ملک کے آئین میں اقلیتوں کودیے گئے حقوق سے واقفیت ہر فرد کے لیے ضروری:انیس الرحمن قاسمی
اقلیتوں کے حقوق کی پامالی میں میڈیاآج پیش پیش:محمدنافع عارفی
یوم اقلیت کے موقع پر منعقدآل انڈیا ملی کونسل بہار کے زیراہتمام خصوصی نشست
پھلواری شریف 18/دسمبر2025ء(پریس ریلیز)
عالمی حقوق اقلیت کے موقع پردفتر آل انڈیا ملی کونسل، بہارمیں ایک خصوصی نشست آل انڈیا ملی کونسل کے کارگزار صدر،امیرشریعت حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی کی صدارت میں ہوئی۔مولاناقاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں دستورہندمیں اقلتیوں سے متعلق دفعات کاذکر کرتے ہوئے فرمایاکہ ملک کے دستورمیں اقلیتوں کوجوحقوق دیے گئے ہیں،ان سے ہر فرد کوواقف ہوناضروری ہے؛تاکہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے جد وجہد کر سکیں،مزید فرمایاکہ پوری دنیا میں جہاں بھی کوئی اقلیت رہتی ہے،خواہ وہ مذہبی اقلیت ہویا لسانی،یا نسلی،ان کو عام طوپر اکثریت کے مقابلہ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لہذااقلیتوں کوڈرنانہیں چاہیے۔ہمارے ملک میں بڑی اقلیتیں مسلم،سکھ،پارسی،عیسائی اورجہاں جہاں جین اوربودھ رہتے ہیں،انہوں نے اپنے حقوق کے لیے مثبت جدوجہد کی ہے،وہاں انہوں نے اپنی کامیابی پائی ہے اوروہاں ترقی نے ان کا قدم چوما ہے،انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے کچھ حصوں میں اقلیتوں کے تئیں جو بھید بھاؤ اورناانصافی دیکھی جارہی ہے،اس کی بنیادی وجہ نفرت ہے،نفرت کو ایک خاص طبقہ نے اس طرح پھیلایا ہے کہ اس نے سماج کے بیچ دراڑپیداکردیا ہے اورایسی خلیج حائل کردی ہے،جوایک دوسرے کو سمجھنے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے،یہی وجہ ہے کہ نفرتی ٹولے اقلیتوں کے حقوق کے حصول میں آڑے آرہے ہیں اوریہ ناانصافی مختلف سطح پر ہورہی ہے،اس کے سد باب کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے حقوق کوپہچانیں اورنفرت کا جواب محبت سے دیں،اقلیتوں پر یہ بھی ضروری ہے کہ و ہ اپنے آپ کو تعلیمی طورپر مضبوط کریں،اسی غرض سے آل انڈیا ملی کونسل نے مشن تعلیم 2050ء کے تحت پورے ملک میں تعلیمی تحریک چلا رہی ہے،انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتوں کو چاہیے کہ وہ کالج، اسکول اوردیگر تعلیمی اداروں کے قیام کی طرف توجہ دیں اوراپنی سطح پر اپنے ادارے قائم کریں،نیز سرکاری وسیاسی سطح پر اپنے حقوق کے حصول کی بھرپور کوشش کریں اورجوحقوق وفرائض ایک دوسرے کے ہیں،ان کودینے کی ہمہ وقت کوشش کریں۔مولانا ڈاکٹرمحمدعالم قاسمی صدرآل انڈیا ملی کونسل، بہار نے کہاکہ کوئی بھی ملک اقلیتوں کو نظرانداز کرکے ترقی نہیں کرسکتا ہے،اقلیتوں کو مین اسٹریم میں شامل کرنا ضروری ہے،ہم ملک کی دیگر اقلیتوں کے ساتھ مل جل کر رہیں،اسلام میں حقوق کی بڑی اہمیت ہے،ہمیں اپنے حقوق مثبت اندازمیں حاصل کرنے کی ضرورت ہے،رونے اورمایوسی سے حقوق نہیں ملتے ہیں۔مولانامحمد نافع عارفی جنرل سکریٹری آل انڈیاملی کونسل،بہارنے کہاکہ اقلیتوں کے لیے مخصوص سرکاری مراعات سے مسلمانوں کے بجائے دوسری اقلیتیں زیادہ فائدہ اٹھاتی ہیں،مسلمانوں کواپنے حقوق معلوم نہیں ہیں،بہت سے بجٹ ضائع ہوجاتے ہیں،احساس کمتری سے نکلنا ضروری ہے،خود اعتمادی ضروری ہے،سیاسی شعور پیدا کرنے کی صورت میں ہی اقلیتوں کے مسائل حل ہوں گے۔مولاناعارفی نے مزیدکہا کہ آج اقوام متحدہ کے ریزولیشن کے مطابق پوری دنیا یوم حقوق اقلیت منا رہی ہے؛لیکن اس کی بنیاد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی اورمسلم حکومتوں میں زندگی بسرکرنے والی اقلیتوں کے حقوق واضح طورپر متعین فرمادیے،چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ اگر کسی نے اہل ذمہ کو قتل کیا تو اسے جنت کی خوشبونہیں ملے گی،اسی طرح اسلام نے اقلیتوں کے حقوق کی تحفظ کے لیے قانون سازی کی اوراس قدر اہتمام تھا کہ حضرت عمر ؓ نے اپنے بعد منتخب ہونے والے خلیفہ کو،جو وصیت کی اس میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر خاص توجہ دلائی ہے،یہی وجہ ہے کہ اسلامی کتابوں میں حقوق اہل ذمہ کے تحت اقلیتوں کے حقوق کے سلسلے میں اللہ اوراس کے رسول کے احکام کا ذکرکیا گیا ہے۔ہمارے ملک میں بھی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے،ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں اپنے حقوق کے حصول کے لیے مثبت جدوجہد کرنی چاہیے۔جنا ب نوشاد اعظم صاحب جنرل سکریٹری آل انڈیاملی کونسل،ضلع پٹنہ نے بھی اقلیتوں کے حقوق کے سلسلہ میں اہم نکات کی طرف توجہ دلائی۔جناب نجم الحسن نجمی صاحب نے کہاکہ آج یوم حقوق اقلیت کے موقع پر ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم یہ عہد کریں کہ ملک کی تمام اقلیتوں کوساتھ لے کر اس ملک میں اقلیتوں کے حقوق کے حصول کی جدو جہد کریں گے،ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے قانون میں دئے گئے اپنے حقوق سے واقفیت حاصل کریں۔ اخیر میں برصغیر کی ایک عظیم شخصیت حافظ پیرذوالفقار احمد نقشبندی اورجامعہ رحمانی کے مؤقراستاذمفتی اعجازرحمانی کے انتقال پرتعزیتی نشست ہوئی اوردعاء مغفرت کی گئی،جب کہ پروگرام کاآغازحافظ انجینئرعارف کی تلاوت اورحافظ محمدعاصم کے نعتیہ کلام سے ہوا۔اس میں جن لوگوں نے شرکت کی،ان میں مفتی جمال الدین قاسمی،مولانارضاء اللہ قاسمی،مفتی فیضان رضی،جناب شمیم علوی کے نام قابل ذکرہے۔
Comments are closed.