مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
آئی سی یو انفیکشنز کے بڑھتے ہوئے خطرات پر جے این ایم سی میں لیکچر کا اہتمام
علی گڑھ، 18 دسمبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ میڈیسن میں ”ہندوستانی تناظر میں گرام منفی انفیکشنز“کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے پروفیسر افضل عظیم (چیئرمین، شعبہ کریٹیکل کیئر میڈیسن، ایس جی پی جی آئی ایم ایس، لکھنؤ) نے انتہائی نگہداشت یونٹس (آئی سی یو) میں اینٹی مائیکروبیئل مزاحمت کے بڑھتے ہوئے چیلنجوں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے آئی سی یو کے مریضوں میں نمونیا، خون کے انفیکشن اور سیپسس کا سبب بننے والے کثیر ادویاتی مزاحم گرام منفی انفیکشنز کی بڑھتی ہوئی شرح کا ذکر کیا اور کہا کہ ایسے انفیکشنز عموماً اسپتال میں طویل قیام، علاج کے اخراجات میں اضافہ اور اموات کی شرح میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ پروفیسر عظیم نے بہتر طبی نتائج کے لیے مقامی اینٹی بایوگرامز کی بنیاد پر اسپتال کے مخصوص انفیکشن ڈیٹا کے استعمال اور اینٹی بایوٹک پالیسیوں کو اپنانے کی وکالت کی۔
پروفیسر انجم پرویز، پرنسپل و چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، جے این ایم سی، اے ایم یو نے کہا کہ یہ لیکچر ادارے کے تعلیمی امتیاز اور ابھرتے ہوئے عوامی صحت کے چیلنجز سے نمٹنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ پروفیسر خواجہ سیف اللہ ظفر، چیئرپرسن، شعبہ میڈیسن نے اینٹی مائیکروبیئل مزاحمت میں تیزی سے اضافے کے پیش نظر اس نوعیت کی علمی گفتگو کو اہم قرار دیا۔ یہ لیکچر پروفیسر فاطمہ خان، شعبہ مائیکروبایولوجی، جے این ایم سی کی نگرانی میں منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر پروفیسر شہزاد فیض الحق، ڈاکٹر سید حسن امیر اور پروفیسر عبید صدیقی وغیرہ موجود تھے۔
٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ الیکٹرانکس انجینئرنگ کے زیر اہتمام امپیکٹ 2026 کے پری کانفرنس پوسٹر کی رونمائی
علی گڑھ، 18 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خان نے ملٹی میڈیا، سگنل پروسیسنگ اور کمیونیکیشن ٹکنالوجیز پر مبنی بین الاقوامی کانفرنس (امپیکٹ2026) کے پری کانفرنس پوسٹر کی رونمائی کی۔ یہ کانفرنس شعبہ الیکٹرانکس انجینئرنگ، ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی، اے ایم یو کے زیر اہتمام 13 فروری 2026 کو منعقد کی جائے گی۔ پوسٹر کی رونمائی کے موقع پر شعبہ کی چیئرپرسن پروفیسر طاہرہ پروین، پروفیسر عمر فاروق اور پروفیسر انور سادات بھی موجود تھے۔
شعبہ الیکٹرانکس انجینئرنگ نے امپیکٹ 2026 پری کانفرنس کے تحت پوسٹر اور پروجیکٹ پرزنٹیشن کے لیے انٹریز طلب کی ہیں۔ پری کانفرنس پروگرام میں ایم ٹیک، بی ٹیک، بی ای، ڈپلوما انجینئرنگ (تمام شعبہ جات)، ایم ایس سی اور بی ایس سی (سائنس) کے طلبہ کے ساتھ ساتھ صنعت سے وابستہ افراد شریک ہوں گے۔ اس کا مقصد تحقیق، اختراعی ڈیزائنز، پروٹوٹائپس اور لیبارٹری میں تیار کردہ عملی حل پیش کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، نیز طلبہ اور صنعت کے ماہرین کے ساتھ باہمی تعامل کو فروغ دینا ہے۔
دلچسپی رکھنے والے افراد 100 الفاظ پر محیط تلخیص 20 جنوری 2026 تک جمع کرسکتے ہیں۔
٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے سید حامد سینئر سیکنڈری اسکول (بوائز) نے انٹر اسکول فٹبال اور والی بال ٹورنامنٹ جیتا
علی گڑھ، 18 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سید حامد سینئر سیکنڈری اسکول (بوائز) نے انٹراسکول فٹبال ٹورنامنٹ میں آر ایم پی ایس اے ایم یو سٹی اسکول کو 1-0 سے شکست دے کر خطاب اپنے نام کیا۔ شاندار کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے سید حامد سینئر سیکنڈری اسکول (بوائز) کی والی بال ٹیم نے بھی ٹورنامنٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر محمد وسیم علی سمیت پروفیسر یوسف الزماں خان، پروفیسر انور شہزاد، پروفیسر محمد اعظم خان اور ڈاکٹر نوشاد وحید انصاری نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی اور ان کی ہمہ جہت ترقی میں کھیلوں کے کردار پر زور دیا۔مہمانوں کے بدست طلبہ میں میڈلز اور ٹرافیاں تقسیم کی گئیں۔
پرنسپل جناب صباح الدین نے مہمانوں کا استقبال کیا، جب کہ نائب پرنسپل جناب محمد جاوید خان نے اظہار تشکر کیا۔ ٹورنامنٹ کے انعقاد میں ڈاکٹر نوشاد نجیب، ڈاکٹر ذیشان حیدر، اشرف خان، معراج احمد اور عرش اظہر نے تعاون کیا۔
٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ سیاسیات میں بین الاقوامی یومِ حقوق اقلیت پر سمپوزیم کا اہتمام
علی گڑھ، 18 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات نے بین الاقوامی یومِ حقوق اقلیت کے موقع پر ایک روزہ سمپوزیم منعقد کیا، جس میں اقلیتی حقوق سے متعلق آئینی تحفظات، عالمی طریق ہائے عمل اور عصری چیلنجوں پر گفتگو کی گئی۔
مقررین اور شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے شعبہ کے چیئرپرسن پروفیسر محمد نفیس احمد انصاری نے بین الاقوامی یومِ حقوقِ اقلیت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ یہ دن حکومتوں کو اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر پالیسیوں کی تشکیل اور نفاذ میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
پروفیسر عرشی خان نے کہا کہ اقلیتوں کے ساتھ برتاؤ کسی بھی حکومت اور ملک کے لیے ایک کسوٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اقلیتوں کے تحفظ کے لیے آسٹریلیا میں اختیار کی گئی پانچ نکاتی اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے دیگر ممالک کے لیے ان کی افادیت واضح کی۔ پروفیسر محمد آفتاب عالم نے انفرادی اور اجتماعی حقوق دونوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور آئین ہند کے آرٹیکل 30 کو ہندوستان میں اقلیتی حقوق کی بنیاد قرار دیا۔
پروفیسر محمد محب الحق نے ہندوستانی تناظر میں اقلیتوں کے تصور اور اقسام کی وضاحت کی، اور ریاست کی اس ذمہ داری پر زور دیا کہ وہ جبری انضمام اور نفرت پر مبنی بیانیوں کے مقابلے میں اقلیتی شناخت اور حقوق کا تحفظ کرے۔ مسٹر پرویز عالم نے اقلیت اور پاپولزم کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے تجزیہ کیا کہ کس طرح اکثریتی سیاسی بیانیے میں اقلیتیں مرکزی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔
سمپوزیم کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر مرزا اسمر بیگ نے کہا کہ ہندوستان میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے دنیا کے مضبوط ترین آئینی فریم ورک میں سے ایک موجود ہے۔ انہوں نے آئین سازوں کی دوراندیشی کو سراہا جنہوں نے اقلیتی حقوق کو بنیادی حقوق کے باب میں شامل کیا۔
آخر میں پروفیسر اقبال الرحمٰن نے کلمات تشکر ادا کئے۔
Comments are closed.