جمعہ نامہ: خزاں کے بعد دورِ فصلِ گل آتا ہے گلشن میں

 

ڈاکٹر سلیم خان

ارشادِ ربانی ہے :’’برجوں والے آسمان کی قَسم‘‘۔   گردش ِ چرخ کائناتِ ہستی پررب کائنات کے اقتدار اور مسلسل تغیرکا گواہ ہے۔ اس آفاقی حقیقت کے بعد اور عبرت ناک واقعہ سے قبل  تین قسمیں  کھائی گئی ہیں ۔ فرمانِ قرآنی ہے :’’ اور اس دن کی قَسم جس کا وعدہ کیا گیا ہے، جو (اس دن) حاضر ہوگا اس کی قَسم اور جو کچھ حاضر کیا جائے گا اس کی قَسم ‘‘۔یعنی جس قادر مطلق ہستی کے تابع ستارے و سیارے ہیں  اس کی گرفت سے لوگوں پر ظلم و ستم کرنے والے  حقیر و ذلیل انسان  بچ  نہیں  سکتے ۔ ان کو سزا دینے کی خاطر  قیامت برپا ہوکر رہے گی۔   اس  دن  ہر مظلوم کی داد رسی اور ہر ظالم کی پکڑ ہو گی ۔ مذکورہ بالا واقعہ میں بے بس اہل ایمان کے جلانے اور اس  کا تماشا دیکھنے والوں کی سزا کا منظر بروزِ  قیامت  ساری دنیا دیکھے گی  ۔اس تمہید بیان کے بعد اصل واقعہ کا بیان اس طرح شروع ہوتا ہے کہ:’’خندقوں والے ہلاک کر دیئے گئے، اس بھڑکتی آگ (والے) جو بڑے ایندھن سے (جلائی گئی) تھی جب وہ اس کے کناروں پر بیٹھے تھے۔ اور وہ خود گواہ ہیں جو کچھ وہ اہلِ ایمان کے ساتھ کر رہے تھے (یعنی انہیں آگ میں پھینک پھینک کر جلا رہے تھے)‘‘۔

گڑھے والوں نےخندقوں  میں  آگ بھڑکا کر اہل ایمان کو اس میں پھینکا اور تماشا بین بنے رہے ۔ ایسے میں  بظاہر اہل ایمان شہید ہوگئے مگر کتاب الٰہی ان کو مارنے والوں کی ہلاکت یعنی ان پر برسنے والے  عذاب الہی کے کوڑے کا مژدہ سناتی  ہے ۔ تاریخِ انسانی کے اس  دل دہلا دینے والے واقعہ کی صراحتپراحادیث نبوی ﷺ میں ملتی ہے۔  حدیث ؐ کے مطابق  کسی بادشاہ کے پاس ایک کاہن  تھا ۔ ایک لڑکے کو بادشاہ نے اس سے سحر سیکھنے  پر مامور کیا تھا  مگر وہ نوجوان کسی عیسائی  راہب کے ہاتھ پر ایمان لے آیا کیونکہ اس وقت وہی دین حق تھا۔ راہب کی تربیت میں اس  لڑکےکی کرامت سے اندھوں کو بینا ئی اور کوڑھیوں کی  تندرستی ہونے لگی  ۔ بادشاہ ِوقت کو  جب لڑکے کے مشرف بہ ایمان  ہونے کا علم ہوا  تو اس راہب کو قتل کرنے کے بعد  اس لڑکے کو قتل کرنے کے لیے کئی حربے آزمائے جو یکت بعد دیگرے  ناکام ہوتے چلےگئے۔  آخر کار لڑکے نے کہا کہ اگر مجھے قتل کرنا ہی چاہتے ہو تو مجمع عام میں باسم رب الغلام ( اس لڑکے کے رب کے نام پر ) کہہ کر تیر مارو میں مر جا ؤں گا  چنانچہ    لڑکا تو شہید ہو گیا۔

سارے حربوں کی ناکامی کے بعد رب کائنات لڑکے کی شہادت  دیکھ کر وہاں موجود بہت  سارے لوگ رب  کائنات پر ایمان لے آئے ۔ اپنی تدبیر کے الٹے اثرات دیکھ کر  بادشاہ  غصے میں بپھر گیا ۔ اس نے گڑھے کھدواکر ، ان میں آگ بھروائی اور ثابت قدم رہنے والے اہل   ایمان  کو  آگ میں پھنکوا دیا۔ قرآن حکیم میں  اس ظلم کی یہ وجہ بتائی گئی ہے کہ ’’ اور انہیں ان (مومنوں) کی طرف سے اور کچھ (بھی) ناگوار نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ پر ایمان لے آئے تھے جو غالب (اور) لائقِ حمد و ثنا ہے،  جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی (ساری) بادشاہت ہے، اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے‘‘۔  بہار کے نوادہ میں اطہر حسین کی شہادت نے اس واقعہ کی یاد تازہ کردی ۔قاتلوں کے نزدیک  ان کاجرمِ  واحد  مسلم ہوناتھا ۔ اس لیے انہیں  ایسی اذیتوں سے گزارہ گیا جس کا تصور محال ہے۔ اظہر حسین کے قاتلوں  کو فی الحال گرفتار کیا گیا ہے مگر بعید نہیں کہ آگے چل کر اخلاق احمد ماب لنچنگ کے دس سال بعد یوگی کی قائم کردہ روایت  کے مطابق انہیں بھی    مختلف حیلوں بہانوں سے بچالیا جائے لیکن انہیں اور ان کو تحفظ فراہم  کرنے والے حکمرانوں کو رب کائنات کے عذابِ علیم سے کوئی نہیں بچا سکتا الاّ یہ کہ وہ  تائب ہوجائیں ۔   

اعلانِ فرقانی ہے:’’بیشک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت دی پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لئے عذابِ جہنم ہے اور ان کے لئے (بالخصوص) آگ میں جلنے کا عذاب ہے‘‘۔  ظالموں کو ان کے انجامِ بد سے خبردار کرنے کے بعد مظلوم اہل ایمان کو یہ خوشخبری سنائی گئی کہ :’’بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں، یہی بڑی کامیابی ہے‘‘۔ اسی کامیابی کا شعور اور یہ یقین کہ :’’بےشک آپ کے رب کی پکڑ بہت سخت ہے‘‘ مومنین کو صبرو استقامت کا پہاڑ بنادیتا ہے اور مشکل ترین حالات میں بھی ان کے پائے استقلال میں ذرہ برابر جنبش نہیں آتی  کیونکہ انہیں  یقین ہوتا  ہے کہ :’’ بیشک وہی پہلی بار پیدا فرماتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا فرمائے گا،‘‘۔ وہ جانتے ہیں :’’اور وہ بڑا بخشنے والا بہت محبت فرمانے والا ہے‘‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ان بندوں  کی بخشش کرکے ان سے محبت نہیں کرے گا تو کس سے کرے گا کہ جنھوں نے رب کائنات کی خوشنودی کے لیے اپنی جانِ آفرین کا نذرانہ پیش کردیا ہو۔

 اللہ تبارک و تعالیٰ کو اپنی مرضی نافذ کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا کیونکہ وہ :’’ مالکِ عرش (یعنی پوری کائنات کے تختِ اقتدار کا مالک) بڑی شان والا ہے۔ وہ جو بھی ارادہ فرماتا ہے (اسے) خوب کر دینے والا ہے‘‘ اس کے بعد ماضی واقعات کا حوالہ دے کر فرمایا’’کیا آپ کے پاس لشکروں کی خبر پہنچی ہے، فرعون اور ثمود (کے لشکروں) کے، بلکہ ایسے کافر (ہمیشہ حق کو) جھٹلانے میں (ہی کوشاں رہتے) ہیں،  اور اللہ اُن کے گرد و پیش سے (انہیں) گھیرے ہوئے ہے‘‘۔اس بابت  یمن  کے بادشاہ ذونواس کا واقعہ بھی تاریخ کے صفحات  میں درج ہے جس نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر  اپنے عیسائی باشندوں کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کیا اور انکار کی صورت میں  تقریباً 20 ہزار لوگوں کو نذرِ آتش کردیا ۔  اس کے بعد  حبش کی 70 ہزار فوج یمن پر حملہ آور ہوئی ۔ دوانوس مارا گیا ، یہودی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور یمن حبش کی عیسائی سلطنت کا ایک حصہ بن گیا ۔ اس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا بھی ظالموں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا ہے۔   اللہ تعالیٰ کی یہی سنت عصرِ حاضر میں بھی اہل ایمان کو  ظالموں کے شکنجے سے آزاد کرے گی بقول ذکی کیفی؎  

خزاں کے بعد دورِ فصلِ گل آتا ہے گلشن میں​                        چمن والو! خزاں میں پھول مرجھایا ہی کرتے ہیں​

 

Comments are closed.