روحوں کو زندگی دینے والا چراغ خاموش ہو گیا

 

🖋 مفتی محمد عارف باللہ القاسمی

 

موت ایک اٹل حقیقت ہے، مگر بعض رخصتیں عام نہیں ہوتیں، وہ محض ایک انسان کے دنیا سے اٹھ جانے کا نام نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے ساتھ ایک پورا فکری و روحانی ماحول سمیٹ لیتی ہیں۔ ایسے ہی ایک صاحبِ نسبت، مربیِ کامل اور مردِ درویش کا ہم سے جدا ہو جانا اہلِ دل کے لیے ایک عظیم خلا اور گہرے صدمے کا باعث ہے۔

حضرت پیر ذو الفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ کی ولادت یکم اپریل 1953ء کو ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں علم، اخلاص، دردِ دل اور اصلاحِ امت کے عظیم اوصاف سے نوازا، اور انہوں نے اپنی پوری زندگی دین کی خدمت، تزکیۂ نفس اور بندگانِ خدا کو ربِ حقیقی سے جوڑنے میں صرف کر دی۔ بالآخر آج: 14 دسمبر 2025ء کو یہ آفتابِ روحانیت غروب ہو گیا، اور دنیا ایک فیض رساں ہستی سے محروم ہو گئی، لیکن انہوں نے اپنے پیچھے ایسا گراں قدر علمی اور روحانی ورثہ چھوڑا ہے جو ان شاء اللہ قیامت تک امتِ مسلمہ کے لیے ہدایت، اصلاح اور فیضانِ قلب کا سرچشمہ بنا رہے گا، اور جس سے اہلِ دل نسل در نسل سیراب ہوتے رہیں گے۔

حضرت پیر ذو الفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ ان نفوسِ قدسیہ میں سے تھے جنہوں نے اپنی زندگی اصلاحِ باطن، تزکیۂ نفس اور رجوع الی اللہ کے لیے وقف کر دی، ان کی صحبت محض مجلس نہ تھی بلکہ تربیت گاہ تھی، ان کی گفتگو مختصر مگر اثر آفریں، اور ان کی خاموشی بھی درسِ معرفت ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے اس پُرفتن اور مادیت زدہ دور میں دلوں کو اللہ سے جوڑنے کا جو عظیم کارنامہ انجام دیا، وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

ان کی وفات کی خبر نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے لاکھوں متوسلین، مسترشدین اور اہلِ محبت کو غمگین کر دیا ہے۔ آج بے شمار دل اس احساسِ محرومی میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ وہ سایۂ شفقت جو راہ دکھاتا تھا، نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

ہم بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت کو اپنی بے پایاں رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات کو بلند فرمائے، اور ان کی علمی، اصلاحی اور روحانی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے۔ اللہ تعالیٰ امت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے، اور ان کے خلفاء و مجازین کے ذریعے سلسلۂ فیض کو تا قیامت جاری و ساری رکھے۔

یہ موقع اہلِ ارادت کے لیے محض غم کا نہیں بلکہ عہدِ نو کا بھی ہے کہ ہم حضرت کے مشن، ان کی تعلیمات اور ان کے چھوڑے ہوئے راستے کو اپنی عملی زندگی میں زندہ رکھیں۔ انہی کے نقشِ قدم پر چلنا دراصل ان کے ساتھ وفاداری کا سچا اظہار ہے۔

ہم تمام اہلِ ارادت کی خدمت میں اس عظیم سانحے پر تعزیتِ مسنونہ پیش کرتے ہیں، اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صبرِ جمیل عطا فرمائے، اس جدائی کو ہمارے لیے اصلاح، بیداری اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔

Comments are closed.