گلے میں پھندا ڈال کر شادی شدہ خاتون کا قتل، شوہر اور سسر گرفتار، سنگھواڑہ تھانہ علاقے کا معاملہ، جہیز کے لیے قتل کا الزام

 

جالے(محمد رفیع ساگر)

سنگھواڑہ تھانہ علاقے کے منکولی پنچایت واقع مئن ٹولا میں جمعہ کے روز جہیز کی مانگ پوری نہ ہونے پر سسرالیوں کی جانب سے ایک نو بیاہتا خاتون کو گلے میں پھندا ڈال کر قتل کرنے کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں متوفیہ کے شوہر لال بابو یادو اور سسر ارجن یادو کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

 

پولیس کے مطابق مقتولہ رانی کماری کی عمر تقریباً چوبیس برس تھی۔ تھانہ صدر بسنت کمار نے خاتون کی لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایم سی ایچ دربھنگہ بھیج دیا ہے۔ ادھر شوہر اور سسرالیوں کا دعویٰ ہے کہ خاندانی تنازع کے باعث خاتون نے گھر میں پنکھے سے ساڑی کا پھندا بنا کر خودکشی کر لی۔

 

دوسری جانب متوفیہ کی ماں شانتی دیوی، ساکن موہن پور، پیئر تھانہ علاقہ، ضلع مظفرپور نے داماد لال بابو یادو اور اس کے اہل خانہ پر جہیز کے لیے بیٹی کو مسلسل ہراساں کرنے اور گلا گھونٹ کر قتل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ پولیس کو دیے گئے بیان میں شانتی دیوی نے بتایا کہ چار سال قبل ان کی بیٹی کی شادی منیکولی کے رہنے والے لال بابو یادو سے ہوئی تھی۔ رانی کماری کے دو کم سن بچے ہیں جن میں ایک بیٹا سدھارتھ کمار تین سال اور دوسرا پریانشو دو سال کا ہے۔

 

شانتی دیوی کے مطابق لال بابو یادو فرید آباد میں مزدوری کرتا ہے اور سسرالی جانب سے جہیز کے لیے اس کی بیٹی کو مسلسل ذہنی و جسمانی اذیت دی جاتی تھی، جس کے سبب وہ گزشتہ ایک سال سے اپنے میکے مظفرپور میں رہ رہی تھی۔ چار دسمبر کو رانی کماری اپنے میکے سے واپس سسرال مئن ٹولا آئی تھی۔ جمعرات کی رات تقریباً آٹھ بجے ان کی بیٹی سے موبائل پر بات ہوئی تھی، اس دوران میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہو رہا تھا۔ اگلی صبح تقریباً آٹھ بجے داماد نے فون کر کے اطلاع دی کہ ان کی بیٹی نے خودکشی کر لی ہے۔

 

پوسٹ مارٹم کے لیے لاش لے جانے کے دوران متوفیہ کے موسا شنکر رائے سمیت دیگر رشتہ داروں نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پہلے دونوں بچوں کے مستقبل سے متعلق یقین دہانی اور سمجھوتہ کیا جائے، اس کے بعد ہی لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا جائے۔ پولیس اور مقامی لوگوں کی مداخلت سے کسی طرح حالات کو قابو میں لایا گیا۔

 

تھانہ صدر بسنت کمار نے بتایا کہ متوفیہ کی والدہ کے فردِ بیان کی بنیاد پر مقدمہ درج کر کے آگے کی قانونی کارروائی کی جا رہی ہے.

Comments are closed.