مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

اے ایم یو کی طالبہ نے کلیٹ 2026 میں کل ہند سطح پر 94ویں رینک حاصل کی

علی گڑھ، 20 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ قانون کی طالبہ مس ندا نے کامن لا ایڈمیشن ٹیسٹ (کلیٹ) 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کل ہند سطح پر 94 ویں رینک حاصل کی ہے۔

کلیٹ کا امتحان 7 دسمبر کو منعقد ہوا تھا جبکہ اس کے نتائج 17 دسمبر کو جاری کیے گئے۔ ملک کے سب سے زیادہ سخت مسابقہ جاتی داخلہ امتحانات میں سے ایک میں ندا کی کامیابی ان کی محنت اور استقامت کا ثبوت ہے۔ شعبہ قانون نے انھیں اس کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور قانون کے میدان میں ان کے آئندہ تعلیمی اور پیشہ ورانہ سفر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

٭٭٭٭٭

اے ایم یو کی طالبہ نے قومی رولر ہاکی چیمپئن شپ میں کانسہ کا تمغہ حاصل کیا

علی گڑھ، 20 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طالبہ ساریکا شرما نے آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم میں منعقدہ 63ویں قومی رولر ہاکی چیمپئن شپ میں کانسہ کا تمغہ جیتا۔ یہ چیمپئن شپ رولر اسکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا کے زیر اہتمام منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر کی ٹیموں نے شرکت کی تھی۔

یہ تمغہ قومی سطح پر ساریکا کا پہلا کانسہ کا تمغہ ہے، جو چیمپئن شپ میں چار بار شرکت کے بعد انھیں حاصل ہوا۔ انہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور سیمی فائنل میں ایک اہم گول اسکور کر کے اپنی ٹیم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس سے قبل 2023 میں چندی گڑھ میں منعقدہ 61ویں قومی رولر ہاکی چیمپئن شپ میں انھوں نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔

ساریکا کا کھیلوں میں ریکارڈ نہایت شاندار ہے۔ وہ چار مرتبہ ضلعی چیمپئن رہ چکی ہیں اور ریاستی سطح پر تین بار طلائی تمغہ جیت چکی ہیں۔ گزشتہ چار برسوں سے وہ اتر پردیش رولر ہاکی ٹیم کی کپتان کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

ساریکا نے اپنی اس کامیابی کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے ملنے والی حمایت اور حوصلہ افزائی کا ثمر قرار دیا۔

٭٭٭٭٭

اے ایم یو میں پریسزن کینسر میڈیسن پر پانچ روزہ گیان کورس کی تکمیل

علی گڑھ، 20 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے انٹرڈسپلنری نینو ٹکنالوجی سینٹر کے زیر اہتمام کینسر سے متعلق پریسزن اور پرسنلائزڈ میڈیسن کے موضوع پر گلوبل انیشیئیٹیو آف اکیڈمک نیٹ ورکس (گیان) کے تحت پانچ روزہ کورس کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا۔

اس آن لائن کورس میں 21 لیکچرز اور ٹیوٹوریئل شامل تھے، جس میں ہندوستان سمیت متعدد دیگر ممالک سے تقریباً 200 شرکاء نے حصہ لیا۔ پروگرام کے دوران کینسر ادویات کے اہداف کی شناخت کی جدید حکمت عملیوں اور پریسژن و پرسنلائزڈ میڈیسن کے تصورات کے انضمام پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔

کورس کی قیادت برطانیہ کی یونیورسٹی آف سرے سے وابستہ غیر ملکی فیکلٹی ممبر ڈاکٹر محمد عاصم اور اے ایم یو کے ڈاکٹر محمد اظہر عزیز نے کی۔ کورس کے دوران پروفیسر زاہد اشرف (جامعہ ملیہ اسلامیہ)، پروفیسر حامد اشرف (اے ایم یو)، ڈاکٹر ایچ آر صدیقی (اے ایم یو) اور ڈاکٹر آفرین انعام (جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے ملٹی اومکس اپروچیز، بایو انفارمیٹکس، ٹرانسلیشنل آنکولوجی اور بایومارکر پر مبنی علاج سے متعلق اپنے تجربات پیش کئے۔

پروگرام کے نمایاں نتائج میں کینسر ادویات کی دریافت کے لیے قابل عمل حکمت عملیوں کی تیاری، بایومیڈیکل تحقیق میں جدید ترین ٹولز سے آگاہی، اور ہندوستان و برطانیہ کے درمیان تعلیمی و تحقیقی تعاون کو فروغ دینا شامل ہے۔ اس کورس نے مستقبل میں مشترکہ تحقیقی گرانٹس، اشاعتی منصوبوں اور طلبہ کے تبادلہ پروگراموں کی بنیاد بھی رکھی۔ کورس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر قصید انور نے گیان انیشئیٹیو، اے آئی سی ٹی ای، آئی آئی ٹی حیدرآباد اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے فراہم کردہ تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔

٭٭٭٭٭

پروفیسر ثمینہ خان نے پوش ایکٹ کے نفاذ سے متعلق قومی پروگرام میں اے ایم یو کی نمائندگی کی

علی گڑھ، 20 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مقامی شکایات کمیٹی (آئی سی سی) کی پریزائیڈنگ آفیسر پروفیسر ثمینہ خان نے خواتین کو کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی سے تحفظ (روک تھام، ممانعت اور ازالہ) ایکٹ 2013 (پوش ایکٹ) کے مؤثر نفاذ سے متعلق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن، نئی دہلی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک ہفتہ طویل قومی پروگرام میں شرکت کی۔

پوش ایکٹ کے نفاذ کے دس برس مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ اس پروگرام کا مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں صنفی مساوات اور انصاف کو مستحکم کرنا تھا۔ اس ضمن میں پریزائیڈنگ افسران، مقامی شکایات کمیٹیوں کے اراکین اور جینڈر سینسٹائزیشن سیلز کے لیے صلاحیت سازی پر مبنی قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر شکایات کے ازالے کے قانونی، سماجی و نفسیاتی، ڈیجیٹل اور ادارہ جاتی پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا۔

مباحثہ کے دوران پروفیسر ثمینہ خان نے پوش ایکٹ کی دفعات سے متعلق بیداری میں اضافے، ادارہ جاتی جواب دہی اور بروقت ازالے کے مؤثر نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی ثقافت، پالیسی کی وضاحت اور آگہی میں موجود خلا اکثر خواتین کے لیے کیمپس کو غیر محفوظ بنا دیتے ہیں۔ انھوں نے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل چیلنجز اور انٹرسیکشنل کمزوریوں سے نمٹنے کے لیے تحقیق پر مبنی ترامیم کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اس قومی پروگرام میں 19 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی یونیورسٹیز نے شرکت کی۔

دریں اثناء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 10 تا 17 دسمبر ’جنسی ہراسانی سے تحفظ کا ہفتہ‘ منایا گیا۔ اس دوران آئی سی سی نے متعدد اقدامات کیے، جن میں سینئر رکن آئی سی سی اور شی باکس پورٹل کی نوڈل آفیسر پروفیسر آسیہ چودھری کے ذریعے شی باکس پورٹل کو فعال کرنا شامل تھا۔ اس کے علاوہ آئی سی سی نے زیرِ التوا شکایات کو نمٹایا، کمیٹی میں طلبہ کی نمائندگی کی تجدید کی، اور یو جی سی کے اسٹوڈنٹ انڈکشن پروگرام دیکشاآرمبھ کے تحت آگہی پروگرام منعقد کیے۔

٭٭٭٭٭

اے ایم یو سٹی گرلز ہائی اسکول میں طلبہ عہدیداروں کی حلف برداری تقریب منعقد

علی گڑھ، 20 دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سٹی گرلز ہائی اسکول میں نو منتخب طلبہ عہدیداروں کی حلف برداری تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب کا آغاز مارچ پاسٹ سے ہوا، جس کے بعد عہدیداران نے حلف لیا۔ چاروں ہاؤسز کے کپتان اور نائب کپتانوں کے علاوہ اسپورٹس، ادبی اور ثقافتی سکریٹریز نے اعزازی کپڑے زیب تن کئے۔

مہمانِ خصوصی ڈاکٹر صالحہ جمال، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، اسکول ایجوکیشن نے طلبہ کے ڈسپلن کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پلیٹ فارمز قیادت، ذمہ داری، نظم و ضبط اور استقامت جیسی خصوصیات کو فروغ دیتے ہیں، جو ہمہ جہت ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

پرنسپل مسٹر محمد جاوید اختر نے طلبہ کو مبارکباد پیش کی اور انہیں اسکول میں حاصل کی گئی اقدار کو اپناتے ہوئے ذمہ دار شہری بننے کی تلقین کی۔ پروگرام کو ثقافتی انچارج فرزانہ نذیر نے مربوط کیا، جب کہ عروجہ خان نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

٭٭٭٭٭٭

آر ایم پی سنگھ اے ایم یو سٹی اسکول میں سالانہ اسپورٹس ہفتہ کا اہتمام، سالانہ میگزین ’اسپیکٹرم‘ کا اجراء

علی گڑھ، 20 دسمبر: راجہ مہندر پرتاپ سنگھ اے ایم یو سٹی اسکول میں سالانہ اسپورٹس ہفتہ کے تحت مختلف کھیلوں کے مقابلے کامیابی کے ساتھ منعقد کیے گئے، جن میں طلبہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اختتامی مقابلوں میں 100 میٹر دوڑ، 4×100میٹر ریلے ریس اور رسہ کشی شامل تھے۔

اس موقع پر اسکول کے سالانہ میگزین ’اسپیکٹرم‘کا اجراء بھی ہوا۔ میگزین میں طلبہ اور اساتذہ کی تعلیمی، ادبی اور تخلیقی کاوشوں کو شامل کیا گیا ہے، جو سال بھر کی سرگرمیوں اور کامیابیوں کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔

تقریب میں ڈائریکٹر، اسکول ایجوکیشن پروفیسر قدسیہ تحسین، ڈپٹی ڈائریکٹر پروفیسر محمد اعظم خان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر پروفیسر صالحہ جمال اور ڈاکٹر عبدالقادر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، سیدنا طاہر سیف الدین اسکول کے پرنسپل مسٹر فیصل نفیس اور راجہ مہندر پرتاپ سنگھ اے ایم یو سٹی اسکول کے پرنسپل سید تنویر نبی شامل ہوئے۔

اس موقع پر پروفیسر قدسیہ تحسین نے کہا کہ تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کھیل طلبہ کی ہمہ جہت نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیل نہ صرف جسمانی صحت کو بہتر بناتے ہیں بلکہ نظم و ضبط، قیادت کی صلاحیت اور خود اعتمادی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ تعلیم اور کھیلوں میں توازن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے آر ایم پی سنگھ اے ایم یو سٹی اسکول کے طلبہ کی شاندار کارکردگی پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسکول میگزین کو سال بھر کی سرگرمیوں کا جامع دستاویز قرار دیا۔ اساتذہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہوں نے طلبہ کو وقت کی قدر کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے موبائل فون کے ذمہ دارانہ استعمال پر بھی زور دیا اور کہا کہ موبائل فون کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہئے اور اس کے لئے وقت کی حد مقرر ہونی چاہئے۔

ڈاکٹر عبدالقادر نے کہا کہ کھیل طلبہ کو زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے اور جیت و ہار دونوں کو یکساں جذبے کے ساتھ قبول کرنے کی تربیت دیتے ہیں۔مسٹر فیصل نفیس نے کہا کہ جدید تعلیمی نظام میں تعلیم اور کھیلوں کے درمیان توازن نہایت ضروری ہے تاکہ طلبہ ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط بن سکیں۔ سید تنویر نبی، پرنسپل، راجہ مہندر پرتاپ سنگھ اے ایم یو سٹی اسکول نے اس کامیاب پروگرام کے انعقاد پر طلبہ اور اساتذہ کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے تدریسی عملے کی مشترکہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے بتایا کہ سالانہ میگزین اسپیکٹرم کو تین حصوں انگریزی، اردو اور ہندی میں شائع کیا گیا ہے۔ اس کے مدیران محمد نعیم (انگریزی)، ڈاکٹر محمد ذوالفقار (ہندی) اور ڈاکٹر فیض الرحمٰن (اردو) ہیں،جب کہ چیف ایڈیٹر ڈاکٹر محمد فیاض الدین ہیں۔

پروگرام کا اختتام نائب پرنسپل ڈاکٹر شاہد جلیل کے اظہارِ تشکر پر ہوا۔ پروگرام کی نظامت سینئر استاد سعید انور صدیقی نے کی۔

٭٭٭٭٭٭

اے ایم یو کے شعبہ عربی میں عربی زبان کے عالمی دن پر دو روزہ علمی وفکری پروگرام منعقد

علی گڑھ، 20 دسمبر: عربی زبان کے عالمی دن کے موقع پر شعبہ عربی،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیر اہتمام آن لائن دو روزہ علمی و فکری پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔ ان کا مقصد عربی زبان کی عالمی اہمیت، عصری تقاضوں اور مستقبل کے امکانات کو اجاگر کرنا تھا۔

”احتفالاً بالیوم العالمی للغۃ العربیۃ“ کے عنوان سے منعقدہ اس دو روزہ پروگرام کے افتتاحی اجلاس میں صدر شعبہ پروفیسر محمد فیضان بیگ نے مہمان خصوصی اردن کے پروفیسر محمد علی موسیٰ ابنیان، مدیر مرکز اللغات، جامعۃ العلوم والتکنولوجیا الأردنیۃ کا استقبال کرتے ہوئے موضوع کا ایک مختصر خاکہ پیش کیا۔ انھوں نے اپنے تعارفی کلمات میں عربی و اسلامی علوم میں تاریخی کاوشوں کا حوالہ دیتے ہوئے دورِ حاضر میں عربی زبان کی اہمیت، افادیت اور تیزی سے بدلتے ہوئے جدید حالات میں عربی زبان و ادب اور عمومی طور علوم عربیہ کو درپیش چیلنجوں پر روشنی ڈالی۔ پروگرام کی نظامت کا فریضہ شعبہ عربی کے ایم اے سال اوّل کے طالب علم فائز جمیل نے انجام دیا۔ شعبہ عربی ایم اے سال آخر کے طالب علم سیف اللہ نے ”الذکاء الاصطناعی واللغۃ العربیۃ“ کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا، جس میں مصنوعی ذہانت کے تناظر میں عربی زبان کے امکانات اور چیلنجز کو انھوں نے واضح کیا۔

مہمان خصوصی پروفیسر محمد علی موسیٰ ابنیان،مدیر مرکز اللغات، جامعۃ العلوم والتکنولوجیا الأردنیۃ نے موجودہ حالات میں عربی زبان و ادب کے تقاضوں کے موضوع پر اپنا جامع کلیدی خطبہ پیش کیا،جس میں انھوں نے عربی زبان کی اہمیت اور عصر حاضر میں عربی تعلیم و تحقیق کے تقاضوں پر روشنی ڈالی۔ پہلے دن کی نشست کے اختتام پر ڈاکٹر عرفات ظفر، استاذ شعبہ عربی نے کلمات تشکر ادا کئے۔

صدر شعبہ عربی پروفیسر محمد فیضان بیگ کی زیرصدارت دوسرے دن کے پروگرام کے افتتاح پر ابو حمزہ فلاحی، ریسرچ اسکالر شعبہ عربی نے عربی زبان کے عالمی دن کے منائے جانے کی وجوہات، اس کی ابتدا اور تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے عربی زبان کو اسلامی تہذیب و تمدن کی علامت بلکہ فکری و ثقافتی امتزاج کا ایک اہم وسیلہ بتایا۔

شعبہ عربی کے پروفیسر ثناء اللہ ندوی نے ”النشاطات الأدبیۃ فی بریطانیا فی ضوء الرحلۃ الأکادیمیۃ الأخیرۃ“کے موضوع پر برطانیہ کے اپنے حالیہ سفر کے تجربات بیان کیے، وہاں کے اہم تاریخی و سیاحتی مقامات کا تعارف کرایا اور عربی زبان سے وابستہ اعلیٰ تعلیمی و پیشہ ورانہ مواقع کے سلسلہ میں طلبہ کی رہنمائی کی۔ آخر میں صدر شعبہ عربی پروفیسر محمد فیضان بیگ نے اساتذہ اور طلبہ کا شکریہ ادا کیا۔

٭٭٭٭٭٭

Comments are closed.