مویشی چوری کے بڑے گینگ کا پردہ فاش، 3 مویشی اور پک اَپ وین سمیت 4 بدنام زمانہ گرفتار

 

بنولی کا سابق نائب مکھیا ماسٹر مائنڈ نکلا، جیل میں آرمس ایکٹ کے ملزم سے دوستی کے بعد وارداتوں کو دیا انجام

جالے: محمد رفیع ساگر

سِمری تھانہ علاقہ میں گزشتہ دو ماہ سے مسلسل پیش آ رہی مویشی چوری کی وارداتوں پر پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک منظم گینگ کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ بنولی اور راجاروَلی گاوں میں گائے، بھینس اور بکریوں کی چوری سے خوف و بے چینی کے ماحول کو ختم کرتے ہوئے پولیس نے تین مویشیوں اور واردات میں استعمال پک اَپ وین کے ساتھ چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ برآمدگی کے دوران دو موبائل فون بھی ضبط کیے گئے ہیں۔

 

پولیس جانچ میں انکشاف ہوا ہے کہ مویشی چوری کے اس پورے نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ بنولی پنچایت کا سابق نائب مکھیا تیج نارائن یادو ہے، جس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر علاقے میں درجنوں مویشیوں کی چوری کو انجام دیا۔ گرفتار دیگر ملزمان میں مَبّی تھانہ علاقہ کے بھلوکا باشندہ اقبال کا بیٹا نیاز، کمتول تھانہ علاقہ کے محمد پور باشندہ نذیر خاں کا بیٹا عمران خاں عرف کالو اور سنگھواڑا تھانہ علاقہ کے چمن پور باشندہ فیروز عالم کا بیٹا آفتاب عالم عرف سونو شامل ہیں۔ تفتیش کے دوران چاروں نے مویشی چوری کی وارداتوں میں اپنی شمولیت تسلیم کرتے ہوئے کئی اور افراد کے ناموں کا بھی انکشاف کیا ہے۔

 

سِمری تھانہ احاطہ میں منعقد پریس کانفرنس میں ایس ڈی پی او صدر (ٹو) ایس کے سُمن اور تھانہ انچارج اروند کمار نے بتایا کہ تیج نارائن یادو نے بنولی کے رام بھجن سہنی کے فارم ہاؤس سمیت متعدد گھروں سے بکریوں کی چوری کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پولیس کے مطابق مختلف مقدمات میں تین مرتبہ جیل جا چکا تیج نارائن یادو کی جیل کے دوران آرمس ایکٹ کے ملزم عمران عرف کالو سے دوستی ہوئی، جس کے بعد جیل سے باہر آ کر باہمی رابطے کے ذریعے پک اَپ وین کا استعمال کرتے ہوئے منظم انداز میں مویشی چوری کی وارداتوں کو انجام دیا جانے لگا۔

 

پولیس نے بتایا کہ 13 دسمبر کی رات راجاروَلی گاؤں میں کسان دھرمیندر مہتو کے مویشی ڈالان سے ایک گائے، ایک بھینس اور ایک بچہ چوری کیے جانے کا واقعہ سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہو گیا تھا۔ فوٹیج کی بنیاد پر پولیس اور ٹیکنیکل ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے سنگھواڑا تھانہ علاقہ کے کلی گاؤں پنچایت کے چمن پور گاؤں سے تینوں مویشیوں کے ساتھ واردات میں استعمال پک اَپ وین برآمد کی اور آفتاب، نیاز اور کالو کو گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں تفتیش کے دائرے کو وسعت دیتے ہوئے ماسٹر مائنڈ تیج نارائن یادو کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

 

مسلسل مویشی چوری کے واقعات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جگناتھ جلا ریڈی کی ہدایت پر ایس ڈی پی او ایس کے سُمن کی قیادت میں خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس میں کمتول انسپکٹر رامیشور صافی، تھانہ انچارج اروند کمار، بسنت کمار، راہل کمار، داروغہ ششی شنکر کمار، وششٹھ کمار، سنجیو کمار، ششی کانت سنگھ اور رام بابو کمار شامل تھے۔ ٹیم کی مسلسل محنت کے نتیجے میں اس گینگ کا انکشاف ممکن ہو سکا۔

 

پولیس کے مطابق عمران عرف کالو کے خلاف کمتول تھانہ میں آرمس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے اور وہ کچھ ہی دن پہلے جیل سے رہا ہوا تھا، جب کہ اس کے مویشی اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے پہلے سے روابط رہے ہیں۔ تھانہ انچارج نے بتایا کہ گرفتار چاروں ملزمان کو عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا ہے، جب کہ برآمد شدہ تینوں مویشیوں کو قانونی کارروائی کے بعد ذمہ نامہ پر ان کے مالک کسان دھرمیندر مہتو کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

Comments are closed.