نقاب کشی کا معاملہ کہیں سیاسی ہتھیار نہ بن جائے!

 

محمد عارف انصاری
رابطہ :9572908382
ای میل:aarifmedia2025@gmail.com
برِّصغیر کے مسلم معاشروں، بالخصوص ہندُستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں مسلم خواتین کا حجاب، برقعہ یا اسکارف اختیار کرنا محض ایک سماجی روایت نہیں بلکہ مذہبی، تہذیبی اور شخصی شناخت کا حصہ ہے۔ ان معاشروں میں عورتیں مختلف صورتوں میں پردہ کرتی ہیں۔ کوئی مکمل برقعہ اوڑھتی ہے، کوئی جلباب کے ساتھ اسکارف لیتی ہے، کوئی چہرہ کھلا رکھتی ہے اور کوئی نقاب اختیار کرتی ہے۔ اسی طرح بہت سی مسلم خواتین تعلیم، طب، تدریس اور دیگر پیشہ ورانہ میدانوں میں خدمات انجام دے رہی ہیںجہاں انہیں بلا نقاب، مرد و خواتین کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔ اسلام نے ان تمام صورتوں میں عورت کو نیت، حیا اور حالات کے مطابق گنجائش دی ہے۔ مگر موجودہ دور میں جب فرقہ وارانہ حساسیت عروج پر ہے، مسلم عورت کا لباس محض ذاتی یا مذہبی معاملہ نہیں رہ گیا بلکہ سیاسی بیانیے کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں عورت کے پردے پر بحث اکثر اس کی عزت، سلامتی اور خود مختاری کو نظرانداز کر دیتی ہے جو ایک تشویشناک رجحان ہے اور سماج میں بے اعتمادی کو فروغ دیتا ہے۔
بہار میں ایک مسلم خاتون ڈاکٹر نصرَت پروین کے تقرر نامہ حاصل کرنے کے موقع پر پیش آنے والا واقعہ اسی بدلتے ہوئے ماحول کی ایک علامت بن کر سامنے آیا۔ وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کا سرِعام اس مسلم خاتون ڈاکٹرکے نقاب کو ہاتھ سے ہٹا دینا محض ایک شخصی فعل نہیں رہا بلکہ اس نے سیاسی، سماجی اور اخلاقی سوالات کو جنم دے دیا۔ سوال یہ نہیں کہ نقاب فرض ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی بااختیار شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک بالغ، تعلیم یافتہ اور باوقار خاتون کے لباس میں زبردستی مداخلت کرے؟ اس واقعے پر اپوزیشن کا شدید ردِعمل، میڈیا کی سنسنی خیزی اور سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اس کے نتیجے میں یہ اندیشہ بھی پیدا ہوا کہ کہیں اس طرح کے واقعات سماج دشمن اور مسلم مخالف عناصر کے لیے جواز نہ بن جائیںجو باپردہ خواتین کو ہراسانی کا نشانہ بنانے لگیں۔ ریاستی سطح پر ہونے والا ایک غیر محتاط عمل نچلی سطح پر عدم تحفظ اور خوف کی فضا پیدا کر سکتا ہے جس کے نتائج دور رس ہوتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اگر حجاب اور نقاب کا جائزہ لیا جائے تو ایک نہایت متوازن اور حکیمانہ تصویر سامنے آتی ہے۔ قرآنِ مجید نے سورۃ النور میں مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور پاکدامنی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حیا کی ذمہ داری صرف عورت پر نہیں ڈالی گئی۔ عورتوں کے لیے سینے پر دوپٹہ ڈالنے اور زینت کو محدود رکھنے کی ہدایت دی گئی جبکہ سورۃ الاحزاب میں جلباب کا ذکر آیا تاکہ خواتین کو پہچانا جائے اور انہیں ایذا نہ دی جائے۔ اہم بات یہ ہے کہ قرآن میں چہرہ ڈھانپنے کو صراحتاً فرض قرار نہیں دیا گیا بلکہ حالات کے مطابق اجازت دی گئی ہے۔ احادیثِ نبوی ﷺ بھی یہی توازن پیش کرتی ہیں جہاں چہرہ اور ہاتھ کھلے رکھنے کی اجازت ملتی ہے اور بعض مواقع پر چہرہ ڈھانپنے کا عمل بھی منقول ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام عورت کو جبر کے بجائے سہولت اور تحفظ فراہم کرتا ہے نہ کہ اسے تماشہ یا تنازعہ بناتا ہے۔
موجودہ ہندُستانی تناظر میں مسئلہ محض مذہبی تشریح تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ریاستی رویّے اور سماجی نفسیات سے جُڑ چکا ہے۔ جب فرقہ پرست عناصر کو بالواسطہ یا بلاواسطہ سرکاری سرپرستی حاصل ہو تو ایسے واقعات ایک مثال بن جاتے ہیں۔ مسلم خواتین پہلے ہی حجاب، تعلیم، تین طلاق اور شناخت جیسے مسائل پر نشانے پر رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر اقتدار میں بیٹھے افراد خود کسی خاتون کے پردے کو موضوعِ عمل بنا دیں تو اس سے عام لوگوں کو یہ پیغام جاتا ہے کہ مسلم عورت کی نجی زندگی اور مذہبی اختیار قابلِ احترام نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ سڑک، دفتر، اسپتال یا تعلیمی اداروں میں باپردہ خواتین کو زیادہ ہراسانی، تضحیک یا تشدد کا سامنا کرنا پڑے۔ جمہوری ریاست کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کمزور طبقات کو تحفظ دے نہ کہ ان کے خوف میں اضافہ کرے۔ ریاستی غیر جانبداری ہی سماجی ہم آہنگی کی بنیاد ہوتی ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ مسلم خواتین ایک متنوع طبقہ ہیں۔ کوئی مذہبی تشدد سے بچنے کے لیے پردہ کرتی ہے، کوئی روحانی سکون کے لیے، کوئی خاندانی روایت کے تحت اور کوئی محض ذاتی انتخاب کے طور پر۔ اسی طرح بہت سی مسلم خواتین نقاب نہیں کرتیں اور جدید پیشہ ورانہ ماحول میں خود کو بخوبی ہم آہنگ رکھتی ہیں۔ اسلام نے ان تمام صورتوں کی گنجائش رکھی ہے، مگر سماج نے اکثر عورت کو ایک ہی خانے میں بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ جب عورت کے لباس کو اس کی اہلیت، کردار یا حب الوطنی سے جوڑ دیا جائے تو یہ نہ صرف عورت پر ظلم ہے بلکہ مذہب کی غلط تعبیر بھی ہے۔ اصل مسئلہ عورت کا لباس نہیں بلکہ طاقت کا غلط استعمال، عدم برداشت اور فرقہ وارانہ ذہنیت ہے۔ اگر ان مسائل کو حل نہ کیا گیا تو نقصان کسی ایک طبقے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورا سماج عدم استحکام کا شکار ہوگا۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ نصرَت پروین کا واقعہ ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے سماج کا امتحان ہے۔ یہ امتحان اس بات کا ہے کہ ہم مذہبی آزادی، شخصی وقار اور آئینی اقدار کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ حجاب یا نقاب پر علمی اور فقہی گفتگو اپنی جگہ، لیکن زبردستی، تضحیک اور طاقت کا استعمال کسی بھی جمہوری معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی قیادت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، میڈیا سنسنی کے بجائے شعور کو فروغ دے اور سماج نفرت کے بجائے احترام کو اختیار کرے۔ مسلم خواتین کو اپنے مذہبی انتخاب کے ساتھ جینے کا حق ہے، چاہے وہ نقاب کریں یا نہ کریں۔ یہی حق دراصل ہندُستانی جمہوریت کا حسن ہے۔ اگر ہم نے اس حسن کو مجروح ہونے دیا تو اس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑے گا کیونکہ آزادی جب ایک سے چھینی جاتی ہے تو وہ سب کے لیے خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
ایسے نازک اور پیچیدہ حالات میں سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ مسلمانانِ ہند، بالخصوص مسلمانانِ بہار، کو کیا حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول محض اخلاقی یا مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ طاقت، اقتدار اور انتخابی سیاست سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ بہار کی اپوزیشن فی الوقت نہایت کمزور، منتشر اور قیادت کے بحران سے دوچار ہے، اس لیے فوری طور پر اس سے کسی مضبوط اخلاقی یا سیاسی مؤقف کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔ دوسری طرف یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ نتیش کمار نے، تمام تر کمزوریوں اور تضادات کے باوجود بہار میں مسلمانوں کے لیے کچھ نہ کچھ حفاظتی دیواریں قائم رکھی ہیں، خواہ وہ فسادات پر کنٹرول ہو، اقلیتی فلاحی اسکیمیں ہوں یا علامتی ہی سہی، مگر سیکولر بیانیہ ہو۔ اس پس منظر میں کسی ایک واقعے کو بنیاد بنا کر فوری جذباتی ردِعمل دینا خود مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ نتیش کمار کی صحت اور ذہنی توازن سے متعلق سوالات پہلے ہی سیاسی میدان میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے دوران نہ صرف اپوزیشن بلکہ این ڈی اے کے اندر سے بھی ان پر طنزیہ اور معنی خیز حملے کیے جاتے رہے ہیں۔ ایسے میں اس واقعے کو محض ایک اخلاقی لغزش سمجھنے کے بجائے ایک بڑے سیاسی کھیل کے تناظر میں دیکھنا زیادہ دانش مندی ہوگی۔ خاص طور پر یہ منظر کہ ایک طرف وزیرِ داخلہ سمراٹ چودھری(بی جے پی) نتیش کمار کو نقاب کھینچنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے اور دوسری طرف وزیرِ صحت منگل پانڈے (بی جے پی) مسکراتے نظر آ رہے تھے، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ واقعہ محض اتفاق نہیں بلکہ ممکنہ طور پر مستقبل کی سیاسی بساط کا ایک مہرہ بن سکتا ہے۔ بعید نہیں کہ بی جے پی بعد میں اسی واقعے کو بنیاد بنا کر نتیش کمار کو اخلاقی یا ذہنی نااہلی کے خانہ میں ڈال کر وزیرِ اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کرے۔
ایسے میں مسلمانانِ بہار کے لیے سب سے ضروری بات سیاسی بصیرت، صبر اور اجتماعی حکمت ہے۔ نہ تو اس واقعے کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کیا جائے اور نہ ہی اس حد تک اچھالا جائے کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کے ہاتھ میں ہتھیار بن جائے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ردِعمل کو آئینی، مہذب اور قانونی دائرے میں رکھیں، سول سوسائٹی، دانشوروں، خواتین تنظیموں اور انسانی حقوق کے پلیٹ فارم کے ذریعے معاملے کو اصولی بنیاد پر اٹھائیںنہ کہ محض جذباتی نعروں کے ذریعے بلکہ مکالمہ، تحریر اور جمہوری دباؤ کے تمام جائز ذرائع بروئے کار لائیںتاکہ مسئلہ پائیدار حل اور وسیع تر سماجی انصاف کی سمت بڑھ سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ واضح ہونا چاہیے کہ کسی بھی خاتون کے لباس یا مذہبی شناخت میں زبردستی مداخلت ناقابلِ قبول ہے چاہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت، منصب یا طاقت کے مرکز کی طرف سے ہو۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمانانِ ہند کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آج اگر یہ معاملہ ایک مسلم خاتون کے نقاب تک محدود ہے تو کل یہ کسی اور مذہبی یا سماجی شناخت تک پھیل سکتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو خود کو محض ایک مظلوم گروہ کے طور پر پیش کرنے کے بجائے جمہوریت، آئین اور شہری حقوق کے محافظ کے طور پر سامنے آنا ہوگا تاکہ سماج میں ان کا کردار تعمیری، ذمہ دار اور اصولی طور پر تسلیم کیا جا سکے۔ بہار کے مسلمان اگر جذبات کے بجائے تدبر سے کام لیں، وقتی سیاسی فائدے کے بجائے طویل المدتی تحفظ کو ترجیح دیں اور اپنے مسائل کو وسیع جمہوری تناظر میں رکھ کر اٹھائیں تو وہ نہ صرف اس واقعے کے منفی اثرات کو کم کر سکتے ہیں بلکہ آنے والے سیاسی طوفان میں خود کو ایک باشعور، منظم اور فیصلہ کن قوت کے طور پر بھی منوا سکتے ہیں۔ یہ حکمت عملی بین المذاہب مکالمے، قانونی شعور، نوجوان قیادت کی تربیت اور پرامن جمہوری شراکت کو فروغ دے گی۔

 

Comments are closed.