وندے ماترم حقیقت اورشریعت کے آئینے میں
محمداحسان اشاعتی
خدائے عزوجل کاسب سے مہتم بالشان حکم ایمان باللہ ہے اور جملہ منہیات میں سے سب سے موکد منہی عنہ کفر و شرک ہے، رب ذو الجلال کو اپنی ذات کا کفر تو کجا ادنی شرک بھی گوارا نہیں؛ جتنے بھی احکامات کا مکلف انسان بنایا گیا ہے ان میں سب سے اہم اور ضروری اپنے خالق حقیقی پر ایمان لانا ہے، صحیح مسلم
کی روایت حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: ای الاعمال افضل تو حضور ﷺنے ارشاد فرمایا: الایمان باللہ اور انسان کی نافرمانیوں میں سب سے بدترین اور قبیح نافرمانی شرک باللہ ہے؛ جس خدائے وحدہ لا شریک نے انسان کوعدم سے وجود میں لایا، اس کی بقا کا سامان فراہم کیا، اس کی نشو نما فرما ئی، عقل و شعور کی دولت سے نوازا ، ہر قسم کے اسباب راحت و آرام عطا فرمائے اور بے شمار و بے پایاں نعمتوں سے سرفراز فرمایا پھر بھی اس مالک حقیقی کی وحدانیت تسلیم کرنے کے بجائے کسی اورکو اس کا شریک اور ہمسر قرار دینا کس قدر احسان فراموشی، ناعاقبت اندیشی اور ظلم ہے اور یہ ایسا جرم ہے جو ناقابل عفو و مغفرت ہے؛ فرمان باری تعالی ہے : ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشاء ومن یشرک باللہ فقد افتری اثما عظیما (سورۃ النساء)
اسلام میں تو حید باری اصل الاوصول ہے کی حیثیت کی حامل ہے چناں چہ ابدی فلاح و بہبودی کا مداراسی پر ہے؛ مذہب اسلام فقط رب ذوالجلال کی عبادت اور پرستش کی اجازت دیتا ہے اس کے علاوہ کسی اور کی پرستش اور پوجا کرنے اور ذات و صفات میں کسی اور کو شریک قرار دینے کی قطعا اجازت نہیں دیتاخالق حقیقی اور معبودواقعی کے علاوہ کسی مخلوق کی عبادت، وندنا اور پوجا ہرگز درست نہیں، عبادت کیے جانے قابل صرف اور صرف اللہ رب العزت کی ذات ہے ؛ ذلکم اللہ ربکم لاالہ الا ھو خالق کل شئی فاعبدوہ وھو علی کل شیء وکیل (الانعام) خدائے عزوجل کے سواخواہ کوئی کتنا بھی محترم، معتبر اور مفید کیوں نہ ہو، قابل بندگی نہیں۔
اللہ تعالی کے بعد ایک مسلمان کے لیے سب سے قابل تکریم وادب نبی آخر الزماں حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس ہے، مگر عبادت ان کی بھی روا نہیں اور نہ ہی خدا کی ذات و صفات میں ان کو شریک کیا جاسکتا ہے، اس لیے کہ خود معلم انسانیت ﷺنے ہمیں تعلیم دی ہے کہ: لاینبغی لبشر ان یسجد لبشر (دلائل النبوۃ)
والدین کے تعلق سے اللہ نے ارشاد فرمایا : وقضی ربک ان لا تعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احسانا (الاسراء) والدین کے حقوق کی پاسداری اللہ نے اپنے حق عبادت کے بعدذکر فرمایا؛ احادیث مبارکہ میں بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے متعلق بڑی تاکید واہمیت بیان کی گئی ہے، والدین کا بڑا اونچا مقام و مرتبہ اسلام نے طے فرمایا ہے چونکہ والدین کے بے انتہا احسانات اور بے حد قربانیاں ہوتی ہیں اپنی اولاد کی پرورش میں،ان سب کے باوجود اسلام والدین کی پرستش او ران کے سامنے سر بسجود ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
وندے ماترم کے حوالے سے حالیہ ایام میں ملک بھر میں ایک ہنگامہ بپا ہے، پارلیمنٹ سے لیکر نیوز چینلز کے ڈیبیٹز میں اسی کے چرچے ہیں برسراقتدار سیاسی پارٹیزاور کچھ ناعاقبت اندیش اور غیر منصفانہ ذہنیت رکھنے والے اپنے انداز بیان او ررویوں سے یہ باور کرانے کی نامناسب کوشش کر رہے ہیں کہ سچا دیش بھگت اور محب وطن وہی شمار ہوگاجو وندے ماترم کہے گا، وگر نہ اس کی حب الوطنی مشکوک ہے بلکہ یہاں تک کہا گیاکہ اس ملک میں رہنا ہے تو وندے ماترم کہنا پڑے گا اور یہ کہتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم سب اس ملک کے باشندگان ہیں جس ملک کا آئین ہمیں بتلاتا ہے کہ وندے ماترم پڑھنے میں ہمیں اختیار دیا گیا ہے؛ یہ اختیاری چیز ہے اضطراری اور جبری نہیں، لہذا اس طرح عملا اصرار و اجبار ملک کے سیکولرزم کے لیے ہرگز منا سب نہیں۔
ایک مسلمان کے لیے وندے ماترم پڑھنا یا گانا بحیثیت مسلم ہونے کے بنگاہ شرع بالکل جائز نہیں چونکہ اس گیت میں مندرج بہت سی باتیں اسلام کے اساسی نظریات و عقائد او رموحدانہ اقدار سے متصادم ہیں خصوصا مسلمانوں کے عقیدہ توحیدپر آنچ آتی ہے؛ اس نظم کو لکھنے والے بنکم چندر چٹرجی جو کہ بنگال کے معروف ناول نگار ہیں انہوں نے اپنے ناول آنندمٹھ میں اس نظم کو درج کیا ہے، یہ ناول در حقیقت اسلام دشمنی پر مشتمل ہے اسی ناول کا ایک حصہ یہ گیت بھی ہے اس ناول کے اندر درگا کے سامنے اس ناول کے بعض کرداروں کو وندے ما ترم پڑھتے ہوئے بتلایا گیا ہے؛ اور خود وندے ماترم کا جملہ اپنے مفہوم میں اسلام مخالف ہے، اس گیت کا منظر و پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مادر وطن جس کو ہندوازم کے مذھبی طرز فکر کے مطابق درگا ماں تصور کرکے اس کی وندنا کرنابتایاگیاہے؛ دراصل ہندو تصورات اور آستھا کے مطابق بھارت دیش ایک دیوی کے روپ میں مانا ا ور پوجا جاتا ہے، ملک کے کئی مقامات پر اس کے لیے مندربنے ہوئے ہیں اور اس دیوی کے عقیدے کی پختگی کے لیے ان کے یہاں اس کی علامتی مورتی بھی بنائی جاتی ہے،بھارت کے مختلف حصوں میں بھارت ماتاکے مندر موجود ہیں سب سے پہلامندر جس کا افتتاح گاندھی جی نے 1936میں بنارس کے اندر کیاتھااوردوسرا بھارت ماتا کا مندر 1973میں ہری دوار میں تعمیر کیاگیا۔2017 جنوری میں اجین میں اس طرح کے مندر کا افتتاح عمل میں آیا اور 2024میں وزارت عظمی نے بھارت ماتاکے احترام وتکریم میں سوروپئے کا سکہ جاری کیاجس میں بھارت ماتا کی تصویر منقش ہے؛ اس سے یہ بات طے ہو جاتی ہے کہ مادر وطن کی وندناکرناپوجا اور ان کاخالص دھارمک معاملہ ہے؛ اسی طرح پوری نظم پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ ایک نہیں متعدد باتیں اسلامی عقائد کے خلاف ہے او رشرک میں ابتلاء کا باعث ہے ، اس میں سرزمین ہند کو سکھ دینے والی، برکت دینے والی، ہر ہر مندر میں پوجی جانے والی، جسم کے اندر کی جان اورقائم ودائم رہنے والی بتلایا گیاہے؛ ایک مسلمان اس گیت کے ترجمے اور مفہوم کو سمجھ لینے کے بعداس کو پڑھنایا گانا کیسے مباح گمان کر سکتا ہے؛ مسلمان بلاشبہ اپنے ملک سے حد درجہ محبت رکھتا ہے اور اس کے لیے قربانیاں دیتا آرہا ہے اور آئندہ بھی دیتا رہے گا لیکن اس کی حب الوطنی کے اثبات کے لیے نہ تو مادر وطن کی وندنا اور عبادت کی ضرورت ہے اور نہ اپنے دین و دھرم سے سر مو انحراف کی حاجت ہے؛ اور نہ ہی کسی مخصوص گیت کا گنگنانا لازمی ہے اور یہ ادھیکار ہمیں اسی ملک عزیز کے دستور اور آئین نے عطا کیا ہے ؛ حیرت کی بات ہے کہ وہ وندے ماترم جو کبھی برادران وطن ملک کی آزادی کے حصول کے لیے گنگنایا کرتے تھے، آج اسی گیت کا استعما ل حاصل شدہ اوردستورکے عطا کردہ مذہبی آزادی کو سلب کرنے کی خاطر ہورہاہے ۔
مسلمانوں کے اس گیت کے نہ پڑھنے کی وجوہ و اسباب کی بارہا وضاحتوں کے باوجود باصرار مسلمانوں پر تھوپنا فرقہ پرستوں کی بدنیتی پر غماز ہے اور دیش کے بھگوا کرن کی طرف ایک سوچا سمجھا اور ٹھوس قدم ہے، جو کہ ملک کی سالمیت و تحفظ کے لیے بڑا خطرہ ہے اور اس جمہوری نظام کے عین مخالف بھی
، موجودہ صورت حال کے پس منظر میں اگر وندے ماترم کہنے کو حب الوطنی کے لیے معیار قرار دیا جائے تو یہ بڑی ناانصافی ہوگی ان مجاہدین آزادی کے حق میں جنہوں نے دیش کی خاطر بے پناہ قربانیاں پیش کیں اور ملک کے لیے مر مٹے لیکن بسبب توحید پرستی وندے ماترم کبھی نہیں کہا توکیا وہ بھی دیش دروہی اور غدار وطن شمار ہونگے؛ اور کیا وہ عبقری شخصیات بھی دیش بھگت نہیں جنہوں نے جنگ آزادی میں کلیدی کردار نبھایا مگر جب انہوں نے اس نظم کے اندرمذھب خاص کا رنگ غالب اور دیگر مذاھب کے مسلمات سے متصادم مواد دیکھاتو اس نظم کو من حیث المجموع بطور قومی گیت اپنانے پر نکیر کیا؛ معلوم ہونا چاہئے کہ 1937میں رابندرناتھ ٹیگور نے شبھاس چندر بوس کو خط لکھ کر نظم کے کچھ بندوں کے تعلق سے اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ فرقہ واریت کو ہوا دے سکتے ہیں اور بعض اہل مذھب کے جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتے ہیں اور ہندوستانیوں کے باہمی اتحاد و اتفاق کے لیے نہایت مضر ثابت ہونگے، لہذا نظم کے پہلے دو بند ہی جوکہ سرزمین ہندکے خوبیوں اور حسن بیانی پر مشتمل ہیں، قومی گیت کے طور پر اختیار کیے جائیں۔
جب یہ بات روز اول سے ظاہر ہے کہ یہ گیت موحدین باشندگان ہندکے آستھا اور عقیدے کے موافق نہیں ہے، مسلمان اس ملک سے محبت رکھتا ہے لیکن پوجتا نہیں، ضروری نہیں کہ ہر محبوب معبود بھی ہو؛ بہت ساری مثالیں موجود ہیں کہ انسان کسی سے محبت کرتا ہے لیکن اس کی پوجا نہیں کرتا مثلاوالدین سے غایت درجہ محبت ہوتی ہے لیکن ہم ان کی وندنا اور عبادت نہیں کرتے اور بھی بہت سارے لوگ ہوتے ہیں مثلا استاذ، پیر ومرشد، اولیاء، انبیاء جن کی عظمت، عقیدت اور محبت ہوتی ہے مگر ہم ان کی پرستش نہیں کرتے کیوں کہ یہ ایک امر بدیہی ہے کہ عدم تعبد عدم محبت کو مستلز م نہیں کو ئی محب اگر محبوب کی وندنا اور پرستش نہیں کرتاتو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کو اس سے پریم اور محبت نہیں۔
جن الفاظ وتعبیرات کے ساتھ حب الوطنی کا ثبوت پیش کرنے کو کہاجارہا ہے اور اس پر مصر ہیں؛ حب الوطنی کے اظہار و اثبات کے لیے ان الفاظ و تعبیرات کابطور خاص اختیار کرنا قطعا ضروری نہیں، بات الفاظ کے بجائے جذبات کی ہونی چاہئے؛اور جذبا ت مسلمانوں کے اپنے ملک کے تئیں انتہائی مخلصانہ پہلے بھی رہے ہیں جن پر دال اور شاہد جاں نثار مسلمانوں کی سنہری تاریخ ہے اور آج بھی وہی پرخلوص احساسات و جذبات حب الوطنی و دیش کی بہی خواہی میں کارفرما ہیں۔
مسلمان کے لیے اس کا سب سے بڑا سرمایہ اس کا دین وایمان ہوتا ہے، جس کا سودا وہ کسی نام نہاد روشن خیالی یاخواہ مخواہ کی رواداری کی خاطر نہیں کر سکتا، ہر قیمت پر اسے اپنے ایمان اوردینی تشخص کا تحفظ مطلوب اور عزیز ہے۔
Comments are closed.