علامہ کشمیریؒ کاتعلیمی نظریہ تمام لوگوں کے لیے مشعل راہ ہے:مولاناانیس الرحمن قاسمی

 

علامہ انور شاہ کشمیریؒ سیمینارمیں حضرت امیرشریعت کی شرکت اورمقالہ کی پیشی

14دسمبر:2025ء(پھلواری شریف،پٹنہ)

دارالعلوم دیوبند وقف میں امام العصر حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ پر ایک تفصیلی دوروزہ سیمینار منعقد ہوئی، جس میں علامہ کشمیریؒ کی علمی وسعت، فکری بصیرت اور تعلیمی خدمات پر مبنی ملک وبیرون ملک کے صاحب قلم نے مقالہ پیش کیا۔ اس سیمینارکی دوسری نشست میں ممتاز عالمِ دین مرتب فتاویٰ علماء ہندامیر شریعت حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی کارگزار صدرآل انڈیا ملی کونسل نے علامہ انورشاہ کشمیری ؒ کے تعلیمی نظریہ پراپناوقیع اوربیش قیمت مقالہ پیش کیا۔مولانانے اپنے مقالہ میں انورشاہ کشمیریؒ کے نظریہئ تعلیم کے خدوخال کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایاکہ علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا نظریہئ تعلیم اسلامی تعلیمات کے بنیادی ”اقرأ“سے ماخوذ تھا، جس میں علم کی کوئی تنگ دائرہ بندی نہیں پائی جاتی۔ ان کے نزدیک قرآن و حدیث، فقہ و کلام کے ساتھ ساتھ طب، فلسفہ، منطق، ریاضی، ہیئت، تاریخ، جغرافیہ اور جدید سائنسی علوم سب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتیں ہیں، بشرطیکہ ان سے انسان خود شناسی کے ذریعے خدا شناسی تک پہنچے۔ مقالہ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ علامہ کشمیریؒ نے دارالعلوم دیوبند کے اس تعلیمی نظام کی نمائندگی کی جو اعتدال، جامعیت اور وسعتِ فکر کا حسین امتزاج ہے۔مقالہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ علامہ کشمیریؒ نہ صرف علومِ قرآن و حدیث میں یکتائے روزگار تھے؛ بلکہ انہیں عصری علوم، قدیم فلسفہ، جدید سائنس اور متعدد زبانوں پر بھی گہری نظر حاصل تھی۔ وہ اردو، فارسی، عربی، انگریزی اور عبرانی زبانوں سے واقف تھے اور زبانوں کو دین کی دعوت اور خدمت کا مؤثر ذریعہ سمجھتے تھے۔ مقالہ میں ان کے اس قول کا حوالہ دیا گیا کہ ہندوستان میں اسلام کی خدمت کے لیے اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں لکھنا اور بولنا ناگزیر ہے۔مولانا انیس الرحمن قاسمی نے مقالہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے برصغیر کے فکری منظرنامے میں میکالے کے مغربی اور مذہب بیزار نظامِ تعلیم کا علمی اور فکری سطح پر بھرپور مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دارالعلوم دیوبند اور علامہ کشمیریؒ جیسی نابغہئ روزگار شخصیات نہ ہوتیں تو برصغیر میں دینی تشخص اور اسلامی فکر شدید خطرات سے دوچار ہو سکتی تھی۔ مولانا قاسمی نے اس بات پر زور دیا کہ علامہ کشمیریؒ کا نظریہئ تعلیم صرف مدارس تک محدود نہیں؛ بلکہ جدید تعلیمی اداروں کے لیے بھی ایک رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔مولانانے اپنے مقالہ میں یہ بھی واضح فرمایا کہ علامہ کشمیریؒ علومِ طب اور سائنسی تحقیقات سے گہری دل چسپی رکھتے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ طبِ نبوی کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے میڈیکل سائنس میں مہارت ضروری ہے۔ اسی طرح جدید سائنسی انکشافات کو وہ اسلامی عقائد کی تائید اور توضیح کا ذریعہ سمجھتے تھے، نہ کہ ان کے لیے خطرہ۔خلاصہ یہ کہ علامہ انور شاہ کشمیری کا نظریہئ تعلیم چار بنیادوں پرتھا (۱)وہ ہر طرح کے علم نافع دینی ودنیوی اصول کے قائل تھے۔(۲)علم کے باب میں عصری علوم کے لیے وہ ہر ماہر فن سے یکساں تعلیم دینے اورلینے کے قائل تھے، چاہے اس کا مذہب کوئی بھی ہو۔(۳)وہ تعلیم کو مفت دینے کے قائل تھے،خاص طور پردینی علوم کو (۴)غریب ونادارطلبہ کی مالی کفالت کے قائل تھے اوریہی اسلام کا نظریہئ تعلیم ہے،جس پر ساڑھے چودہ سوبرسوں سے ساری دنیا میں مسلمان عمل کرتے ہیں اوراس کے اثرات تمام دنیا کے نظام تعلیم پر پڑااورآج دنیا اس طریقہ کی افادیت کو نہ صرف محسوس کررہی ہے،بلکہ اختیاربھی کی ہوئی ہے۔مولاناقاسمی نے اخیرمیں اس عظیم الشان علمی سیمینارکوعلامہ کشمیریؒ بہترین خراج عقیدت قراردیتے ہوئے اس سیمینار کے روح رواں دارالعلوم وقف دیوبندکے مہتمم حضرت مولاناسفیان قاسمی،دارالعلوم وقف کے نائب مہتمم مولاناڈاکٹرشکیب قاسمی اوروقف دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ اورکارکنان کو سیمینار کے انعقادپر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی اورامید ظاہر کی کہ یہ سیمینار اپنے مقصدمیں کامیاب ہوگااورعلامہ کشمیری نے جو تعلیمی تحریک برپاکی تھی اس کی روشنی ہر گھر تک پہنچے گی۔

Comments are closed.