محمد اطہر حسین کے قاتلوں کو پھانسی کی سزا دی جائےاورمقتول کے وارثین کو پچاس لاکھ روپے وبیوہ کونوکری دی جائے
بہار کی ملی تنظیموں کا مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومتِ بہار سے پُرزور مطالبہ
(پریس ریلیز، پٹنہ: 18 دسمبر 2025)
مرکزی دفترامارتِ شرعیہ، پھلواری شریف پٹنہ میں بہار کی ملی تنظیموں— امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈجماعتِ اسلامی ہند (بہار)، جمعیت العلماء ہند (بہار الف)، جمعیت العلماء ہند (بہار میم)، ادارۂ شرعیہ (ڈاکٹر فرید امان اللہ)، آل انڈیا مومن کانفرنس (بہار)مرکزی جمعیت اہل حدیث (بہار) اور مجلسِ علماء خطباء امامیہ (اہلِ تشیع)—نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کی، جس میں بہار شریف کے باشندہ محمد اطہر حسین کی ماب لنچنگ پر شدید رنج و غم اور گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ 5 دسمبر 2025 کو ضلع نوادہ کے روہ تھانہ علاقہ کے بھٹا گاؤں میں چند سماج دشمن عناصر نے محمد اطہر حسین ولد محمد عالم کو نہایت ہی سفاکانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہیں شناخت، نام اور مذہب کی بنیاد پر روکا گیا، ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا، ہاتھ پاؤں باندھ کر بند کمرے میں منتقل کیا گیا اور لوہے کی سلاخوں، بجلی کے کرنٹ اور دیگر وحشیانہ طریقوں سے اس قدر تشدد کیا گیا کہ وہ شدید زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں 12 دسمبر 2025 کو پاواپوری سرکاری اسپتال میں علاج کے دوران ان کی موت واقع ہو گئی۔
ملی تنظیموں کے نمائندوں نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کر کے صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ معلوم ہوا کہ مرحوم ایک محنت کش اور پُرامن شہری تھے، جو کپڑے بیچ کر اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کرتے تھے۔ وہ چار بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اور محنتی اور دیانتدارانسان تھے۔ واقعہ کے بعد خاندان پر معاشی اور نفسیاتی تباہی ٹوٹ پڑی ہے اور وہ شدید عدم تحفظ اور خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
پریس کانفرنس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ تشدد کے بعد ملزمان نے حقیقت کو مسخ کرنے اور خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے منظم سازش کے تحت جھوٹا بیانیہ گھڑا، اور مرحوم کے خلاف فرضی ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود اہلِ خانہ نے قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے 6 دسمبر 2025 کو 10 نامزد اور 5 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا، جس میں اب تک متعدد ملزمان کی گرفتاری عمل میں آ چکی ہے، تاہم کچھ اصل مجرم اب بھی قانون کی گرفت سے باہر ہے۔
ملی تنظیموں نے اس حقیقت پر سخت تشویش ظاہر کی کہ مرحوم کی اہلیہ اور تین کم سن بچے—جو تعلیمی مراحل میں ہیں—اس اندوہناک سانحہ کے بعد مکمل طور پر بے سہارا ہو چکے ہیں۔ خاندان کا واحد ذریعۂ معاش ختم ہو چکا ہے اور مستقبل شدید غیر یقینی کا شکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ خاندان کو اب بھی جان و مال کے خطرات لاحق ہیں، جس کے باعث وہ خوف اور دباؤ کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔
ملی تنظیموں نے مشترکہ پریس بیان میں کہا کہ یہ واقعہ محض ایک فرد کے قتل کا معاملہ نہیں بلکہ یہ آئینِ ہند، قانون کی بالادستی اور سماجی ہم آہنگی پر سنگین حملہ ہے۔ اگر ایسے جرائم کے خلاف فیصلہ کن اور سخت کارروائی نہیں کی گئی تو سماج میں نفرت، تشدد اور لاقانونیت کو فروغ ملے گا، جس کے نتائج نہایت خطرناک ہوں گے۔
ملی تنظیموں نے واضح کیا کہ ماب لنچنگ جیسے واقعات نہ صرف اقلیتوں بلکہ پورے سماج کے امن، استحکام اور بہار کی بقا وترقی کے لیے شدید خطرہ ہیں۔ اگر ریاستی سطح پر ماب لنچنگ کی روک تھام کے لئے مؤثر ومضبوط اقدامات کئے جائیں
مطالبات
ریاستی حکومتِ بہار سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ:
۱. اس معاملہ کی سماعت فاسٹ ٹریک عدالت میں کرائی جائے اور ماب لنچنگ میں ملوث مجرموں کو پھانسی کی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے جرائم کی روک تھام ہو۔
۲. جو ملزمان تاحال مفرور ہیں انہیں فوری طور پر گرفتار کر کے تعزیراتِ ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت سخت سزا دی جائے۔
۳. مقتول کے ورثاء کو کم از کم 50 لاکھ روپے کا معاوضہ فراہم کیا جائے تاکہ خاندان کی معاشی بحالی ممکن ہو سکے۔
۴. مقتول کی اہلیہ کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے تاکہ خاندان کی مستقل کفالت ہو سکے۔
۵. مرحوم کے تینوں بچوں کی تعلیم، صحت اور فلاح و بہبود کی مکمل ذمہ داری حکومت اٹھائے۔
۶. ریاست میں بڑھتی ہوئی قانون کی بحالی اور غنڈہ گردی پر قابو پانے کے لیے پولیس اور انتظامیہ کو مزید موثر، جواب دہ اور چاق و چوبند بنایا جائے۔
۷. آئندہ ایسا مذموم واقعہ پیش نہ آئے اس کو یقینی بنایا جائے۔
Comments are closed.