مسلمان اتحاد،تعلیم اوردینی احکام کے ساتھ اپنی زندگی گزاریں : مولانا احمد حسین قاسمی
ضلع مشرقی چمپارن کی مختلف مسلم آبادیوں میں امارت شرعیہ کا ٨/روزہ اصلاحی دورہ اختتام پذیر
(نمائندہ موتیہاری /8 دسمبر)
امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کی جانب سے ایک سو سال سے زائد عرصے پر محیط بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کی مسلم آبادیوں میں اصلاحی و دعوتی دورے کا سلسلہ جاری ہے، اس دورے کا مقصد مسلم آبادیوں میں کلمہ واحدہ کی بنیاد پر اتحاد کی دعوت دینا، مسلمانوں میں ایمان و عقائد کی حفاظت کے لیے دینی مکاتب کے قیام اور اصلاح معاشرہ کی تحریک چلانا اور مسلمانوں میں رائج غیر اسلامی رسم و رواج کا خاتمہ کرنا ہے۔اس کے لیےایک ضابطہ کےمطابق چند سالوں پر تمام مسلم آبادیوں میں امارت شرعیہ کے علماء پر مشتمل جماعت دینی و دعوتی دورہ کرتی رہتی ہے، اسی سلسلے کی ایک کڑی ضلع مشرقی چمپارن کا دورہ بھی ہے،جسے حضرت امیر شریعت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہم کی ہدایت پر حضرت مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی ناظم امارت شرعیہ نے مشرقی چمپارن کے لیےرخصت کیا،جس کے تحت کیسریا، کلیان پور، پتاہی اور ڈھاکہ بلاک کے مسلم مواضعات میں دعوتی واصلاحی فریضہ انجام دیا گیا،جس کی قیادت امارت شرعیہ سے جناب مولانا احمد حسین قاسمی مدنی معاون ناظم امارت شرعیہ نے کی۔ اس وفدمیں مرکزی دار القضا کے معاون قاضی شریعت جناب مولانا مفتی راشدانور قاسمی، جناب مولانا اطہر جاوید قاسمی قاضی شریعت ڈھاکہ مشرقی چمپارن، جناب مولانا سعود اللہ رحمانی مبلغ امارت شرعیہ، جناب مولانا ظہیر الحسن شمسی مبلغ امارت شرعیہ، جناب مولانا سجاد القاسمی صدر تنظیم کیسریا بلاک امارت شرعیہ اورجناب مولانا امان اللہ مظاہری صدر تنظیم امارت شرعیہ ڈھاکہ نمایاں طور پر شامل رہے۔
واضح رہے کہ اس وفد کے ذریعے تقریبا سولہ مرکزی مقامات پر 10 دسمبر سے 17 دسمبر 2025 عیسوی کی شب تک اصلاحی و دعوتی اجلاس عام منعقد کیے گئے؛ جہاں امارت شرعیہ کی خدمات ونمایاں کارکردگی سے لوگوں کو آگاہ کیا گیا، اوقاف کے حساس مسئلے پر مسلمانوں کی ضروری اور بنیادی
رہنمائی کی گئی، مساجد، مدارس ،عید گاہ اور قبرستان کی موقوفہ جائیداد کے دستاویزات کو محفوظ کرنے کی بات بھی سامنے آئی، وہیں اس موقع پر تمام آبادیوں میں دینی مکاتب کے قیام پر زور دیا گیا اور ہر آبادی سے نوجوانوں کی ایک تعداد دارالعلوم دیوبند اورندوۃ العلماء جیسے مرکزی اداروں میں بھیجنے کی ترغیب دی گئی تاکہ تمام مسلم ابادیوں میں دین کی دعوت دینے والے افراد ہر زمانے میں موجود رہیں، دوسری طرف عصری تعلیم کی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے نئی نسل کو عصری تعلیم گاہوں میں بھیجنے کی اپیل بھی کی گئی، چنانچہ اجج آخری دن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امارت شرعیہ کے معاون ناظم جناب مولانا احمد حسین قاسمی مدنی نے اس وفد کے آخری پروگرام موضع محمد پور میں مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کے ساتھ زندگی گزارنے کی تلقین کی اور انہیں ملک کی موجودہ صورتحال میں اپنی نئی نسل کےایمان کے تحفظ پر کرنے کے ضروری کاموں کی جانب متوجہ کیا اور حضرت امیر شریعت کا پیغام لوگوں تک پہنچایا،وہیں اس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے معاون قاضی شریعت مرکزی دار القضا امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی راشد انور قاسمی نے جائیداد میں بیٹیوں کی وراثت سے متعلق سیر حاصل گفتگو کی، اس موقع پر ڈھاکہ مشرقی چمپارن کے قاضی شریعت جناب مولانا اطہر جاوید قاسمی نے اصلاح معاشرہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج ہر طرف سے شعائر اسلام پر حملے ہو رہے ہیں اور اسلامی احکامات کے خلاف قانون بنائے جا رہے ہیں، ایسے میں امت کو اپنے کرنے کے کام ادا کرنے ہوں گے، اجلاس کی ابتدا میں جناب مولانا ظہیر الحسن شمسی صاحب نے امارت شرعیہ کے تمام شعبوں کا گراں قدر تعارف کرایا اور امارت شرعیہ کی ضرورت و اہمیت بتاتے ہوئے لوگوں کو تا حیات اس سے وابستہ رہنے کی تلقین کی ،وہیں آخر میں جناب مولانا سعود اللہ رحمانی مبلغ امارت شرعیہ نے مقامی حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ امارت شرعیہ کے علمائے کرام نے آکر جن تعلیمی، معاشرتی اور دینی پہلوؤں پر عام مسلمانوں کو متوجہ کیا ہے اگر آج ہم تمام لوگوں نے مل کر ان باتوں پر عمل نہ کیا تو آنے والے حالات مزید مجھے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اسی کے ساتھ انہوں نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور آخر میں قائد وفد جناب مولانا احمد حسین قاسمی مدنی کی رقت آمیز دعا پر آٹھ روز سے جاری اس دعوتی و اصلاحی پروگراموں کا بحسن بخوبی اختتام ہوا۔
Comments are closed.