامنے آئیںگے اور علم و تحقیق کی نئی راہیں کھلین گی (ان شاء اللہ)

واللہ من وراء القصد ؛

_________

عنقا را بلند است آشیانہ

*******************

علامہ انور شاہ کشمیری کی علمی عبارتوں کی دشواری اور تعبیرات کے ایجا ز کی وجہ سے سمجھنے میں دقت و صعوبت کے بارے میں مولانا محمد یوسف بنوری صاحب لکھتے ہیں :

ان عامة صنيعه في ترصيفه و

ترصيعه وبما يشبه في ايجازه واطنابه كلام سيبويه في "كتابه ” او ابن الهمام في” تحريره ” ولكن اين السيرافي ليسير في مسيره ؟ واين ابن اميره لتقريره وتحبيره ؟ واين يؤتي باميره لتصويره وتيسيره فدونك اعتبارا بمن غبر واستعبارا بالعبر ، واياك والملام علي احد من الأعلام فانهم علي علم وقفوا ، وببصر نافذ قد كفوا فلا تهرف بما لاتعرف و احمد عند التنكير ينصرف

پھر دو مثالیں ذکر کی ہیں کہ وہ کس طرح لکھتے تھے اور علمی مسائل میں ان کا انداز بیان ايسا ہوتا تھا کہ بہت سے علماء کیلئے بھی انکے مقصد تک پہنچنا اور انکے استعاروں اور کنایوں کو سمجھنا آسان نہیں

ہوتا تھا :

قال في فصل الخطاب :

وهذا الذي ذكرته الان اخر ماينفصل البحث به عندي في حديث ابن اسحاق عن مكحول عن ابن الربيع ابين من فلق الصبح واوضح من فرق الصديع

واذا تجاوبت الشحارير علي الأيكة وحدثت، وتابعها العنادل بموصول شجي وبينت، وصدقها القطا وعدلت، فليس الا الاسفار عن وجه المني فليدفع عن تغليس مزدلفة الي مني

وليتمثل ماقاله الشافعي رحمه الله

ياراكبا قف بالمحصب من مني

واهتف بقاطن خيفها والناهض

واني لم ارد الرجم بالغيب ولا الرمي في سواد الليل فانه لا تجزئ عند اصحابنا ” (ص٩٠)

٢ وقال في” نيل الفرقدين ":

قلت وهذا الذي اورده الحاكم معارضا لأثر عمر رضي ال للہ عنه في تركه الرفع لاغيره كما سيأتي استبعادا منه ان يرفع الرفع مرفوعا ثم لا يرفع هو

ولم يدر ان في الباب محل جر الجوار وتنازع الفعلين فلعل عمر جاء فيه بالعدل وكان غير منصرف عن المعرفة بالسببين وان شئت الأخبار بالذي يدور معه الحق فعلا وتر كا

( ص ١٠٦)

Comments are closed.