وندے ماترم پر مباحثہ — ایک بین السطور مطالعہ
—————————————————
تحریر – کے۔ چندر و ریٹائیرڈ جج مدراس ہائی کورٹ
ترجمہ – ڈاکٹر سید ابو ذر کمال الدین
7 نومبر 2025 کو قومی گیت یعنی وندے ماترم کے 150 ویں جشن سے پہلے بھارت کے ایک بہت ہی مشہور میوزک ڈائریکٹر نے وندے ماترم گیت کی بنیاد پر ایک البم ماں تجھے سلام کے نام سے بنایا تھا یہ گیت بہت مقبول ہوا پھر کیوں اچانک وندے ماترم پر اتنی توجہ دی جا رہی ہے اور پارلیمنٹ میں اس پر بحث ہو رہی ہے الزام لگایا جا رہا ہے کہ ایک خاص طبقہ کو خوش کرنے کے لیے اصل گیت کے کچھ الفاظ کو حذف کر دیا گیا تھا اس طرح کانگرس نے گویا دھوکا دھڑی کی۔
اس گیت کا یہ نام نہاد جو مثلہ کیا گیا یعنی صورت بگاڑی گئی جیسا کہ موجودہ حکومت کا الزام ہے وہ 30 اکتوبر 1937 کو کلکتہ میں کانگرس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں پاس شدہ ایک تجویز کا حصہ ہے۔ اس ورکنگ کمیٹی کی صدارت پنڈت جواہر لال کر رہے تھے جس میں اس وقت کے تمام بڑے کانگریسی رہنما موجود تھے جن میں سردار ولبھ بھائی پٹیل، راجیندر پرشاد ،مولانا ابو الکلام ازاد، بھولا بھائی دسائی، جمنا لال بجاج، اچاریہ جے بی کرپلانی، پٹا بھائی سیتا رمیہ ،راجا جی ،اچاریہ نریندر دیو جے پرکاش نارائناور نیتا جی سبھاش چندر بوس سب موجود تھے۔
گاندھی جی اگرچہ سی ڈبلیو سی کے ممبر نہیں تھے تاہم وہ مدعو ے خصوصی تھے اور انہوں نے اس تجویز کو حتمی شکل دینے میں معاونت کی۔ بعد ازاں راجندر پرشاد نے اس تجویز کو پیش کیا اور سردار پٹیل نے اس کی حمایت کی ۔ورکنگ کمیٹی کی یہ تجویز اتفاق رائے سے پاس ہوئی ۔اس تجویز کے الفاظ یہ تھے”ورکنگ کمیٹی نے کانگرس کے گیت وندے ماترم کے متعلق جو سوالات اٹھائے گئے ہیں اس پر غور و خوض کیا ہے اس نغمہ کا ایک تاریخی پس منظر ہے اور اس نے ہماری جدوجہد ازادی میں گہرے جوش اور طاقتور جذبات پیدا کیے ہیں اس لیے اس گیت کا قومی تحریک میں ایک منفرد مقام ہے ۔مسلمان دوستوں نے اس گیت کے کچھ حصے پر جو اعتراضات جتائیں ہیں کمیٹی نے اس کی معقولیت کو تسلیم کرتے ہوئے اور ان اعتراضات کو رقم کرتے ہوئے جہاں تک اس کو معقول پایا ہے اس کو ہٹا دیا ہے مگر وہ اس سے زیادہ اس معاملے میں اور کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے تاہم کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس گیت کے پہلے صرف دو بند جو عام طور پر کانگرس اور دیگر عوامی موقعوں پر گائے جاتے ہیں صرف ان دو ابتدائی بندوں کو قومی گیت کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے اور کانگرس اور عوامی اداروں اور تقریبات میں گایا جانا چاہیے۔ یہ دو بند ان لوگوں کے لیے بھی قابل اعتراض نہیں ہیں جنہوں نے اس پر اعتراض جتایا ہے ان دو ابتدائی بندوں میں اس گیت کی پوری روح موجود ہے یہ کمیٹی منظور کرتی ہے کہ جس قومی مجمع میں وندے ماترم گیت گایا جائے اس کے صرف یہ دو بند گائے جائیں اور اس کا وہ ورزن اور نغمہ جو روندر ناتھ ڈگور نے تیار کیا ہے اس کی پابندی کی جائے یہ کمیٹی بھروسہ رکھتی ہے کہ یہ فیصلہ شکایت کے تمام وجوہات کو ختم کر دے گی اور ملک کی تمام برادریوں کے لیے قابل قبول ہوگی”.
وزیر اعظم نریندر مودی نے بالواسطہ سی ڈبلیو سی کے اس تجویز کو نشانہ بنایا ہے جس میں سردار پٹیل بھی شامل تھے کیا وزیراعظم کو اس بات کا احساس ہے کہ انہوں نے تمام قومی لیڈروں کی جماعت پر حملہ کیا ہے اور اس گیت پر انہوں نے جو ریمارکس دیے تھے اس کا خصوصی انتخاب کر کے اپنی بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے
اس پر پارلیمنٹ میں بحث کی ضرورت کیا تھی؟ کیا اس پر دوبارہ بحث کی کوئی ضرورت ہے؟ جبکہ ائینی اسمبلی میں اس مسئلے پر مہر لگ چکی تھی بندے ماترم کا یہ نقمہ بنکم چندر چٹوپا دھیائے کی تخلیق ہے جو پہلی بار 1875 میں بنگلہ ادبی جرنل بنگو درشن میں شائع ہوا تھا اور 1896 کے کانگرس کے اجلاس میں ٹیگور نے گایا تھا۔ یہ ساری باتیں تقسیم بنگال سے پہلے ہو چکی تھی
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ نغمہ قومی تحریک کے ہر اجلاس کی روح تھی جس میں مسلمانوں کی بھی اچھی خاصی نمائندگی رہتی تھی۔ 1935 میں جب گورنمنٹ اف انڈیا ایکٹ پاس ہوا اور بھارت کے لوگوں کو صوبائی اسمبلی اور سنٹرل اسمبلی میں انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔ 1937 کے انتخاب میں حصہ داری کے سوال پر پارٹیوں کے اندر کشمکش شروع ہوی کانگرس نے صوبائی اسمبلیوں میں بھاری جیت درج کی کچھ صوبوں میں مسلم لیگ کی جیت ہوئی
جب کانگرس اقتدار کے گلیارے میں داخل ہوئی اس کی یہ ذمہ داری تھی کہ مختلف نوع کلچر کی حفاظت کرے اور سرکاری تقریبات میں وندے ماترم گائے ۔کلکتہ اجلاس وہ نقطہ اتفاق بنا جہاں اس کے ترمیم شدہ متن کو تسلیم کیا گیا تاکہ یہ پورے ملک کے لیے قابل قبول بن جائے ۔اس نغمہ میں واضح طور پر ہندو دیوی دیوتاؤں کا ذکر ہے لیکن اگر کوئی مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان وسیع تر اتحاد کا خواہاں ہے تو اس کو اس کے مضمون کی بنیادی سمجھ تو لازمی ہونی چاہیے۔ یہ سوچا سمجھا فیصلہ تھا جس نے انہیں سمجھوتا کر کے انتخاب لڑنے کا موقع دیا اور ائندہ دو سال تک ان کی حکومت چلی۔ 1939 میں اٹھ ریاستوں کی کانگریسی حکومت نے استفعی دے دیا۔
بعد میں جب ائینی اسمبلی بنی اور عبوری حکومت وجود میں ائی اسوقت 7 194 میں کنسٹی چوینٹ اسمبلی کی دوہری ذمہ داری ہو گئی ۔ اس اسمبلی میں کانگرس کے 208,مسلم لیگ کے 73 اور دیگر پارٹیوں کے 15 ممبران تھے ,اس اسمبلی میں رجواڑوں کے 93 ممبران کی نامزدگی کی گئی تھی جس کی کل تعداد 389 تھی تقسیم ہند کے بعد جب مسلم لیگ کے ممبران ائینی اسمبلی سے رخصت ہو گئے تو اس کی کل تعداد گھٹ کر 299 رہ گئی جس میں ہندوؤں کی اکثریت تھی۔
یہ بات خلاف محل نہیں ہے کہ ڈاکٹر امبیدکر کی کنسٹیٹونٹ اسمبلی میں داخلہ بنگال اسمبلی کے ذریعے ممکن ہو سکی تھی جہاں مسلم لیگ کی اکثریت تھی یعنی وہ مسلم لیگ کے ممبران کی مدد سے ہی کنسٹی چوینٹ اسمبلی میں داخل ہوئے تھے ۔تقسیم ہند کے بعد وہ ائینی اسمبلی میں نہیں رہ سکتے تھے کیونکہ جن کی نمائندگی وہ کر رہے تھے وہ تقسیم کے بعد ملک چھوڑ کر جا چکے تھے پنڈت نہرو نے اپنی ایما پر بمبئی کے گورنر سے ڈاکٹر امبیدکر کی کنسٹیٹیونٹ اسمبلی میں نامزدگی کروائی
کنسٹی چونٹ اسمبلی کو ملک کے لیے ایک قومی ترانہ بھی طے کرنا تھا۔ جتنے ارکان تھے ان کو تین اہم ترانوں کو سننا تھا جو اس وقت زیر غور تھے۔ ایک وندے ماترم دوسرا سارے جہاں سے اچھا اور تیسرا جن من گن اگرچہ سارے جہاں سے اچھا اپنے مفہوم میں سیکولر تھا اور اس کی دھن فوجی پیش قدمی جیسی تھی مگر اس کا انتخاب اس لیے نہیں کیا گیا کیونکہ اس کے شاعر علامہ اقبال تھے جو پاکستان کے زبردست حمایتی تھے۔ اس کے باوجود جب ائین کا حتمی مسودہ 1949 کو تسلیم کر لیا گیا جس کی صدادت ڈاکٹر راجندر پرشاد کر رہے تھے اور 1950 میں اس دستور کو نافذ کرنے سے دو دن پہلے ایوان میں ایک گروپ کے ذریعے وندے ماترم گایا گیا تھا جبکہ ممبران جن من گن کے حق میں تھے۔ لہذا یہ تجویز پاس ہوئی کہ جن من گن ہی قومی ترانہ ہوگا ۔اس دستور میں 395 دفعات ہیں لیکن دستوری ڈھانچے کے کسی دفعہ میں قومی ترانے کا ذکر نہیں ہے ۔1976 میں جب دستور میں 42ویں ترمیم کی گئی ہے اس وقت مسز گاندھی نے فنڈامنٹل ڈیوٹیز کا پروویژن دستور میں ڈالا اور اس کے دفعہ 51A جس میں تمام شہریوں پر لازم کیا گیا کہ وہ دستور اس کے تصورات اور اداروں قومی پرچم اور قومی ترانے کی لازمی پابندی کریں گے داخل کیا گیا
اس کے بعد 1971 میں ایک قانون کے ذریعے جس کا نام Prevention Of Insult To National Honour Actانسداد قومی وقار قانون ہے اس کے تحت قومی ترانہ کی بے حرمتی کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا سپریم کورٹ نے بجوائے ایمویل بنام ریاست کرالہ کے ایک مقدمے میں دستور میں مندرج مذہبی ازادی اور اظہار کی ازادی کے دستوری حق کو اس شرط کے ساتھ تسلیم کیا کہ وہ عوامی نظم و نسق کو نہیں بگا ڑتا ہو اور قومی علامتوں کی بے حرمتی نہ کرتا ہو۔
اس کے باوجود کہ کنسٹیٹونٹ اسمبلی میں ہندوؤں کی اکثریت تھی انہوں نے جن من گن کو قومی ترانے کے طور پر تسلیم کیا اور وندے ماترم کے صرف اس حصے کو قومی گیت کے طور پر مانا جو پہلے سے منظور شدہ تھا۔ اس پس منظر میں جب ایک ادمی دیکھتا ہے کہ وبندے ماترم کا اچانک گن گان کیا جا رہا ہے اور حکمران جماعت پارلیمنٹ کے ارکان سے اصرار کر رہی ہے کہ بنیادی ذمہ داری کی دفعہ51A میں وندے ماترم کو وہی احترام عطا کیا جائے جو جن من گن کو حاصل ہے ۔
2017 میں مدراس ہائی کورٹ کے جسٹس ایم وی مرلی دھرن نے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو یہ ہدایت دی تھی کہ تامل ناڈو کے تمام اسکولوں میں ہفتہ میں ایک بار وندے ماترم ضرور گایا جائے اور افیسوں میں مہینے میں ایک بار اس کے ساتھ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں بھی مہینے میں کم سے کم ایک بار ضرور گایا جائے جج صاحب نے کہا کہ اگر بنگالی یا سنسکرت میں اس کو گانا مشکل ہے تو اس کا تامل ترجمہ گایا جا سکتا ہے
دہلی ہائی کورٹ نے حکومت ہند سے کہا تھا کہ وندے ماترم کو وہی درجہ دیا جائے جو قومی ترانہ کو حاصل ہے یہ بات تعجب خیز ہے کہ اسی نریندر مودی حکومت نے کورٹ کو بتایا تھا کہ قومی ترانہ اور قومی گیت دونوں کو تقدس حاصل ہے اور دونوں کا احترام لازم ہے تاہم اس نے کہا یہ مسئلہ عدالتی احکام کے دائرے میں نہیں اتا ہے مودی حکومت نے عدالت میں اپنے اس موقف کا دفاع کیا کہ قومی گیت کو قومی ترانہ کے برابر کا درجہ نہیں دیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے اس نے 1971 میں پاس انسداد قومی وقار بے حرمتی قانون کا حوالہ دیا جس میں واضح طور پر ذکر کیا گیا تھا کہ قومی ترانے کی بے حرمتی ایک مجرمانہ حرکت ہے جبکہ قومی گیت پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا ہے اس سے واضح ہے کہ قانونی طور پر قومی ترانہ اور قومی گیت دونوں کی جداگانه حیثیت ہے
75 سال بعد جبکہ یہ مسئلہ کنسسٹنی چوینٹ اسمبلی میں پوری طرح سے حل ہو چکا تھا اج پھر سے قومی گیت پر تنازع کیوں کھڑا کیا جا رہا ہے۔ اس سے حکومت کی نیت پر شک ہوتا ہے کیا حکومت ایک عام تجویز کے ذریعے پارلیمنٹ سے قومی گیت کو بدلنا چاہتی ہے جیسے اس نے جموں و کشمیر کے مخصوص حیثیت کو بدل دیا اس فضول بات کو جتنی اہمیت دی جا رہی ہے اور اس کی جس طرح تشہیر کی جا رہی ہے اس سے ایک ادمی کو یقین ہوتا ہے کہ مودی حکومت ملک کے دستور میں کوئی بڑی تبدیلی لائے بغیر اور قانون کے خلاف کوئی بڑا قدم اٹھائے بے غیر ملک کے قومی ترانے کو بدلنا چاہتی ہے
Comments are closed.