مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

اے ایم یو کی فیکلٹی ممبر نے بانجھ پن اور تولیدی طب میں ایک سالہ فیلوشپ مکمل کی

 

علی گڑھ، 15 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ زچگی و امراضِ نسواں کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر دیبا خانم نے کرناٹک کی یونیورسٹی آف سری سدھارتھا اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن سے منسلک کامنی راؤ ہاسپٹلز سے بانجھ پن اور تولیدی طب میں ایک سالہ فیلوشپ کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔

 

انھوں نے ہندوستان میں آئی وی ایف اور معاون تولیدی ٹکنالوجی کی سرخیل پدم شری پروفیسر کامنی اے راؤ کی نگرانی میں اعلیٰ درجے کی یہ تربیت حاصل کی ہے۔ اس دوران انہیں نظری اور عملی دونوں پہلوؤں سے جامع تربیت دی گئی، جس میں بانجھ پن کا علاج، گائناکولوجیکل الٹراساؤنڈ، اووم ریٹریول، ایمبریو ٹرانسفر، انٹرا ٹرائن انسیمینیشن اور کم از کم جراحی پر مبنی اے آر ٹی طریقہ کار شامل تھے۔

 

٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے ریسرچ اسکالر نے بین الاقوامی کانفرنس میں بہترین مقالے کا ایوارڈ حاصل کیا

 

علی گڑھ، 15 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ قانون کے سینئر ریسرچ فیلو جنید ملک کوآئی پی ای ایم لاء اکیڈمی، غازی آباد میں اُتّرا یونیورسٹی، ڈھاکہ، اور آر وی یونیورسٹی، بنگلورو کے اشتراک سے منعقدہ چھٹی بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ”قانون اور ٹکنالوجی: اخلاقیات، ضابطہ کاری اور اختراع“ میں عمدہ ترین مقالے کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جنید ملک نے اپنے مقالے بعنوان ”پرائیویسی اور مفادعامہ میں توازن: ہندوستان میں حق فراموشی کا ابھرتا منظرنامہ“ میں ڈیجیٹل عہد میں آئینی اقدار اور ضابطوں کی عصری اہمیت کا جامع تجزیہ پیش کیا۔ وہ اے ایم یو کے شعبہ قانون میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد ناصر کی نگرانی میں تحقیق کر رہے ہیں۔

 

٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو میں گل داؤودی، کولیئس اور گلاب کی دو روزہ نمائش اختتام پذیر

 

علی گڑھ، 15 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ لینڈ اینڈ گارڈنز کے زیر اہتمام منعقدہ گل داؤودی، کولیئس اور گلاب کی دو روزہ نمائش گلستانِ سید میں تقسیم انعامات تقریب کے ساتھ مکمل ہوئی۔

 

اے ایم یو کے سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز تقریب کے مہمان خصوصی تھے، جبکہ پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان، ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر رفیع الدین، اور ڈویژنل فاریسٹ آفیسر، علی گڑھ مسٹر نوین پرکاش شاکیہ معزز مہمانوں میں شامل تھے۔

 

معزز مہمانوں کے ساتھ پراکٹر پروفیسر وسیم علی، پروفیسر وضاحت حسین، پروفیسر عارف انعام، پروفیسر اسد اللہ خان، پروفیسر عبدالحکیم، پروفیسر ارمان رسول فریدی، پروفیسر ایس ایم جاوید، پروفیسر اطہر انصاری، ڈاکٹر محمد دانش، ڈاکٹر بدرالزماں صدیقی، ڈاکٹر تنویر حسین خان، انجینئر تابش، محترمہ شمیم اختر، عمر سلیم پیرزادہ اور ذیشان احمد نے بھی ٹرافیاں اور اسناد تقسیم کیں۔

 

مختلف زمروں میں مجموعی طور پر 45 اوّل انعامات، 51 دوم انعامات اور 67 حوصلہ افزائی انعامات دیے گئے۔ فاتحین کو رننگ کپ بھی پیش کیے گئے۔ گلستانِ سید نے کوئین آف دی شو کے لیے مسز صالحہ فاروقی رننگ کپ، کنگ آف دی شو کے لیے وائس چانسلر رننگ کپ، بہترین سنگل ورائٹی آف کرسنتھیمم کے لیے انشومن بنسل رننگ کپ، اور نمائش میں سب سے زیادہ پوائنٹ حاصل کرنے پر پروفیسر سہیل احمد رننگ کپ حاصل کئے۔ وی سی لاج کو عمدہ ترین گلاب کے لیے پروفیسر بی اے خان رننگ کپ اور کلاس ’جی‘میں بہترین نمائش پر صفدر عباس میموریل رننگ کپ دیا گیا۔ ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کو عمدہ ترین کولیئس کے لیے طاہر حسین رننگ کپ، جبکہ گیسٹ ہاؤس نمبر ایک کو عمدہ ترین ڈبل کرسنتھیمم کے لیے بی ایچ ہاشمی رننگ کپ سے نوازا گیا۔

 

ججوں کے پینل کی قیادت پروفیسر وضاحت حسین نے کی۔ پینل میں پروفیسر یونس خلیل انصاری، پروفیسر ایم بدرالزماں صدیقی، پروفیسر پرویز طالب، پروفیسر مہ لقا رضوی، پروفیسر ایس ایم جاوید، پروفیسر حنا پرویز، پروفیسر ابرار اے خاں، پروفیسر سمیع اللہ خاں، پروفیسر ریاض احمد، پروفیسر محمد اشرف، مس شہلا خالد اور مسٹر عمران احمد شامل تھے۔

 

شعبہ لینڈ اینڈ گارڈنز کے ممبر انچارج پروفیسر انور شہزاد نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا، انعام یافتگان کے ناموں کا اعلان کیا اور نمائش کی کامیاب تنظیم میں تعاون کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔

 

؎٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے شعبہ سوشل ورک نے مرزا پور گاؤں میں ہفت روزہ سرمائی کیمپ کا آغاز کیا

 

علی گڑھ، 15 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سوشل ورک نے اپنے گود لئے گئے گاؤں مرزا پور میں اُنّت بھارت ابھیان کے اہداف اور وِکست بھارت کے وژن سے ہم آہنگ ہفت روزہ سرمائی کیمپ کا اہتمام کیا ہے جو 20 دسمبر تک جاری رہے گا۔

 

کیمپ کا افتتاح پروفیسر اکرام حسین، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز اور چیئرپرسن شعبہ سوشل ورک نے کیا۔ کیمپ میں تعلیم، سویپ سرگرمیوں کے ذریعہ ووٹر بیداری، ماحولیات، صحت اور صفائی جیسے اہم موضوعات پر توجہ دی جائے گی اور مقامی باشندوں کو باخبر کیا جائے گا۔

 

ان سرگرمیوں کی نگرانی کیمپ کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد طاہر کر رہے ہیں، جبکہ فیکلٹی ممبران ڈاکٹر قرۃالعین علی، ڈاکٹر شائنا سیف، ڈاکٹر محمد عارف خان، ڈاکٹر عندلیب، ڈاکٹر محمد عذیر، ڈاکٹر سمیرا خانم اور ڈاکٹر انم آفتاب ان کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ شعبہ کے ریسرچ اسکالرز اور ایم ایس ڈبلیو پہلے اور تیسرے سمسٹر کے طلبہ دیہی آبادی کی فلاح کے لیے مختلف بیداری اور ترقیاتی سرگرمیوں کے انعقاد میں حصہ لے رہے ہیں۔

 

؎٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے فیکلٹی ممبر نے اے او ایم ایس آئی کی سالانہ کانفرنس میں لیکچر دیا

 

علی گڑھ، 15 دسمبر: ڈاکٹر زیڈ اے ڈینٹل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اورل اینڈ میکسیلوفیشل سرجری سے وابستہ پروفیسر جی ایس ہاشمی نے وشاکھاپٹنم میں منعقدہ ایسوسی ایشن آف اورل اینڈ میکسیلوفیشل سرجنز آ ف انڈیا(اے او ایم ایس آئی) کی 49ویں سالانہ کانفرنس میں ”ٹی ایم جے اینکیلوسس اینڈ ایئرویز“کے موضوع پر ایک لیکچر دیا، جس میں انہوں نے ٹیمپیرو مینڈیبیولر جوائنٹ اینکیلوسس اور ایئر وے میں رکاوٹ کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی پیچیدہ طبی کیفیت کے مؤثر علاج کے لیے قبل از آپریشن محتاط جانچ اور منظم جراحی حکمت عملی ضروری ہے۔

 

انہوں نے طبی اعداد و شمار اور کیس اسٹڈیز کے ذریعے واضح کیا کہ موزوں جراحی مداخلت ایئر وے کے حجم اور کارکردگی میں نمایاں بہتری لا سکتی ہے، جس سے مریضوں کے علاج کے نتائج بہتر ہوتے ہیں۔

 

؎٭٭٭٭٭

 

وائس چانسلر کے بدست ے ایم یو کی فیکلٹی ممبر کی کتاب کا اجراء

 

علی گڑھ، 15 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے مرکز برائے فروغِ تعلیم و ثقافتِ مسلمانانِ ہند (سیپی کیمی) میں سوشیالوجی کی گیسٹ فیکلٹی ڈاکٹر اصفیہ کریمی کی تصنیف ”اِن پرسوٹ آف ڈیجیٹل انکلیوژن اِن انڈیا“ کا اپنے دفتر میں اجراء کیا۔ اس موقع پر پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان بھی موجود تھے۔

 

اس کتاب میں ہندوستان کے ای گوورننس نظام اور ڈیجیٹل خدمات تک عوامی رسائی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں بالخصوص دلتوں اور معاشی طور پر کمزور طبقات اور پسماندہ برادریوں کو درپیش چیلنجوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔مصنفہ نے ڈیجیٹل رسائی کی راہ میں حائل دشواریوں کا ذکر کرتے ہوئے مساوی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ جامع پالیسی حکمتِ عملیوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

 

؎٭٭٭٭٭

 

پروفیسر صبا خان اے ایم یو کورٹ کی رکن مقرر

 

علی گڑھ، 15 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ ہوم سائنس کی چیئرپرسن پروفیسر صبا خان کو سربراہان شعبہ کی سینیارٹی کی بنیاد پر اے ایم یو کورٹ کا ممبر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ آئندہ تین سال یا چیئرپرسن کے عہدے پر فائز رہنے تک کی مدت کے لئے یونیورسٹی کورٹ کی ممبر رہیں گی۔

 

؎٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے شعبہ معالجات میں معدہ و آنت کی صحت پر مبنی قومی کانفرنس کا اہتمام

 

علی گڑھ، 15 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے شعبہئ معالجات نے ”معدہ اور آنت کی صحت کے تئیں انضمامی نقطہ نظر“موضوع پر قومی کانفرنس کا اہتمام کیا۔

 

مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے شعبہ کے چیئرپرسن اور آرگنائزنگ سکریٹری پروفیسر بدرالدجیٰ خان نے شعبہ کی تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کا ذکر کیا۔ انھوں نے شعبہ کے سابق چیئرپرسن اور سبکدوش استاد پروفیسر مصباح الدین صدیقی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کی تعزیت میں حاضرین نے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ شعبہ امراضِ جلد و زہراویہ کے چیئرپرسن ڈاکٹر محمد محسن نے تعزیتی قرارداد پیش کی۔

 

کانفرنس میں سی سی آر یو ایم کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر این ظہیر احمد اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر یونس افتخار منشی نے بطور خاص شرکت کی۔ انہوں نے معدہ و آنت کے امراض کے بڑھتے ہوئے رجحان اور ان کی روک تھام و علاج میں یونانی طب کے کردار پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر احمد نے یونانی طب کی تحقیق، اشتراکِ عمل اور عالمی سطح پر فروغ کے لیے سی سی آر یو ایم کی کاوشوں کا بھی ذکر کیا۔

 

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے کانفرنس کے موضوع کو بروقت قرار دیا اور طلبہ کو تحقیق میں یکسوئی اور لگن کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ آخر میں پروفیسر تنزیل احمد نے کلماتِ تشکر ادا کئے۔

 

کانفرنس میں جے این ایم سی ایچ، اے ایم یو کے ڈاکٹر محمد محسن اور ڈاکٹر حسینی ایچ حیدر کے خصوصی خطبات شامل تھے۔ اس موقع پر 150 سے زائد اورل اور پوسٹر پرزنٹیشن ہوئے۔ پوسٹ گریجویٹ اسکالرز کو سات بیسٹ پیپر اور پوسٹر ایوارڈپیش کئے گئے۔

 

؎٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کی دو ٹیمیں اسمارٹ انڈیا ہیکاتھون کے فائنل کے لیے منتخب

 

علی گڑھ، 15 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کی دو ٹیمیں اسمارٹ انڈیا ہیکاتھون 2025 کے فائنل کے لیے منتخب کی گئی ہیں، جو 8 سے 12 دسمبر تک چنئی نوڈل سینٹر، تمل ناڈو میں منعقد ہوگا۔

 

ٹیم ’نیورا‘ اور ٹیم ’دی وژنرز‘ قومی سطح کے اس مقابلے میں کالج کی نمائندگی کریں گی۔ یہ مقابلہ حکومتِ ہند کی وزارتِ تعلیم کے انّوویشن سیل کا ایک اہم اختراعی پروگرام ہے، جو اے آئی سی ٹی ای کے اشتراک سے منعقد کیا جاتا ہے۔

 

ٹیم نیورا کا پروجیکٹ پارکنسنز، الزائمر اور مرگی جیسے اعصابی امراض کی بروقت تشخیص میں مدددینے کے لئے مصنوعی ذہانت پر مبنی تشخیصی نظام سے تعلق رکھتا ہے، جب کہ ٹیم دی وژنرز نے مصنوعی ذہانت پر مبنی آئی او ٹی سسٹم تیار کیا ہے، جو روایتی سرکٹ بریکرز کا متبادل ہے اور لائن ٹوٹنے کی صورت میں لو ٹینشن بجلی کی لائنوں میں خرابی کی نشاندہی کرتاہے۔ یہ نظام خرابی کی شناخت، فوری شٹ ڈاؤن اور عوامی تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔

 

کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد مزمل نے دونوں ٹیموں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے قومی سطح کے اس مقابلے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس سے قبل کالج میں ستمبر 2025 میں ایک ہیکاتھون منعقد کیا گیا تھا، جس کی رہنمائی پروفیسر اکرم خان اور جناب محمد عمران نے کی، جس میں 23 ٹیموں نے شرکت کی۔ منتخب ہونے والی دونوں ٹیمیں اب اسمارٹ انڈیا ہیکاتھون کے فائنل میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گی۔

 

؎٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے سینئر سکنڈری اسکول گرلز کی طالبہ نے اسٹیٹ کوان کیڈو چیمپیئن شپ میں سونے اور چاندی کا تمغہ جیتا، نیشنل چیمپیئن شپ کے لئے منتخب

 

علی گڑھ، 15 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینئر سیکنڈری اسکول (گرلز) کی گیارہویں جماعت کی طالبہ علمہ مقصود انصاری نے حال ہی میں سہارنپور میں منعقدہ اسٹیٹ کوان کیڈو چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک سونے اور ایک چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ علمہ نے سیمی کانٹیکٹ مقابلے میں گولڈ میڈل اور فل کانٹیکٹ زمرہ میں سلور میڈل جیتا۔ اس عمدہ کارکردگی کے نتیجے میں انہیں نیشنل کوان کیڈو چیمپئن شپ کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔

 

علمہ کی اس کامیابی پر سینئر سیکنڈری اسکول (گرلز) کی پرنسپل محترمہ نغمہ عرفان نے مبارکباد پیش کی اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے قومی سطح کے مقابلے کے لیے مزید محنت اور یکسوئی سے تیاری کی ترغیب دی۔ انہوں نے اساتذہ سے بھی اپیل کی کہ وہ طلبہ میں کھیلوں کی صلاحیتوں کی نشاندہی کریں اور انہیں نکھارنے میں فعال کردار ادا کریں۔

 

؎٭٭٭٭٭

 

پروفیسر انجم پرویز اے ایم یو کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے پرنسپل مقرر

 

علی گڑھ، 15 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ میڈیسن کے پروفیسر انجم پرویز کو آئندہ پانچ سال کے لیے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی) کا پرنسپل مقرر کیا گیاہے۔

 

پروفیسر پرویز تدریس و تحقیق اور طب کا تقریباً تین دہائیوں کاتجربہ رکھتے ہیں اور انہوں نے اے ایم یو میں متعدد اہم علمی اور انتظامی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔ وہ شعبہ میڈیسن کے چیئرمین، گیسٹرونٹرولوجی یونٹ کے انچارج، ڈائریکٹر (ہیلتھ) میڈیکل اٹینڈنس اسکیم، اور جے این ایم سی میں ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ رہ چکے ہیں۔ علاوہ ازیں، وہ یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل اور یونیورسٹی کورٹ کے رکن بھی رہے ہیں۔

 

ایک ماہر معالج اور محقق کے طور پر پروفیسر پرویز نے متعدد ایم ڈی مقالوں کی رہنمائی کی ہے اور قومی و بین الاقوامی ریویو شدہ جرائد میں تحقیقی مقالے شائع کیے ہیں۔ وہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی، عمان میں انٹرنل میڈیسن کے پروفیسر بھی رہ چکے ہیں۔

 

؎٭٭٭٭٭

 

مولانا آزاد لائبریری، اے ایم یو میں دو روزہ کتب میلہ کا آغاز

 

علی گڑھ، 15 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی مولانا آزاد لائبریری کے لان میں دو روزہ کتب میلے کا افتتاح اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کیا۔ اس موقع پرطلبہ، ریسرچ اسکالرز اور فیکلٹی ممبران کثیر تعداد میں موجود تھے۔

 

میلے میں معروف قومی اور بین الاقوامی پبلشرز نے مختلف موضوعات اور زبانوں میں متنوع کتابیں پیش کی ہیں، جن میں ادب، انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، بزنس و کامرس، پائیدار ترقی، ہیلتھ سائنسز، زراعت، توانائی، ماحولیات، موسمی تبدیلی، لائبریری و انفارمیشن سائنسز، معیشت، اور عمدہ حکمرانی جیسے موضوعات شامل ہیں۔

 

اسٹالز کا جائزہ لیتے ہوئے پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا کہ کتابوں میں ایک لازوال کشش ہوتی ہے جو تیز رفتاری سے ترقی پذیرٹکنالوجی کے باوجود بے مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میلہ قارئین اور کتابوں کو ایک چھت کے نیچے لاتا ہے، جس سے علم اور اس کے متلاشیوں کے درمیان تعلق مضبوط ہوتا ہے۔

 

یونیورسٹی لائبریرین پروفیسر نشاط فاطمہ نے کہا کہ یہ میلہ طلبہ، محققین اور فیکلٹی ممبران کے لیے ایک متحرک پلیٹ فارم ہے جہاں وہ اپنی دلچسپی کے موضوعات کی کتابیں دیکھ سکتے ہیں اور ان کا انتخاب کرسکتے ہیں۔

 

ڈپٹی لائبریرین ڈاکٹر حبیب الرحمٰن خان نے بتایا کہ اس سال منتخب پبلشرز اور وینڈرز کے پچاس سے زائد اسٹالز شامل ہیں، جو وزیٹرز اور پبلشرز کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور توقعات کی عکاسی کرتے ہیں۔ کتاب میلہ 16 دسمبر کی شام 6بجے تک جاری رہے گا۔

 

؎٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کی وکٹوریہ گیٹ نرسری کے فیض گیٹ پر پودوں کے سیلز کاؤنٹر کا افتتاح 16 دسمبر کو

 

علی گڑھ، 15 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کا شعبہ لینڈ اینڈ گارڈنز، وکٹوریہ گیٹ نرسری کے فیض گیٹ پر پودوں کی فروخت کے ایک کاؤنٹر کا آغاز کررہا ہے۔ اس کا باقاعدہ افتتاح 16 دسمبر کو صبح گیارہ بجے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کریں گی جب کہ مہمانانِ اعزازی کے طور پر سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز، پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان اور رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر بھی موجود رہیں گے۔

 

شعبہ لینڈ اینڈ گارڈنز کے ممبر انچارج پروفیسر انور شہزاد نے کہا کہ پودوں کے سیلز کاؤنٹر کا آغاز کیمپس میں سبز اقدامات کو فروغ دینے اور پائیداری کی ثقافت کو مستحکم کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ یہاں سے خواہشمند افراد معیاری پودے خرید سکیں گے۔

 

؎٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے آر سی اے نے قومی سطح کے لائف سائنس امتحانات کے لئے خصوصی رہنمائی سیشن کا اہتمام کیا

 

علی گڑھ، 15 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی ریزیڈینشل کوچنگ اکیڈمی (آر سی اے) نے ”لائف سائنسز میں قومی سطح کے مسابقتی امتحانات کے لیے رہنمائی و مینٹرشپ“کے عنوان پر ایک آن لائن پروگرام منعقد کیا، جس میں ملک بھر سے 200 سے زائد طلبہ نے شرکت کی اور سی ایس آئی آر نیٹ، آئی سی اے آر، گیٹ اور سیٹ سے متعلق معلومات حاصل کی۔

 

پروگرام کا آغاز آر سی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد فیروز احمد کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ انھوں نے ریسورس پرسن، شعبہ نباتیات، ویمنس کالج، اے ایم یو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عامر رینا اور ڈاکٹر مسعود اللہ خان کا تعارف کرایا۔

 

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے آر سی اے کے ڈائریکٹر پروفیسر محمد حسن نے اکیڈمی کے وژن پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے امیدواروں کی رہنمائی میں آر سی اے کے کامیاب ریکارڈ اور وسائل سے بھرپور تعلیمی ماحول کا ذکر کیا۔

 

ڈاکٹر عامر رینا نے اپنے خطاب میں سی ایس آئی آر نیٹ، آئی سی اے آر، گیٹ اور سیٹ امتحانات میں کامیابی کے لئے جامع حکمت عملی پیش کی، جس میں حالیہ امتحانی رجحانات اور سوالیہ پرچوں کا تفصیلی تجزیہ، مطالعہ کی منصوبہ بندی، وقت کا نظم اور تھیوری کی وضاحت شامل تھی۔ انھوں نے معیاری درسی کتب اور مستند آن لائن وسائل پر انحصار کی اہمیت کے ساتھ جسمانی و ذہنی صحت کے کردار پر بھی زور دیا۔

 

ڈاکٹر مسعود اللہ خان نے سی ایس آئی آر نیٹ/ جے آر ایف امتحان میں کامیابی کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے امتحان کی ساخت، نصاب اور سی ایس آئی آر کی لیبارٹریز کے نظام کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے اہم حوالہ جاتی کتب کا بھی ذکر کیا اوروسائل کے دانشمندانہ انتخاب کا مشورہ دیا۔

 

بعد ازاں ایک انٹرایکٹیو سیشن ہوا جس میں شرکاء نے سوالات کئے۔ پروگرام کا اختتام ڈاکٹر محمد فیروز احمد کے کلماتِ تشکر پر ہوا۔ سیشن کی نظامت ڈاکٹر حبا اصلاحی، اسسٹنٹ پروفیسر، آر سی اے نے کی۔

 

؎٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے شعبہ شماریات و آپریشنز ریسرچ کے زیر اہتمام تین روزہ بین الاقوامی سمپوزیم کا آغاز

 

علی گڑھ، 15 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ شماریات و آپریشنز ریسرچ کے زیر اہتمام شماریات،آپریشنز ریسرچ اور متعلقہ عنوانات پر ایک تین روزہ بین الاقوامی سمپوزیم (ہائبرڈ موڈ) شروع ہوا جس کی تکمیل 17 دسمبر کو ہوگی۔

 

افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر شلبھ (شعبہ ریاضی وشماریات، آئی آئی ٹی، کانپور) نے اپنے خطاب میں شماریات کو ڈیٹا سائنس کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔ انہوں نے ماہرین اور نوجوان محققین کے درمیان بامعنی تبادلہ خیال اور اشراک و تعاون پر زور دیا اور اے ایم یو کے شعبہ شماریات و آپریشنز ریسرچ کو ملک کا سرکردہ اور ممتاز شعبہ قرار دیتے ہوئے اس کے علمی ورثہ کی ستائش کی۔

 

وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے طلبہ کو سمپوزیم سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی اور شعبہ کی نمایاں دستیابیوں کی تعریف کی۔ پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے شماریات میں اپنے ذاتی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے شعبہ کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

 

شعبہ کی چیئرپرسن اور سمپوزیم کی کنوینر پروفیسر بشریٰ حسین نے اپنے استقبالیہ کلمات میں معززین اور شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے سمپوزیم کا ایک خاکہ پیش کیا، اہم علمی پہلوؤں کو اجاگر کیا اور شعبہ کی تاریخ اور پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی۔

 

فیکلٹی آف سائنس کی ڈین پروفیسر سرتاج تبسم نے اپنے خطاب میں کہا کہ شماریات سائنسی تحقیق کا بنیادی ستون ہے اور موجودہ عہد میں اس کی افادیت مسلمہ ہے۔

 

آرگنائزنگ سکریٹری پروفیسر عقیل احمد نے سمپوزیم کی ترتیب و تنظیم، شرکاء کی تعداد، فیکلٹی ممبران، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ کی شرکت کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ میں تین ایم ایس سی پروگرام چل رہے ہیں اور ڈیٹا سائنس کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا جا رہا ہے۔

 

کوآرڈینیٹرپروفیسر اطہر علی خاں نے شماریات کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے شعبہ کے ممتاز ماہرین اور عالمی سطح پر شعبہ کی ترقی کے اہم مراحل کا ذکر کیا۔

 

افتتاحی تقریب میں سمپوزیم کے سووینیئر،علی گڑھ جرنل آف اسٹیٹسٹکس کے 45 ویں شمارہ اور شعبہ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عرفان علی کی دو کتابوں کا اجراء بھی عمل میں آیا۔

 

سیشن کی نظامت ڈاکٹر فیض نور خان یوسفی نے کی، جب کہ ڈاکٹر احمد یوسف ادہمی نے آخر میں کلماتِ تشکر ادا کئے۔ سمپوزیم میں آن لائن اور آف لائن موڈ میں 140 سے زائد شرکاء نے حصہ لیا، جبکہ 30 سے زائد مدعو مقررین شامل ہیں۔ پروگرام میں 19 علمی سیشن ہیں جن میں امریکہ، میکسیکو، تیونس، برطانیہ، کینیڈا سمیت ہندوستان سے ماہرین حصہ لے رہے ہیں۔

Comments are closed.