ناموں میں الجھی سیاست اور مسائل میں گھرا ہندوستان
احمدافتخارقادری
iftikharahmadquadri@gmail.com
ملک کی سیاسی تاریخ میں بعض ادوار ایسے آتے ہیں جب اقتدار کی ترجیحات قوم کے حقیقی مسائل سے کٹ کر محض علامتوں، نعروں اور ناموں کے گرد گھومنے لگتی ہیں۔ موجودہ دور کی سیاست بھی کچھ اسی کیفیت سے دو چار نظر آتی ہے۔ جب ایک طرف عوام مہنگائی، بے روزگاری، معاشی غیر یقینی اور سماجی اضطراب کے بوجھ تلے دبے ہوں ایسے میں اقتدار کے ایوانوں میں اگر سب سے زیادہ توانائی ناموں کی تبدیلی اور علامتی فیصلوں پر صرف ہونے لگے تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ آخر ریاست کی اصل ذمہ داری کیا ہے اور حکمرانی کا مقصد کس سمت بڑھ رہا ہے؟ آج ملک جن سنگین مسائل سے دو چار ہے وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوتی جا رہی ہیں، نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع سکڑتے جا رہے ہیں، کسان قرض اور ناامیدی کے دلدل میں پھنستے جا رہے ہیں، بڑے شہروں میں آلودگی زندگی کو نگل رہی ہے، خواتین کے خلاف جرائم سماج کے چہرے پر بدنما داغ بن چکے ہیں اور نظم و نسق کی کمزوری عام شہری کے احساس تحفظ کو مجروح کر رہی ہے۔ عالمی سطح پر خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی کئی سوالات اٹھ رہے ہیں، پڑوسی ممالک سے تعلقات ہوں یا بڑی طاقتوں کے ساتھ سفارتی توازن ہر جگہ پیچیدگیاں نمایاں ہیں۔ اس پس منظر میں اگر سیاست کا محور عوامی مسائل کے حل کے بجائے ناموں کی تبدیلی بن جائے تو اسے محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا۔ دراصل یہ ایک سوچ، نظریہ اور ایک مخصوص سیاسی حکمتِ عملی کی علامت ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں ملک نے یہ منظر بارہا دیکھا کہ شہروں، سڑکوں، چوراہوں اور اداروں کے قدیم نام بدل دیے گئے۔ تاریخ کے صفحات سے بعض ادوار اور کرداروں کو یا تو مٹانے کی کوشش کی گئی یا انہیں یک رخا انداز میں پیش کیا گیا۔ نصابی کتابوں میں ترمیم کے نام پر صدیوں پر محیط مشترکہ وراثت کو محدود بیانیے میں سمیٹ دیا گیا۔ اس تمام عمل کو قوم کی شناخت کی بازیافت کا نام دیا گیا مگر درحقیقت اس کے پیچھے نفرت اور تقسیم کی سیاست کار فرما رہی۔ اب یہ سلسلہ ایک ایسے نام تک جا پہنچا ہے جو محض تاریخ نہیں بلکہ ہندوستان کی روح، اس کی اخلاقی بنیاد اور آئینی تشخص کی علامت ہے۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی کا نام کسی فرد یا جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ پورے ملک کی مشترکہ امانت ہے۔ ان کے نام سے منسوب دیہی روزگار ضمانت قانون صرف ایک فلاحی اسکیم نہیں بلکہ ریاست کی اس ذمہ داری کا اظہار ہے جو وہ اپنے سب سے کمزور شہریوں کے تئیں قبول کرتی ہے۔ اس قانون کے نام کو بدلنے یا اس سے گاندھی کے نام کو الگ کرنے کی کوشش دراصل ایک علامتی قدم نہیں بلکہ ایک گہری نظریاتی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے۔
یہ حقیقت اب پوشیدہ نہیں رہی کہ ملک میں دو متضاد نظریات آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ ایک طرف وہ فکر ہے جو گاندھی کے سیکولرزم، عدم تشدد، سماجی انصاف اور کثرت میں وحدت کے تصور سے جڑی ہوئی ہے۔ دوسری طرف وہ نظریہ ہے جو طاقت، یکسانیت اور اکثریتی غلبے کو قومی شناخت کا معیار بنانا چاہتا ہے۔ ناموں کی تبدیلی اسی نظریاتی تصادم کی ایک کڑی ہے جہاں مقصد صرف الفاظ بدلنا نہیں بلکہ اجتماعی شعور کو نئے سانچے میں ڈھالنا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ رجحان مسلسل مضبوط ہوا ہے کہ تاریخ و تہذیب اور فلاحی پالیسیوں کو بھی نظریاتی وفاداری کے پیمانے پر پرکھا جائے۔ مغل دور کو محض حملہ آوروں کے عہد کے طور پر پیش کرنا، مسلم حکمرانوں کے کارناموں کو یا تو نظر انداز کرنا یا منفی رنگ میں دکھانا اور صدیوں کی مشترکہ تہذیب کو مذہبی خانوں میں بانٹ دینا اسی سوچ کا تسلسل ہے۔ ابتدا میں یہ عمل خاموشی سے جاری رہا مگر اب اس نے اس حد کو بھی چھو لیا جہاں گاندھی جیسے عالمی قد کاٹھ کے رہنما کی فکر اور وراثت کو بھی قابلِ برداشت نہیں سمجھا جا رہا۔ گاندھی کے نام سے جڑی کسی اسکیم کو ختم کرنا یا اس کا نام بدلنا دراصل گاندھی کے تصورِ ریاست سے انحراف ہے۔ وہ تصور جس میں ریاست کا کام کمزور کو سہارا دینا، سماج میں توازن قائم رکھنا اور اختلاف کے باوجود ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ موجودہ حکمراں طبقے کی سیاست میں گاندھی ایک رسمی علامت تو ہو سکتے ہیں مگر عملی سطح پر ان کے افکار کے لئے کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔ اس کے برعکس، تشدد، نفرت اور تقسیم پر مبنی بیانیہ بالواسطہ طور پر تقویت پا رہا ہے جو ملک کی روح کے لئے ایک خطرناک علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے پر ملک کی سیکولر سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور گاندھی کے نظریات سے وابستہ طبقات میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے احتجاج اور عوامی سطح پر مزاحمت اس بات کا اظہار ہے کہ یہ لڑائی کسی ایک قانون یا نام کی نہیں بلکہ ملک کے نظریاتی مستقبل کی ہے۔ پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک آواز بلند ہونا اس خدشے کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر آج گاندھی کے نام کو ہٹانا آسان بنا دیا گیا تو کل آئینی اقدار اور جمہوری روایات بھی اسی طرح نظر انداز کی جا سکتی ہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ عوام کے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے گئے اور سیاست کا مرکزی بیانیہ ایسے موضوعات کے گرد گھوم رہا ہے جو نہ تو بھوک مٹاتے ہیں، نہ روزگار دیتے ہیں اور نہ ہی کسان یا مزدور کی زندگی میں کوئی بہتری لاتے ہیں۔ ناموں کی سیاست وقتی طور پر جذبات کو ابھار سکتی ہے مگر یہ ملک کے معاشی و سماجی اور اخلاقی بحران کا حل نہیں بن سکتی۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہوں گے۔ سیکولر روایت کمزور پڑے گی، آئینی توازن بگڑے گا اور وہ ہندوستان جس کی پہچان تنوع، رواداری اور مشترکہ ثقافت تھی، رفتہ رفتہ ایک تنگ نظر تصور میں قید ہو جائے گا۔ اس نقصان کی قیمت صرف آج کی نسل نہیں بلکہ آنے والی نسلیں بھی ادا کریں گی۔ اس لئے ضروری ہے کہ ملک کی سیاست دوبارہ اصل مسائل کی طرف لوٹے، گاندھی کے نام ہی نہیں بلکہ ان کے افکار کو بھی زندہ رکھا جائے اور ریاست کو نفرت کے بجائے انصاف اور تقسیم کے بجائے ہم آہنگی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ ایسے نازک اور پیچیدہ دور میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اس صورتحال میں اپنا کردار کیسے ادا کریں۔ یہ لمحہ جذباتی ردِعمل، وقتی نعروں یا محض احتجاجی کیفیت میں الجھ جانے کا نہیں بلکہ گہرے فکری شعور، طویل المدت حکمتِ عملی اور بالغ نظر طرزِ عمل کا تقاضا کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے جذبات میں آ کر حالات کا سامنا کیا اس کا نقصان اسی کو اٹھانا پڑا اور جب شعور، صبر اور دانش کے ساتھ قدم بڑھایا گیا تو راستے اگرچہ کٹھن رہے مگر نتائج دیرپا ثابت ہوئے۔
مسلمانوں کے لئے سب سے پہلی اور بنیادی ضرورت یہ ہے کہ وہ ناموں کی سیاست کے پیچھے چھپے اصل مقصد کو پوری طرح سمجھیں۔ یہ محض کسی سڑک، شہر یا اسکیم کا نام بدلنے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک مخصوص ذہن سازی کی کوشش ہے جس کے ذریعے عوام کی توجہ روزگار، تعلیم، صحت، مہنگائی اور آئینی حقوق جیسے اصل مسائل سے ہٹاکر جذباتی اور شناختی موضوعات میں الجھایا جا رہا ہے۔ ایسے میں اگر مسلمان بھی اسی میدان میں محض ردِعمل کی سیاست کریں گے تو وہ نادانستہ طور پر اسی کھیل کا حصہ بن جائیں گے جس کی بساط کہیں اور بچھائی گئی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسلمان اپنی گفتگو، اپنی ترجیحات اور اپنے مطالبات کا رخ بار بار اصل مسائل کی طرف موڑیں اور ہر پلیٹ فارم پر یہ سوال اٹھائیں کہ حکومت عوام کے روزگار، تعلیم اور معاشی تحفظ کے لئے کیا کر رہی ہے۔ دوسری اہم بات یہ کہ مسلمان اپنے آپ کو محض ایک دفاعی پوزیشن تک محدود نہ کریں۔ ہمیشہ وضاحتیں دینا، الزامات کا جواب دینا اور اپنی حب الوطنی ثابت کرتے رہنا ایک تھکا دینے والا اور غیر نتیجہ خیز عمل بن چکا ہے۔ اس کے بجائے انہیں ایک مثبت، تعمیری اور اصولی بیانیہ تشکیل دینا ہوگا جو آئین، جمہوریت اور مشترکہ ہندوستانی اقدار پر مبنی ہو۔ گاندھی کے نام کا دفاع صرف اس بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ایک تاریخی شخصیت تھے بلکہ اس لئے ہونا چاہیے کہ ان کے افکار آج بھی اس ملک کے کروڑوں غریبوں، مزدوروں اور محروم طبقات کے لئے امید کی کرن ہیں۔ جب مسلمان گاندھی کے نظریات کی بات کریں تو وہ دراصل اپنے نہیں بلکہ پورے ملک کے مستقبل کی بات کر رہے ہوں۔ یہ دور مسلمانوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ تعلیم اور معاشی استحکام کو اپنی جد وجہد کا مرکز بنائیں۔ سیاست کی بدلتی لہروں میں سب سے زیادہ محفوظ وہی قومیں رہتی ہیں جو علمی، تعلیمی اور اقتصادی طور پر مضبوط ہوں۔ اگر نوجوان نسل تعلیم میں آگے ہوگی، سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں اپنی موجودگی مضبوط کرے گی، تجارت، صنعت اور ہنر کے میدان میں خود کفیل بنے گی تو ناموں کی سیاست خود بخود غیر مؤثر ہوتی چلی جائے گی۔ ایک باوقار، خوددار اور معاشی طور پر مستحکم سماج کو محض علامتی فیصلوں کے ذریعے حاشیے پر نہیں دھکیلا جا سکتا۔ اسی کے ساتھ مسلمانوں کو دیگر مظلوم، محروم اور انصاف پسند طبقات کے ساتھ رشتہ مضبوط کرنا ہوگا۔ یہ لڑائی کسی ایک مذہب یا طبقے کی نہیں بلکہ آئینی روح، جمہوری قدروں اور سماجی انصاف کی ہے۔ جب مسلمان، دلت، آدیواسی، پسماندہ طبقات اور وہ تمام شہری جو سیکولر اور جمہوری اقدار پر یقین رکھتے ہیں، ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر کھڑے ہوں گے تو ناموں کی سیاست کی دیوار خود بخود کمزور پڑ جائے گی۔ تنہائی میں لڑنے کے بجائے وسیع تر سماجی اتحاد ہی وہ راستہ ہے جو اس ملک کی روح کو بچا سکتا ہے۔ یاد رکھیں کہ ہر دور کی جد وجہد کا اسلوب مختلف ہوتا ہے۔ آج کا زمانہ محض جلسوں اور نعروں کا نہیں بلکہ دلیل، قانون، میڈیا اور سماجی شعور کا زمانہ ہے۔ آئینی راستوں کا استعمال، عدالتی جد وجہد، پر امن جمہوری احتجاج، سماجی مکالمہ اور فکری سطح پر مضبوط دلائل پیش کرنا ہی وہ طریقے ہیں جو دیرپا اثر چھوڑتے ہیں۔ اشتعال، تصادم اور نفرت آمیز زبان نہ صرف مقصد کو کمزور کرتی ہے بلکہ مخالف بیانیے کو تقویت بھی دیتی ہے۔ آخر میں سب سے اہم بات کہ مسلمان مایوسی کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں۔ تاریخ کے ہر مشکل دور میں یہ ملک ایسے مراحل سے گزرا ہے جب اندھیرا گہرا محسوس ہوا مگر بالآخر روشنی نے راستہ بنایا۔ ناموں کی سیاست وقتی طور پر غالب آ سکتی ہے مگر سچ یہ ہے کہ کوئی بھی قوم صرف نام بدل کر نہ تو اپنی معیشت سنوار سکتی ہے اور نہ ہی اپنے عوام کو باعزت زندگی دے سکتی ہے۔ سچائی انصاف اور آئینی اقدار کی طاقت وقتی نعروں سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ اگر مسلمان صبر، شعور اور استقامت کے ساتھ اپنے راستے پر قائم رہے، اصل مسائل کو زندہ رکھیں، گاندھی کے نام کے ساتھ ساتھ ان کے افکار کو بھی اپنی عملی زندگی میں جگہ دیں اور نفرت کے جواب میں حکمت اور انصاف کو شعار بنائیں تو یہ دور بھی گزر جائے گا مگر اس جد وجہد کا ثمر تبھی ملے گا جب مقصد صرف اپنا دفاع نہیں بلکہ پورے ہندوستان کو ایک بار پھر اس کے اصل راستے پر لانا ہوگا، وہ راستہ جو رواداری، انصاف اور ہم آہنگی سے ہوکر گزرتا ہے۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com
Comments are closed.