نوادہ ماب لنچنگ: مقتول محمد اطہر حسین کے سفاکانہ قتل نے انسانیت کو شرما دیا — مولانا انیس الرحمن قاسمی

 

قاتلوں کو عبرتناک سزا دی جائے اور مقتول کے اہل خانہ کو بھاری معاوضہ ادا کیا جائے،آل انڈیا ملی کونسل کے کار گزار صدر کا حکومت سے مطالبہ

پٹنہ(پریس ریلیز)

آل انڈیا ملی کونسل کے کارگزار صدر حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی،صدر آل انڈیا ملی کونسل بہار مولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمیاور جنرل سیکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہار مولانا مفتی محمد نافع عارفینے نوادہ ضلع کے روہ تھانہ علاقہ کے بھٹہ گاؤں میں پیش آئے وحشیانہ ماب لنچنگ کے واقعہ اور مقتول محمد اطہر حسین کے موت سے قبل دیے گئے دل دہلا دینے والے بیان پر شدید رنج و غم اور سخت غصے کا اظہار کیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ:محمد اطہر حسین کا کیمرے پر دیا گیا موت سے پہلے کا بیان(Dying Declaration) اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ یہ واقعہ محض مارپیٹ نہیں بلکہ منصوبہ بند او ر اجتماعی تشدد، سفاکانہ اور غیر انسانی اذیت، لوٹ مار، جنسی تذلیل اور درندگی کا بدترین نمونہ ہے، یہ انسانیت اور آئین ہند کے خلاف سنگین جرم ہے ۔ نام پوچھ کر نشانہ بنانا، ہاتھ پاؤں باندھ کر قید کرنا،کپڑے اتار کر بے حرمتی کرنا،پیٹرول ڈالنا،گرم لوہے کی سلاخ سے داغنا، پیٹ پیٹ کر انگلیاں اور ہاتھ توڑ دینا؛یہ سب کچھ ثابت کرتا ہے کہ یہ انسانیت کو شرمسار کردینےوالی سفاکیت اور لِنچنگ کی صورت میں کھلی دہشت گردی ہے۔اب جبکہ مقتول کا ویڈیو بیان منظر عام پر آ چکا ہے، اس لیے اس معاملہ کوریئرسٹ آف ریئر کیس مانا جائے اور تمام ملزمین پر قتل، تشدد، لوٹ، غیر انسانی سلوک اور سازش کی دفعات لگائی جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس سفاکانہ قتل میں شریک مجرمین کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا(BNS) دفعہ 103،109،191،127،115،351،377 اور 74 کے تحت مقدمہ درج کیا جائے اور معاملہ فاسٹ ٹریک کورٹ میں چلایا جائے۔ چونکہ مقتول کا بیان ویڈیو میں محفوظ ہے، اس لیے یہ مضبوط قانونی شہادت (Substantive Evidence) ہے، جس کی بنیاد پر سخت ترین سزا دی جانی چاہیے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اس معاملہ میں آٹھ افراد کی گرفتاری عمل میں آئی ہے، لیکن یہ ناکافی ہے، مقتول کے قبل از موت دیے گئے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں15 سے 20 لوگ شریک ہیں، بیشتر مجرمین اب بھی آزاد ہیں، جو نظامِ قانون پر سوالیہ نشان ہے۔

 

آل انڈیا ملی کونسل نے حکومتِ بہار سے مطالبہ کیا کہ مقتول کے اہل خانہ کو بھاری معاوضہ دیا جائے،خاندان کے ایک فرد کو فوری سرکاری ملازمت دی جائے،بیوہ اور بچوں کی زندگی بھر کفالت کی جائے اور بچوں کی تعلیم، علاج اور تحفظ کی مکمل ذمہ داری حکومت لے

 

انہوں نے برسر اقتدار پارٹی کے ایک ایم ایل اے کے شرمناک بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چوری کا الزام لگا کر اس سفاک قتل کو جواز دینے کی کوشش دراصل قاتلوں کو بچانے کی سازش ہے۔ایسے ایم ایل اے کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔

 

آخر میں آل انڈیا ملی کونسل نے متنبہ کیا کہ اگر اس معاملہ میں انصاف نہیں ہوا تو یہ پورے سماج کے لیے خطرناک نظیر بنے گی ، انہوں نے حکومت سے سختی کے ساتھ مطالبہ کیا کہ حکومت ماب لنچنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائے اور نفرت انگیز بیانات دینے والے عوامی نمائندوں پر بھی مقدمہ درج کیا جائے، جن کی وجہ سے سماج میں نفرت بڑھ رہی ہے اور جس کے نتیجہ میں اس طرح کے درندگی سے بھرے واقعات آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں۔

Comments are closed.