مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو کے گود لئے گئے گاؤں میں صحت کیمپ کا اہتمام
علی گڑھ، 19 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے سوشل ورک شعبہ نے: ہفت روزہ دیہی سرمائی کیمپ کے تحت شعبہ تحفظی و سماجی طب کے اشتراک سے اے ایم یو کے گود لئے گئے گاؤں مرزا پور سیا خاص میں ایک صحت کیمپ منعقد کیا۔
پنچایت گھر میں منعقدہ اس کیمپ کا اہتمام چیف میڈیکل آفیسر، علی گڑھ کے تعاون سے کیا گیا، جس میں کمیونٹی میڈیسن، پیڈیاٹرکس، پیریوڈونٹکس و کمیونٹی ڈینٹسٹری، یونانی طب، آپٹومیٹری، ذیابیطس نگہداشت اور دماغی و عمومی صحت کی خدمات سے وابستہ طبی ماہرین نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ کمیونٹی ہیلتھ سینٹر، جواں، ڈائبیٹیز فاؤنڈیشن (علی گڑھ چیپٹر) اور میڈکس این جی او کا بھی تعاون شامل رہا۔
کیمپ کا افتتاح سابق وائس چانسلر، اے ایم یو پروفیسر محمد گلریز نے کیا۔ اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز اور چیئرمین شعبہ سوشل ورک پروفیسر اکرام حسین، چیئرپرسن شعبہ تحفظی و سماجی طب پروفیسر روبی انجم اور پروفیسر نسیم احمد خان بھی موجود تھے۔
پروفیسر گلریز نے اس اقدام کو ادارہ جاتی سماجی ذمہ داری کا ایک اہم جزو قرار دیتے ہوئے دیہی علاقوں میں مسلسل عوامی رسائی کی سرگرمیوں کی ضرورت پر زور دیا۔ پروفیسر اکرام حسین اور پروفیسر نسیم احمد خان نے گاؤں میں ایسے اقدامات کے تسلسل کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جبکہ پروفیسر روبی انجم نے متوازن غذا، صفائی، محفوظ پینے کے پانی، منھ و دانتوں کی صحت اور جسمانی سرگرمیوں سے متعلق آگہی کے ذریعے صحت عامہ کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
کیمپ میں مفت طبی معائنہ، مشاورت، ماں اور بچے کی صحت، بیماریوں سے بچاؤ اور صحت مند طرزِ زندگی سے متعلق بیداری نشستیں منعقد کی گئیں، نیز مفت ادویات بھی تقسیم کی گئیں۔ اس سے 230 سے زائدمقامی افراد مستفید ہوئے۔ کیمپ کے بہتر انتظام کے لیے رجسٹریشن کاؤنٹر قائم کیے گئے تھے۔
دیہی سرمائی کیمپ کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد طاہر نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور ضلعی صحت انتظامیہ، فیکلٹی ممبران، ڈاکٹروں اور طلبہ کے تعاون کا اعتراف کیا۔ یہ پروگرام شعبہ سوشل ورک، شعبہ تحفظی و سماجی طب، کمیونٹی میڈیسن، پیڈیاٹرکس اور کمیونٹی ڈینٹسٹری کے فیکلٹی اراکین کے علاوہ ریسرچ اسکالرز اور ایم ایس ڈبلیو طلبہ کی مشترکہ کاوشوں سے منعقد کیا گیا۔
٭٭٭٭٭
اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول (گرلز) میں طالبات کی الوداعی تقریب منعقد
علی گڑھ، 19 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے اے بی کے ہائی اسکول (گرلز) میں دسویں جماعت کی طالبات کے لیے نویں جماعت کی طالبات نے اسکول کے پرائمری سیکشن میں ایک الوداعی تقریب کا اہتمام کیا۔
اس موقع پر مہمان خصوصی پروفیسر قدسیہ تحسین کے اے ایم یو کے اسکول ایجوکیشن کا ڈائریکٹر مقرر ہونے پراے بی کے ہائی اسکول کی پرنسپل ڈاکٹر ثمینہ اور وائس پرنسپل ڈاکٹر صبا حسن نے سینئر اساتذہ کے ہمراہ ان کی عزت افزائی کی۔ شعبہ تعلیم کی چیئرپرسن پروفیسر نکہت نسرین اور عبداللہ اسکول کی سپرنٹنڈنٹ محترمہ عمرہ ظہیر بھی بطور خاص موجود تھیں۔
طالبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ثمینہ نے انہیں توجہ مرکوز رکھنے، دیانت داری سے محنت کرنے اور سیکھنے کا سلسلہ جاری رکھنے کی تلقین کی۔ پروفیسر قدسیہ تحسین اور پروفیسر نکہت نسرین نے طالبات کو چیلنجوں کو قبول کرنے اور وقت کے بہتر استعمال کی ترغیب دی، جبکہ محترمہ عمرہ ظہیر نے بہترین کارکردگی کے حصول کے لیے مسلسل کوشاں رہنے پر زور دیا۔ ڈاکٹر صبا حسن نے جماعت دہم کی طالبات کی خدمات کو سراہا اور انہیں اعتماد کے ساتھ اپنے مقاصد کے حصول کی ترغیب دی۔
جماعت نہم کی طالبات نے رقص، موسیقی، شاعری، ڈرامے اور قوالی سمیت ثقافتی پروگرام پیش کیے۔ جماعت دہم کے لیے منعقدہ مس اے بی کے مقابلہ میں عفنان حسن کو مس اے بی کے قرار دیا گیا، جبکہ علمہ رضوان اور رمیشہ کوثر بالترتیب پہلے اور دوسرے رنر اپ رہے، جب کہ انوشکا جادون کو خصوصی انعام دیا گیا۔
ہیڈ گرل علمہ رضوان نے اساتذہ اور ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا۔ آخر میں رخصت ہونے والی طالبات کو تحائف اور اسناد پیش کی گئیں۔
٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے ریسرچ اسکالر کو بین الاقوامی کانفرنس میں بیسٹ پیپر ایوارڈ سے نوازا گیا
علی گڑھ، 19 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ وائلڈ لائف سائنسز کے اے ایم کے بایو لیب سے وابستہ ریسرچ اسکالر سندیپ کمار کوشل کو کیرالہ کے کوڈنگلور میں واقع ایم ای ایس اسماء بی کالج میں دریائی کناروں کے ماحولیاتی نظام پر مبنی بین الاقوامی کانفرنس میں عمدہ ترین مقالہ پیشکش کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز انہیں ایک بیحد معلوماتی تحقیقی مقالہ پیش کرنے کے لئے دیا گیا۔
مسٹر کوشل کے نگراں ڈاکٹر احمد مسعود خان نے اس کامیابی پر انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اے ایم یو کے شعبہ وائلڈ لائف سائنسز اور اے ایم کے بایو لیب کو بین الاقوامی سطح پر شناخت حاصل ہوئی ہے۔
٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے احمدی اسکول میں فٹ انڈیا ہفتہ میں طلبہ و طالبات کی پرجوش شرکت
علی گڑھ، 19 دسمبر:علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے احمدی اسکول برائے نابینا طلبہ میں منعقدہ فٹ انڈیا ہفتہ میں طلبہ و طالبات نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔
پروگرام کا افتتاح اے ایم یو کے ڈائریکٹریٹ آف اسکول ایجوکیشن کی ڈائریکٹر پروفیسر قدسیہ تحسین نے پرنسپل ڈاکٹر نائلہ رشید کے ہمراہ کیا۔ اس موقع پر طلبہ اور عملے کو فٹ انڈیا کا حلف دلایا گیااور فٹنس اور صحت مند زندگی کے عزم کی تجدید کی گئی۔ ربن ڈرل اور یوگ ڈانس سمیت ثقافتی پروگراموں نے جسمانی سرگرمی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
مختلف اسکولوں کے طلبہ و طالبات کی ٹیموں کے درمیان رسہ کشی کا مقابلہ توجہ کا مرکز رہا۔ لڑکوں کے زمرے میں راجا مہندر پرتاپ سنگھ اسکول نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ سیدنا طاہر سیف الدین اسکول (ایس ٹی ایس) رنر اپ رہا۔ لڑکیوں کے زمرے میں اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول نے اول مقام حاصل کیا، جبکہ احمدی اسکول برائے نابینا طلبہ کی ٹیم دوسرے مقام پر رہی۔
حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر قدسیہ تحسین نے فٹنس اور سبھی کی شمولیت کو فروغ دینے کے تئیں اسکول کی کاوشوں کو سراہا، جبکہ ڈاکٹر نائلہ رشید نے صحت مند طرز زندگی کی اہمیت پر زور دیا۔ آخر میں میڈلز اور اسناد پیش کی گئیں۔
پروگرام کا اہتمام مسٹر عادل جلیل، مسٹر سراج الدین شیخ، علیکہ تبسم، مارم فاطمہ، ثنا شمشاد اور حمیرا رئیس کی کاوشوں سے کیا گیا، جبکہ نظامت کے فرائض ارم فاطمہ نے انجام دئے۔
٭٭٭٭٭
یومِ حقوقِ اقلیت پر اے ایم یو میں سمینار کا اہتمام، وِکست بھارت کے لیے شمولیتی ترقی پر زور
علی گڑھ، 19 دسمبر: یومِ حقوق اقلیت کے موقع پر دی نوبل سپورٹ فاؤنڈیشن، علی گڑھ کے زیرِ اہتمام مولانا آزاد لائبریری، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے کلچرل ہال میں ایک سمینار منعقد کیا گیا۔ قومی سطح پر منائے جانے والے یومِ حقوقِ اقلیت کے تناظر میں اس پروگرام کا موضوع تھا:“سماجی و معاشی خلا اور پالیسی: وِکست بھارت کے لیے عدم مساوات کا خاتمہ“۔ سمینار میں اقلیتی حقوق کے تحفظ، سماجی و معاشی عدم مساوات کو کم کرنے اور شمولیتی ترقی کو ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد قرار دیا گیا۔
پروفیسر مرزا اسمر بیگ، شعبہ سیاسیات، اے ایم یو نے اقلیتوں کے تصور پر مفصل خطاب کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اقلیتی حقوق کا تحفظ سماجی ہم آہنگی، انصاف اور قومی اتحاد کے لیے ناگزیر ہے۔
پروفیسر محمد رضوان خان نے اقلیتی تعلیمی ادارے کی حیثیت سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخی اور موجودہ اہمیت کو اجاگر کیا اور تعلیم کے ذریعے محروم طبقات کو بااختیار بنانے میں اس کے کردار کو سراہا۔ پروفیسر سید علی نواز زیدی نے آزادی کے بعد سے اقلیتوں کی مستقل موجودگی اور ان کی اہم خدمات کا ذکر کیا اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے آئینی ضمانتوں اور پالیسی اقدامات پر روشنی ڈالی۔
پروگرام کا آغاز فیض الرحمٰن شیروانی کے خطبہ استقبالیہ سے ہوا، جس میں انہوں نے موضوع کا تعارف پیش کرتے ہوئے ہندوستانی جمہوری نظام میں اقلیتوں کے لازمی کردار پر روشنی ڈالی۔
اس موقع پر پروفیسر نسیم احمد (سابق چیئرمین، شعبہ سوشل ورک)، پروفیسر وبھا شرما (ممبر انچارج، دفتر رابطہ عامہ، اے ایم یو)، پروفیسر عفت اصغر(ڈپٹی پراکٹر)، پروفیسر نشاط فاطمہ (لائبریرین، مولانا آزاد لائبریری)، ڈاکٹر سید کلیم افروز زیدی (یونیورسٹی پولی ٹیکنک)، ڈاکٹر محمد طاہر، ڈاکٹر محمد عارف، ڈاکٹر قرۃ العین علی، ڈاکٹر صدف (سینٹر فار فوڈ ٹیکنالوجی)، ڈاکٹر راشد عمران (اسسٹنٹ پراکٹر) اور ڈاکٹر مجاہد علی خان (اسسٹنٹ ڈی ایس ڈبلیو) موجود تھے۔
سمینار کا اختتام دی نوبل سپورٹ فاؤنڈیشن کے صدر محمد عظیم خان کے کلماتِ تشکر کے ساتھ ہوا۔ پروگرام کی نظامت ایمن نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔ دی نوبل سپورٹ فاؤنڈیشن کے اراکین و رضاکاروں بشمول قمر الحسین (نائب صدر، این ایس ایف)، محمد انش، ایمن، سلمان، فیض، دعا رشیدی، عفان، عروس شبھم، ذوالکف، انیس، ارشاد، ندیم گوہر،ٹی کمار، عرش وغیرہ نے سمینار کی کامیاب تنظیم میں اہم کردار ادا کیا۔
Comments are closed.