کالم نویسی کی دانش ورانہ حیثیت کے سبب ہی اردو صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے: شفیع مشہدی

 

اپنے صحافتی کالموں کے تین تین مجموعوں کی پیش کش سے صفدر امام قادری نے بہار کے صحافیوں کے سامنے ایک لمبی لکیر کھینچ دی ہے: ڈاکٹر ریحان غنی

اردو کے کسی سے می نار میں نئی نسل کے طلبہ و طالبات اتنی تعداد میں کہیں نظر نہیں آتے جتنے بہار میں موجود ہوتے ہیں: سہیل وحید

 

پٹنہ: اردو کی ہم عصر صحافت کے سامنے یہ بڑا چیلنج ہے کہ وہ اپنی تاریخ سے آنکھیں ملا سکے۔ گذشتہ دو صدیو ں میں اردو صحافت نے بہت سارے سرد و گرم موسم دیکھے اور اُس میں طرح طرح کی تبدیلیاں آئیں۔ جدید ٹکنالوجی کے زمانے میں یہ صحافت اپنے کو نئے نئے حربوں سے آراستہ کرتی رہی ہے مگر صارفیت کی دوڑ میں کہیں نہ کہیں مشکلات کے بھنور میں اردو اخبارات اور رسائل گھِرے ہوئے ہیں۔ اردو صحافت کو ملکی اور بین الاقوامی میعار سے آنکھیں ملاتے ہوئے اپنے کاموں کو از سرِ نو مرتب کرنا ہوگا۔ فنِ صحافت، زبان دانی، تکنیکی مہارت اور خبر نویسی کے بدلتے آداب کو سامنے رکھتے ہوئے اُسے اپنی نئی صورت گری کرنی ہوگی۔

بزمِ صدف انٹرنیشنل کے عالَمی سے می نار میں ملک کے مختلف صوبوں اور اضلاع سے بڑی تعداد میں اردو صحافت اور ادب و تحقیق کے ماہرین جمع ہوئے تھے۔ سے می نار کا موضوع ’معاصر اردو صحافت میں کالم نویسی: ایک احتساب‘ تھا جس پر منتخب مقالے پیش کیے گئے۔ اِس سے می نار میں مذکورہ باتیں ابھر کر سامنے آئیں۔

اِس سے می نار کا افتتاح کرتے ہوئے معروف ادیب اور بہار پبلک سروس کمیشن کے سابق ممبر جناب شفیع مشہدی نے یہ راز افشا کیا کہ اُن کی ملازمتی زندگی کا آغاز اردو صحافت سے ہی ہوا تھا۔ اُنھیں اپنی زندگی کی پہلی تنخواہ ہی دہلی میں ایک اردو اخبار میں کام کرتے ہوئے حاصل ہوئی تھی۔ اُنھوں نے بزمِ صدف کو اِس بات کی مبارک باد دی کہ اردو صحافت کے ایک نہایت نازک موضوع پر یہ سے می نار منعقد کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ کالم نویسی کسی بھی اخبار کا مغز ہے اور اُس سے یہ طَے ہوتا ہے کہ جمہوری اقدار کی حفاظت کس طرح ہو رہی ہے۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ آج کے دور میں جب انتظامیہ، قانون سازیہ اور عدلیہ ڈانواں ڈول ہیں، ایسے میں جمہوریت کے چوتھے ستون صحافت کو اگر نہ بچایا گیا تو ملک کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ اُنھوں نے صفدر امام قادری کو اِس بات کے لیے خاص طور سے مبارک باد دی کہ اُن کے کالموں کے دو دو ضخیم انتخابات شائع ہوئے ہیںاور اِسی کے ساتھ اُن کی شخصیت اور ادبی کارناموں کے حوالے سے ظفر کمالی کی دو مرتبہ کتابوں کا بھی اجرا عمل میں آیا۔

روزنامہ قومی تنظیم کے چیف ایڈیٹر اور اردو ایکشن کمیٹی کے سرپرست جناب سید محمد اشرف فرید نے صفدر امام قادری کی صحافیانہ خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اب سے چالیس برس کے پہلے اُس دور کو یاد کیا جب صفدر امام قادری روزنامہ قومی تنظیم سے وابستہ ہوئے تھے۔ اُنھوں نے اُن کی علمی سنجیدگی اور ادبی و صحافتی کاموں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صفدر امام قادری معاصر اردو صحافت اور کالم نویسی کے آج واقعتا امام ہیں۔ اُنھوں نے اردو عوام کی خصوصی توجہ اردو صحافت کے مسائل کے تئیں مبذول کرائی اور گزارش کی کہ حالات نے اردو صحافت کو دو راہے پر کھڑا کر دیا ہے۔ سب مل کر کوششیں کریں تو بہتر نتائج نکلیں گے۔

معروف نقاد اور کالم نویس پروفیسر صفدر امام قادری نے اپنے خطاب میں اردو صحافت کی تاریخ کے متعدد مسائل کی مثالیں پیش کرتے ہوئے دبستانِ عظیم آباد میں اور کیسی کوششیں کی جائیں کہ اردو صحافت اِس بھنور سے نکل سکے اور ملک کی دوسری زبانوں کی صحافت سے وہ برابری کر سکے۔ اُنھوں نے صحافیوں کی ٹریننگ کار و باری اعتبار سے بہتر تربیت کے ساتھ زبان و ادب کے تئیں زیادہ سنجیدہ ہو کر کا کرنے والے اردو صحافیوں کی تلاش کا مشوری دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ اُس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب ہندی اور انگریزی اخبارات کے کالموں کی موضوعاتی وسعت اور تکنیکی رنگا رنگی کے ساتھ کار وباری کامیابی میں بھی اردو اخبارات با مراد ہوں گے۔ معروف صحافی، ادیب اور افسانہ نگار ڈاکٹر سہیل وحید کلیدی خطبہ پیش کرنے کے لیے لکھنؤ سے تشریف لائے تھے۔ اُنھوں نے اردو میں کالم نویسی کے پس منظر کے طور پر عالَمی صحافت کا تذکرہ چھیڑا اور ہندی اور انگریزی کے اخبارات کے مشہور کالم نگاروںکو یاد کرتے ہوئے اردو کے اُن صحافیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنھوں نے اپنی کالم نویسی سے زبان کا وقار بحال کیا۔ اپنی گفتگو میں اُنھوں نے صفدر امام قادری کے دونوں مجموعوں ’جمہوری اداروں کا زوال‘ اور ’نیند کیوں رات بھر نہیں آتی‘ کے دو سو آٹھ کالموں کے خاص نکات واضح کیے اور بتایا کہ اِن کالموں کی خاص بات صفدر امام قادری کی تحریر کی وہ دانش وارانہ جہت ہے جس کی وجہ سے اُن کی تحریر دور سے پہچان لی جاتی ہے۔ اُنھوں نے متعدد کالموں کی مثالوں سے اردو میں کالم نویسی کے اِس نئے باب کو اپنی داد و تحسین سے نوازا۔

مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے ساہتیہ اکادمی انعام یافتہ ادیب ڈاکٹر ظفر کمالی نے اردو صحافت کی نئی اور پرانی دنیا کا موازنہ کیا اور بتایا کہ آج کی صحافت کیوں کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ اُنھوں نے موجودہ دور میں ظریفانہ کالموں سے اخبار کے صفحات کے خالی ہونے کو اچھا شگون نہیں مانا۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ عہد کے اور ماضی قریب کے کئی ایسے بڑے صحافی ہیں جن کے کالم اخبار میں دفن ہو گئے۔ اُنھوں نے غلام سرور، فکر تونسوی، ریحان غنی، راشد احمد وغیرہ کے شائع شدہ کالموں کو کتابی شکل میں لے آنے کی وکالت کی۔

بزمِ صدف کے چیر مین جناب شہاب الدین احمد (قطر) نے عالَمی طور پر بزمِ صدف کس طرح کی ادبی سرگرمیاں پیش کررہی ہے، اِس کی تفصیل بتائی اور صفدر امام قادری کی ادبی اور تعلیمی نشو ونما کی بے حد دل پذیر انداز میں کہانی پیش کی۔ اُنھوں نے کہا کہ بزمِ صدف کی پوری ٹیم ہمیشہ نئے اور بڑے عالَمی انعقادات کے لیے تیّار رہتی ہے اور ہم جلد ہی اِس کے لیے نئے موقعے کی تلاش کر رہے ہیں۔ اردو ڈائرکٹوریٹ، حکومت بہار کے ڈائرکٹر جناب ایس ایم پرویز عالم نے اردو صحافت کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اِس کے موضوعات کا دائرۂ کار بڑھنا چاہیے۔ اُنھوں نے عالَمی مسائل، معاشیات اور نئے سوالوں کو اردو اخباروں کے کالموں میں شامل کیے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔

بہار پبلک سروس کمیشن کے سابق چیر مین جناب امتیاز احمد کریمی نے اردو کے طلبہ کو مسابقتی امتحانات کے لیے آراستہ کرنے کی وکالت کی اور بتایا کہ اپنی مادری زبان سے وہ دنیا کی ہزاروں ملازمتیں حاصل کر سکتے ہیں۔ بہار میں موجود یونی ورسٹی اساتذہ، اسکولوں کے اساتذہ اور مترجم و نائب مترجمین کی فوج کو سامنے رکھتے ہوئے اُن کے لیے یہ نشانہ مقرر کیا کہ وہ اردو کے حق میں ایک ماحول بنائیں تاکہ جو احساسِ کمتری ہر سوٗ چھائی رہتی ہے، اُس کا خاتمہ ہو سکے۔ گورنمنٹ اردو لائبریری کے چیر مین جناب ارشد فیروز نے اپنی لائبریری کی نئی عمارت میں اردو کے مشہور و معروف ادیبوں کی موجودگی کو ایک تاریخی موقع قرار دیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ صفدر امام قادری کے کالم رنگا رنگ ہیں اور اُن کے موضوعات بھی نہایت گہرے ہیں۔ ایک ساتھ کالموں کے دودو ضخیم مجموعوں کی اشاعت کو اُنھوں نے تاریخی کارنامہ قرار دیا۔ صفدر امام قادری کے کالموں کے مجموعوں کے مرتّبین ڈاکٹر عنایت اللہ ندوی اور جناب قمر الزماں چمپارنی نے کتاب کی ترتیب و تدوین کے عمل پر گفتگو کی اور بتایا کہ اِن کالموں کی علمی حیثیت کے پیشِ نظر ترتیب و تدوین کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھائی۔

افتتاحی اجلاس کی صدارت معروف صحافی ڈاکٹر ریحان غنی نے کی۔ اُنھوں نے اجلاسِ اوّل میں بہار میں ہم عصر کالم نگاری کے موضوع پر اپنا مقالہ بھی پیش کیا۔ اُنھوں نے اردو اخبار نویسوں کے گرتے اخلاقی معیار اور علمی اعتبار سے اُن کی حیثیت پر حرف آنے کو موضوعِ بحث بنایا اوریہ واضح کیا کہ اِنھی اخبارات کے کالم اور اداریے کس طرح اصحابِ اقتدار کو نہ صرف یہ کہ متوجہ کر لیتے تھے بل کہ اُن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرنے کا ہنر جانتے تھے۔ اُنھوں نے بڑے صحافیوں کو یاد کیا اور مثال کے طور پر صفدر امام قادری کی کالم نویسی کی باضابطگی کو بھی موضوع بنایا۔ اُنھوں نے کہا کہ اپنے صحافتی کالموں کے تین تین مجموعوں کی پیش کش سے صفدر امام قادری نے بہار کے صحافیوں کے سامنے ایک لمبی لکیر کھینچ دی ہے جس سے آگے بڑھنا آسان نہیں ہے۔ اُنھوں نے غلام سرور ، محمد عبد الرافع، محمد مرغوب، ریاض عظیم آبادی، شاہد رام نگری اور سیّد احمد قادری وغیرہ مشہور کالم نویسوں کو یاد کیا اور کہا کہ یہ سب اپنی صحافت سے ایک نمونہ قائم کرکے رخصت ہوئے ہیں۔ نئے صحافیوں کو اِن سے بہت کچھ سیکھنا چاہیے۔ سے می نار کی نظامت شعبۂ اردو پٹنہ یونی ورسٹی کی استاد ڈاکٹر افشاں بانو نے کامیابی کے ساتھ کی۔

پروفیسر محمد زاہد الحق، حیدرآباد یونی ورسٹی، حیدر آباد کی صدارت میں سے می نار کا اجلاسِ مقالہ خوانی شروع ہوا جس میں ڈاکٹر ولی اللہ قادری (چھپرا)، ڈاکٹر طیّب نعمانی (کولکاتا)، ڈاکٹر عبد الحئی (گیا)، ڈاکٹر منی بھوشن کمار (پٹنہ)، ڈاکٹر طیّب فرقانی (مغربی بنگال)،ڈاکٹر عبد الودود قاسمی (دربھنگا)، ڈاکٹر صابر رضا رہبر مصباحی (مدھے پورا)، ڈاکٹر محمد مرشد (جھارکھنڈ)، جناب محمد شرف الدین (حاجی پوری)، جناب محمد مرجان علی (چھپرا)، جناب محمد ابو رافع (پٹنہ) اور محمد فیروز عالم (ویر کنور سنگھ یونی ورسٹی، آرا) نے اردو کالم نویسی کی تاریخ اہم کالم نویسوں کی خدمات اور اردو صحافت کو در پیش چیلنجز کے موضوعات پر اپنے مقالے پیش کیے۔ کرسیِ صدارت سے ڈاکٹر محمد زاہد الحق نے تفصیل سے ہر مقالے کا جائزہ لیا اور بعض مقالہ نگاروں کی حدود کو بھی واضح کیا۔ سے می نار میں عظیم آباد اور بہار جھارکھنڈ کے مختلف اضلاع سے بڑی تعداد میں شرکا تشریف لائے تھے۔ اختتام تک ہال میں کوئی کرسی خالی نہیں تھی۔ درمیانی وقت میں شائقین خالی جگہوں میں اِیستادہ تھے اور انہماک سے مقررین کی تقریریں سن رہے تھے۔ بزمِ صدف کا یہ سے می نار نہایت کامیاب رہا۔ عظیم آباد کے ادبی و علمی حلقے کے درمیان بہت دنوں تک اِس کی گونج سنی جاتی رہے گی.

Comments are closed.