وندے ماترم…… ہم وطن پسندہیں وطن پرست نہیں
نوائے بصیرت
غفران ساجدقاسمی
چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن
۱۔وندے ماترم کیاہے؟
’’جیوانند ہاتھ میں تلوارلیے ہوئے مندرکے دروازے پرکھڑاہے اورماں کالی کے بھکتوں کوترغیب دیتاہے……ہم نے کئی مرتبہ مسلم حکومت کے گھونسلے کوتوڑنے اور ان پرحملہ آوروں کوکھینچ کرندی میں پھینک دینے اورخاکسترکرکے مادروطن کوآزادکرانے کی بات سوچی ہے۔دوستو!اب وہ دن آگیاہے۔جب بھاوانندمہیندرکوآنندمٹھ لے جاکر جدو جہدمیں شامل کرنے کے لیے ترغیب دیتا ہے۔ تب اسے پہلے کالی کے مجسمہ کے سامنے اور درگاکے مجسمہ کے سامنے لے جایاجاتاہے اور’’وندے ماترم‘‘ کاوردکرنے کو کہا جاتا ہے۔ ناول کے ایک دوسرے منظرمیں کچھ لوگ’’مسلمانوں کوماردو۔ماردو،کے نعرے لگاتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔اسی وقت کچھ اورلوگ وندے ماترم کانعرہ لگارہے ہیں اورکچھ کہہ رہے ہیں کہ’’کیاوہ دن کبھی آئے گاجب ہم ان کی مسجدیں توڑکران کی جگہ پرمندروں کی تعمیر کرسکیں گے؟‘‘
یہ اقتباس اس مشہورزمانہ ناول’’آنندمٹھ‘‘ کاہے اور’’وندے ماترم‘‘اسی ناول کا ایک حصہ ہے،جس کے مصنف بنکم چندرچٹرجی ہیں۔
وندے ماترم کیاہے؟اس کی حقیقت کوجاننے کے لیے اس وقت کے حالات اور پس منظرکاجاننانہایت ہی ضروری ہے،ساتھ ہی یہ بھی جانناہوگاکہ اس نغمہ کے خالق بنکم چندر چٹرجی کس ذہنیت کے انسان تھے؟ان سب واقعات کوجان لینے کے بعدایک عام انسان بھی فیصلہ کرسکتاہے کہ اس نغمہ کوقومی نغمہ کہلائے جانے کاحق حاصل ہے یانہیں؟
۲۔وندے ماترم کے خالق اوراس کاپس منظر
۱۸۵۷ء کے انقلاب کے بعدجسے انگریزوں نے غدرکانام دیاہے،انگریزحکومت نے ’’خداملکہ کی حفاظت کرے‘‘جیسے نغمہ کوقومی نغمہ کی طرح پیش کرنے کی کوشش کی،لیکن ہندستان کے انقلابیوں نے اسے ٹھکرادیا،ٹھیک اسی زمانے میں انگریزی حکومت کے ایک وفادارملازم بنکم چندرچٹرجی نے ’’وندے ماترم‘‘کی تخلیق کی،یہ واقعہ تقریباً۱۸۷۶ء کاہے لیکن بنکم چندرچٹرجی نے اس نغمہ کواپنی مسلم مخالف ناول ’’آنندمٹھ‘‘میں۱۸۸۲ء میں شائع کیا،جس کے اقتباس سے اس مضمون کی ابتداء کی گئی ہے۔
وندے ماترم کے خالق بنکم چندرچٹرجی نوقائم شدہ کلکتہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے اورانگریزحکومت میں ڈسٹرکٹ جج کے عہدے پرفائزتھے۔ہندستان کی آزادی کی تاریخ کاادنیٰ طالب علم بھی اس حقیقت سے واقف ہے کہ مجاہدین آزادی نے کبھی بھی انگریزوں کی حکومت میں ملازمت نہیں کی اوراگرکسی نے کی بھی تووہ بہت جلدملازمت سے علاحدہ ہوکرآزادی کی لڑائی میں شامل ہوگئے،لیکن جس نغمہ کوقومی ترانہ کادرجہ دیا جارہا ہے اس کے خالق خالص انگریزی حکومت کے وفادارتھے،اورانہوں نے کبھی بھی آزادی کی تحریک میں حصہ نہیں لیا،بلکہ آرایس ایس کی طرح وہ بھی رضامندی کی آزادی کے طرفدارتھے،ان کامانناتھاکہ انگریزحکومت ہماری مخلص ہے اگروہ آزادی دے گی توہم لے لیں گے مسلح تحریک یاانقلاب کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
آنندمٹھ ناول کے مطالعہ سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ان کامقصدہندستان میں ہندستانی قومیت نہیں تھابلکہ ان کامقصدہندوستان کوہندوراشٹربناناتھا،جیساکہ مذکورہ اقتباس کے آخری سطرسے واضح ہے۔مشہورتاریخ داں آرسی مجمدارکے مطابق بنکم چندر چٹرجی کے ناول آنندمٹھ کابنیادی تصوران سنیاسیوں یابچوں کے تذکرہ پرہے جنہوں نے اپنے گھربارچھوڑکراپنی زندگی مادروطن کے لیے وقف کردیاتھا،اوریہ لوگ اپنی مادروطن کو ماں کالی کے روپ میں پوجتے تھے،بنکم چندرنے حب الوطنی کومذہب اورمذہب کوحب الوطنی کے ساتھ ملادیاتھا،آنندمٹھ کے اس پہلواورماں کالی کے تصورکودیکھتے ہوئے اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتاکہ بنکم چندرکانیشنلزم ہندونیشنلزم تھا،ہندستانی نیشنلزم نہیں تھا۔
اسی طرح نیرج سی چودھری نے اپنی کتاب ’’آٹوبایوگرافی آف این نون انڈین‘‘ میں وندے ماترم کے لکھے جانے کے حالات کی بہت صحیح تفصیل پیش کی ہے۔’’بنکم چندر چٹرجی اوررمیش چندرکی تاریخی تصانیف میں مسلم حکومت کے خلاف ہندوبغاوت کی قصیدہ خوانی کی گئی ہے اورمسلمانوں کوبہت نامناسب ڈھنگ سے پیش کیاگیاہے۔بنکم چندر چٹرجی غیرمشتبہ طورپراوربہت نمایاں اندازسے مسلم مخالف تھے۔‘‘
ان حقائق کے جان لینے کے بعدواضح طورپریہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وندے ماترم کی تخلیق دراصل مسلم اوراسلام مخالف ذہنیت کی پیداوارتھی،اورانگریزی آقاؤں کوخوش کرنے کے لیے لکھی گئی تھی،وندے ماترم میں جس تصورکوپیش کیاگیاہے ایک عام مسلمان کے لیے یہ کبھی گوارہ نہ ہوگاکہ اسے پڑھے،کیوںکہ ایک مسلمان وطن پسند،وطن دوست تو ہوسکتاہے لیکن ایک مسلمان وطن پرست نہیں ہوسکتا،اوروندے ماترم میں اسی وطن پرستی کی دعوت دی گئی ہے،کیوںکہ وطن سے لگاؤ ہرانسان کوفطری طورپرہوتاہے ،خودرہنمائے اعظم محسن انسانیت حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے مدینہ ہجرت کررہے تھے توجب مکہ پر آخری نگاہ ڈالی توبے اختیارزبان سے یہ الفاظ نکل پڑے،کہ اے مکہ!توروئے زمین پر سب سے زیادہ مجھے محبوب ہے ،اگرمیری قوم مجھے مجبورنہیں کرتی تومیں کبھی بھی تم سے الگ نہیں ہوتا۔‘‘توبھلاایک عام مسلمان جواس نبی کاپیروہے وہ محب وطن کیسے نہیں ہوگا،لیکن وندے ماترم میں مادروطن کوکالی ماں اوردرگاماں کادرجہ دے کراس کی پرستش کرنے کو کہا گیا ہے جیساکہ وندے ماترم سے سمجھ میں آتاہے،جوایک عام مسلمان کے لیے ناقابل قبول ہے۔اب آئیے ایک نظروندے ماترم کے ترجمہ پرڈالتے ہیں اوراسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
وندے ماترم دراصل سنسکرت اوربنگالی میں تحریرکی گئی نظم ہے،جس کاسمجھناایک عام انسان کے لیے بے حد مشکل ہے،اسی لیے میں نے یہ کوشش کی ہے کہ سب سے پہلے یہاں اس کااردوترجمہ بیان کردیاجائے تاکہ اس کی وجہ سے اس گیت کاسمجھناایک عام انسان کے لیے آسان ہوجائے۔ویسے تواس گیت کابہت سارے لوگوں نے اپنے اپنے اندازمیں ترجمہ کیاہے،لیکن اس وقت میرے سامنے جوترجمہ ہے وہ حکومت ہندکے ایک سابق مرکزی وزیراورمشہورمسلم رہنماعارف محمدخان کاہے،بقول عارف محمدخان کہ اس کا ترجمہ کرنے کے لیے انہوں نے سنسکرت کے مشہوراسکالروں کاسہارالیاہے،اورتحقیق کے کئی مراحل سے گذرنے کے بعداسے افادہ عام کے لیے پیش کیاہے۔یہاں ایک بات کی وضاحت کردینامناسب سمجھتاہوں کہ عارف محمدخان صاحب کانظریہ وندے ماترم کے تعلق سے عام مسلمانوں سے ہٹ کرہے،جس کااندازہ ان کے ترجمہ سے بھی کچھ حدتک ہوتا ہے، بہرحال اس وقت مجھے ان کے نظریہ سے کوئی لینادینا نہیں ہے میں توصرف آسانی کے لیے ان کاترجمہ پیش کررہاہوں،توملاحظہ فرمائیں وندے ماترم کاسلیس اردوترجمہ۔
تسلیما ت، ماں تسلیمات!
توبھری ہے میٹھے پانی سے
پھل۔پھولوں کی شادابی سے
دکھن کی ٹھنڈی ہواؤں سے
فصلوںکی سہانی فضاؤںسے
تسلیمات، ماں تسلیمات!
تیری راتیںروشن چاندسے
تیری رونق سبزفام سے
تیری پیاربھری مسکان ہے
تیری میٹھی بہت زبان ہے
تیری بانہوں میں میری راحت ہے
تسلیمات،ماں تسلیمات!
عارف محمدخان صاحب نے ’’وندے ماترم‘‘کاترجمہ ماں تسلیمات سے کیا ہے، یعنی اے ماں!تجھے سلام،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس کاترجمہ اے ماں ہم تیری پرستش کرتے ہیں،تیری پوجاکرتے ہیں،جیساکہ جناب اربندوگھوش نے اس کاترجمہ انگریزی میں کیاہے،جب انگریزی کے ترجمہ کوسامنے رکھ کراردوترجمہ کرتے ہیں تواس کامطلب یہی نکلتاہے،کہ اے ماں!ہم تیری پرستش کرتے ہیں۔جوکہ اسلامی عقائدکے سراسرخلاف ہے۔
۳۔صرف قومی گیت دوکیوں؟
وندے ماترم کاقضیہ ۱۹۳۷ء سے ہی چل رہاہے جب کہ کانگریس کی مجلس عاملہ نے اسے قومی گیت کادرجہ دینے کی سفارش کی تھی،لیکن اس وقت کانگریس کی مجلس عاملہ نے مسلمانوں کے احتجاج کے مدنظریہ بیان دیاکہ:’’کمیٹی اس گیت کے کچھ حصوں کے تئیں مسلمان دوستوں کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کومحسوس کرتی ہے‘‘مجلس عاملہ نے کہا تھا کہ وندے ماترم کے صرف ابتداکے دوبندہی گائے جانے چاہئیں۔اس کے بعد رابندر ناتھ ٹیگورنے بھی اس کی مخالف کی تھی انہوں نے نیتاجی سبھاش چندربوس کولکھے اپنے خط میں کہاتھاکہ مسلمان اس گیت کوبرداشت کرنے کے لیے ہرگزتیارنہیں ہیں کیوںکہ اس سے ان کے مذہبی جذبات کوٹھیس پہونچتی ہے۔
ایسانہیں ہے کہ صرف مسلمانوں ہی نے وندے ماترم کی مخالفت کی تھی بلکہ سکھ اور عیسائی نے بھی اس گیت کی یہ کہہ کرمخالفت کی تھی کہ ہندستان کثیرمذاہب اورکثیراقوام والا ملک ہے،جس میںہرمذہب کااحترام ضروری ہے ایسے ملک میں ایسی چیزوں کونافذکرنایہ دیگر اقوام کے مذہبی جذبات کوٹھیس پہونچاناہے جسے ہرگزہرگزبرداشت نہیں کیاجائے گا۔
یہاں پرایک سوال یہ پیداہوتاہے کہ ہندستان میں جن چیزوں کوقومی شناخت کا درجہ دیاگیاہے وہ ساری کی ساری ایک ہی ہیں،صرف قومی گیت دوکیوں؟آخراس کا کیا راز ہے،ہندستان کاقومی پرچم ترنگاایک ہے،قومی جانورشیرایک ہے،قومی پرندہ مورایک ہے، اسی طرح قومی نشان اشوک کالاٹ ایک ہے،ایسانہیں کہ قومی پرچم دوہے،ایک ترنگا تو دوسرا کوئی اور،قومی جانوربھی ایک ہی ہے،توپھرایک قومی گیت کیوں نہیں؟کیامسلمانوں نے کبھی ترنگے پراعتراض کیا؟کیامسلمانوں نے کبھی یہ کہاکہ شیرتودرگاکی سواری ہے ہم اسے قومی جانورنہیں مانتے؟کیاکبھی مسلمانوں نے یہ اعتراض کیاکہ قومی نشان اشوک کالاٹ کیوں ہے؟جب نہیں تویہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ جس متنازعہ نظم کوقومی ترانہ کہاجارہاہے اسے مسلمان ماننے کے لیے کیوں تیارنہیں ہیں،کیوںکہ مسلمان محب وطن ہوسکتاہے مسلمان وطن کی پرستش نہیں کرسکتاکیوںکہ پرستش کے لائق صرف اورصرف ایک خدا ہے۔ انگریز جانےکوتوچلے گئے لیکن بہت ساری چیزیں ایسی چھوڑگئے کہ مسلمان جس میں ہمیشہ الجھارہے اورکبھی ترقی نہ کرسکے،وندے ماترم بھی انہیں میں سے ایک ہے۔
۴۔وندے ماترم پراعتراض کیوں؟
وندے ماترم پراعتراض کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کی تخلیق ہی مسلم اور اسلام مخالف ماحول میں ہوئی ہے،اورمصنف نے اس نظم کے اندرجس طرح کے نظریہ کوپیش کیاہے وہ سراسراسلامی عقائدکے خلاف ہے،کیوںکہ اسلام صرف ایک خداکی عبادت کی دعوت دیتاہے جب کہ اس نظم کے اندرمادروطن کوکبھی درگاماںاورکبھی کالی ماںکی شکل میں پیش کرکے اس کی پرستش کی دعوت دی گئی ہے،جن لوگوں نے صرف وندے ماترم کو پڑھا ہے ان کے نزدیک اس میں زیادہ قباحت نظرنہیں آتی لیکن جن حضرات نے مصنف کی مشہور زمانہ ناول آنندمٹھ کامطالعہ کیاہے انہیں معلوم ہے کہ یہ نظم کس پس منظرمیں تحریرکی گئی ہے جو صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ہراس انسان کے لیے ناقابل قبول ہے جوایک خدا پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ انسانیت کاعلمبردارہے۔
۵۔کیاوندے ماترم وطن سے محبت کی علامت ہے؟
وندے ماترم کاقضیہ تو۱۹۳۷ء میں ہی حل ہوگیاتھاجب رابندرناتھ ٹیگورنے اس کابائکاٹ کیاتھا،لیکن اپنے آپ کومحب وطن کہلانے والی جماعت آرایس ایس اوراس کے حواری گاہے گاہے اس قضیہ کوچھیڑتے رہتے ہیں،اوران لوگوں کوغداروطن کاخطاب دینے میں ذرہ برابربھی نہیں چوکتے جووندے ماترم پڑھنے سے انکارکرتے ہیں،جب کہ تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں ایسے شواہدسے کہ جس سے ظاہرہوتاہے کہ آرایس ایس نے کبھی آزادی کی تحریک میں حصہ نہیں لیابلکہ ان لوگوں نے ہمیشہ انگریزحکومت کاساتھ دیا اور ان کے وفاداررہے،اتناہی نہیں بلکہ ایک بارآرایس ایس کے چہیتے اٹل بہاری باجپئی گرفتار ہوئے توانہوں نے مجاہدین آزادی کانام اگل کراپنے آپ کوگرفتاری سے بچالیا،آج جب پھرایک باریوپی کے ایک ممبرپارلیمنٹ شفیق الرحمن برق نے وندے ماترم کی مخالفت کی تو پھر انہیں ایک شوشہ ہاتھ آگیا،حالاںکہ مسلمانوں کی وطن کے تئیں قربانی اورحب الوطنی تاریخ کے صفحات میں بکھرے پڑے ہیں،اگروندے ماترم وطن سے محبت کی علامت ہونی چاہیے توسب سے پہلے رابندرناتھ ٹیگورجنہوں نے جن من گن جیساقومی ترانہ تحریرکیاان پر غدار وطن کاالزام لگاکردیکھیں،سکھوں نے بھی وندے ماترم کوماننے سے انکارکیاآپ انہیں بھی غداروطن قراردیں،صرف مسلمان ہی کیوں؟اورپھرجب مسلمان دیگرقومی علامتوں پرکوئی سوالیہ نشان نہیں کھڑاکرتاہے توپھریہاں یہ غورکرنے کی ضرورت ہے کہ صرف وندے ماترم پرہی مسلمانوں کواعتراض کیوں ہے؟ملک کی سب سے بڑی عدالت نے بھی یہ کہہ کر مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ دستورکی دفعہ ۲۸(۱)اور(۳)کے تحت مسلمانوں کے لیے وندے ماترم کاپڑھناضروری نہیں ہے۔اسی طرح ۲۰۰۶ء میں جب وندے ماترم کا ایک سوپچیس سالہ جشن منایاجارہاتھا اس وقت بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ وندے ماترم کا پڑھنا سب کے لیے لازم نہیں ہے۔لہٰذاان دلائل کی روشنی میں وندے ماترم کووطن سے محبت کی علامت قراردینا سراسرغیردستوری ہے۔٭٭٭
Comments are closed.