مسلم تعلیمی ادارے: ایل کے جی سے ایس ایس ایل سی تک
از۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
آزادی کے بعد سے اب تک، بھارت میں مسلم برادری کی تعلیمی ترقی ایک اہم موضوع رہا ہے۔ مسلم تعلیمی ادارے عموماً بنیادی سطح پر یعنی ایل کے جی سے ایس ایس ایل سی تک محدود رہے ہیں، جو تقریباً پرائمری سے ہائی سکول کی سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ مسلمانوں نے آزادی کے بعد سے اب تک صرف بنیادی تعلیم پر توجہ مرکوز کی ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیم، میڈیکل اور ٹیکنیکل شعبوں میں اچھے اداروں کا قیام نہیں کیا جا رہا۔ ہر کوئی صرف پرائمری سے ہائی سکول تک کے ادارے قائم کرنے کا خواہشمند ہے، جبکہ آج کی ضرورت ہے کہ مسلمان اعلیٰ تعلیم کے ادارے قائم کریں۔ اس سے نہ صرف مسلم بچوں کی تعلیم آسان ہوگی بلکہ غیر مسلموں کو بھی سہولیات فراہم کرکے ترقی کی راہیں ہموار کی جا سکیں گی۔ بھارت کی آزادی کے بعدسے مسلم برادری نے تعلیم کو اہمیت تو دی، لیکن یہ ترقی بنیادی سطح تک ہی محدود رہی۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ (2006) کے مطابق، مسلمان بھارت کی آبادی کا تقریباً 14 فیصد ہیں، لیکن ان کی تعلیمی شرکت کم ہے۔ آزادی کے ابتدائی سالوں میں، مسلمانوں نے مدرسوں اور بنیادی سکولوں پر توجہ دی، جو مذہبی اور ابتدائی تعلیم فراہم کرتے تھےان مدرسوں نے اسلامی تعلیم کو فروغ دیا، لیکن جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم سے دور رہے۔ نیشنل سیمپل سروے اور آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن (AISHE) کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ مسلمانوں کی توجہ پرائمری اور اپر پرائمری سطح پر ہے، جہاں ان کی شرکت آبادی کے تناسب سے قریب ہے، لیکن سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سطح پر ڈراپ آؤٹ ریٹ زیادہ ہے۔ تقریباً 17.6 فیصد مسلمان بچے سکول چھوڑ دیتے ہیں، جو قومی اوسط 13.2 فیصد سے زیادہ ہے۔یہ رجحان اس لیے ہے کہ مسلم کمیونٹی کے زیادہ تر ادارے بنیادی تعلیم تک محدود ہیں۔ غربت، امتیازی سلوک اور وسائل کی کمی کی وجہ سے، مسلمان اعلیٰ تعلیم کے ادارے قائم کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق، مسلم مینیجڈ ہائر ایجوکیشن ادارے بھارت میں صرف 2.1 فیصد ہیں۔ ہر کوئی پرائمری سے ہائی سکول تک کے ادارے بنانا چاہتا ہے، کیونکہ یہ کم لاگت والے اور مذہبی طور پر محفوظ سمجھے جاتے ہیں، لیکن یہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔آج کے دور میں مسلمانوں کو اعلیٰ تعلیم، میڈیکل اور ٹیکنیکل ادارے قائم کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف مسلم بچوں کی تعلیم کو آسان بنائے گا بلکہ غیر مسلموں کو بھی سہولیات فراہم کرکے ملک کی مجموعی ترقی میں حصہ ڈالے گا۔ مثال کے طور پر اگر مسلمان اچھے انجینئرنگ یا میڈیکل کالج قائم کریں تو یہ سب کے لیے کھلے ہوں گے اور کمیونٹی کی شبیہ بھی بہتر ہوگی۔ AISHE 2021-22 کی رپورٹ بتاتی ہے کہ مسلمانوں کی ہائر ایجوکیشن میں شرکت صرف 4.8 فیصد ہے، جبکہ شیڈولڈ کیسٹ 15.3 فیصد اور شیڈولڈ ٹرائبس 6.3 فیصد ہیں۔ اگر اعلیٰ ادارے قائم ہوں تو ڈراپ آؤٹ کم ہوگا اور مسلمانوں کی معاشی حالت بہتر ہوگی۔ اس سے نہ صرف مسلم بچوں کو مواقع ملیں گے بلکہ غیر مسلموں کے ساتھ تعاون سے سماجی ہم آہنگی بڑھے گی۔بھارت میں کچھ مشہور مسلم تعلیمی ادارے موجود ہیں، لیکن یہ تعداد میں کم اور بنیادی طور پر یونیورسٹیز ہیں۔ مثال کے طور پرعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی،جامعہ ہمدرد، دہلی،عالیہ یونیورسٹی، کولکتہ بی ایس عبد الرحمٰن کریسنٹ انسٹی ٹیوٹ، نور الاسلام یونیورسٹی وغیرہ۔مسلمان بھارت میں تعلیمی طور پر سب سے پسماندہ ہیں۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ سے لے کر AISHE 2021-22 تک، اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کی لٹریسی ریٹ 59.1 فیصد ہے، جو قومی اوسط 65.1 فیصد سے کم ہے۔ ہائر ایجوکیشن میں ان کی شرکت 4.8 فیصد ہے، جبکہ آبادی 14 فیصد۔ ڈراپ آؤٹ ریٹ زیادہ ہے، خاص طور پر لڑکوں میں، اور غربت، امتیازی سلوک اور کمیونل تناؤ کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم تک رسائی کم ہے۔ جنوبی ریاستوں جیسے کیرالہ میں صورتحال بہتر ہے، جہاں مسلم 35 فیصد ہے، لیکن شمالی ریاستوں جیسے بہار میں صرف 6 فیصد۔ یہ پسماندگی معاشی مسائل کو جنم دیتی ہے، جیسے نوکریوں میں کم شرکت۔مسلمانوں کو بنیادی تعلیم سے آگے بڑھ کر اعلیٰ ادارے قائم کرنے چاہییں۔ یہ نہ صرف کمیونٹی کی ترقی کرے گا بلکہ ملک کی مجموعی خوشحالی میں حصہ ڈالے گا۔ حکومت اور کمیونٹی کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مسلمان تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں۔
سوال ترقی کا، شور اقتدار کا
بیلگاوی اجلاس اور کرناٹک کی سیاست
از: عبدالحلیم منصور
؎ فیصلہ وقت نے کرنا ہے، ابھی مت بولو
کس طرف جائے گی یہ دھار، ابھی مت بولو
بیلگاوی کے سُوَرنا وِدھان سودھا میں منعقدہ کرناٹک قانون ساز اسمبلی و کونسل کا سرمائی اجلاس اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ سرکاری سطح پر اسے قانون سازی، مشاورت اور جمہوری مکالمے کا اجلاس قرار دیا گیا، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہ اجلاس بھی کئی سابقہ اجلاسوں کی طرح سیاسی بیان بازی، داخلی کشمکش اور اقتدار کی بحث کے زیرِ سایہ رہا۔ یوں محسوس ہوا کہ ایوان میں عوامی مسائل پر سنجیدہ غور و خوض کے بجائے سیاسی پیغامات کی ترسیل زیادہ اہم بن گئی۔
بیلگاوی کو سرمائی دارالحکومت کا درجہ دینا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے شمالی کرناٹک اور سرحدی اضلاع کے عوام میں شراکت، قربت اور اعتماد پیدا کرنے کا وعدہ شامل تھا۔ مگر اس اجلاس کے دوران نہ کسان تنظیموں سے باضابطہ مکالمہ ہوا، نہ سرحدی علاقوں کے سماجی و لسانی مسائل پر کوئی ٹھوس پیش رفت نظر آئی، اور نہ ہی کوئی عوامی سماعت یا جنتا درشن منعقد کیا گیا۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس کی طرف بیلگاوی ضلع کی کنڑا تنظیموں کی مشترکہ کارروائی کمیٹی کے صدر اشوک چندرگی نے اپنے کھلے خط میں دو ٹوک انداز میں اشارہ کیا۔
ان کا سوال سادہ مگر معنی خیز ہے اگر سُوَرنا وِدھان سودھا کا مقصد ہی یہ تھا کہ حکومت سرحدی اور شمالی علاقوں کے عوام کے قریب آئے، تو پھر یہ قربت صرف عمارتوں اور اجلاسوں تک کیوں محدود رہی؟ عوام اور ان کے مسائل ایوان کے باہر کیوں رہ گئے؟
شمالی اور کلیان کرناٹک کے مسائل کو محض ترقیاتی اسکیموں یا خصوصی گرانٹس تک محدود کرنا حقیقت کا ادھورا بیان ہے۔ یہ خطہ دہائیوں سے تعلیمی پسماندگی، صحت کے ناکافی ڈھانچے، آبپاشی کے بحران اور روزگار کی کمی جیسے بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔ اگرچہ اجلاس کے دوران اعداد و شمار پیش کیے گئے اور مختلف اسکیموں کا حوالہ بھی آیا، مگر عوامی سطح پر یہ احساس مضبوط ہوا کہ یہ سب کچھ کاغذی کارروائی سے آگے نہیں بڑھ پایا۔
یہی وجہ ہے کہ بعض غیر ذمہ دارانہ بیانات—چاہے وہ علیحدہ ریاست کے مطالبے ہوں یا مخصوص علاقوں اور طبقات کے ووٹ کو کم تر ثابت کرنے کی کوشش—عوامی اعتماد کو مزید مجروح کرتے ہیں۔ سیاست اگر مسائل کے حل کے بجائے جذباتی نعروں کا سہارا لینے لگے تو علاقائی محرومی مزید گہری ہو جاتی ہے۔
اس اجلاس کے دوران سب سے نمایاں پہلو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے متعلق اندرونی کشمکش رہی۔ ایک طرف وزیر اعلیٰ سِدّارامیا نے ایوان میں پُراعتماد انداز میں اعلان کیا کہ وہ اپنی آئینی مدت مکمل کریں گے، تو دوسری طرف کانگریس کے ہی بعض ارکان اور رہنماؤں کے بیانات نے اقتدار کی تبدیلی کو عوامی بحث بنا دیا۔
کانگریس کے رکنِ اسمبلی اقبال حسین کا یہ دعویٰ کہ بیلگاوی اجلاس کے فوراً بعد ڈی کے شیوکمار وزیر اعلیٰ بن جائیں گے، نہ صرف غیر ذمہ دارانہ تھا بلکہ اس نے حکومت کے استحکام پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا۔ اسی طرح قانون ساز کونسل کے رکن اور موجودہ وزیر اعلیٰ کے صاحبزادے یتیندرا سِدّارامیا کا یہ بیان کہ ہائی کمان نے وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کی کوئی منظوری نہیں دی اور سِدّارامیا پانچ سال مکمل کریں گے، اگرچہ استحکام کا پیغام دیتا ہے، مگر جماعتی آداب کے لحاظ سے یہ بیان بھی بحث طلب رہا۔
یہ دونوں بیانات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ کانگریس کے اندر اقتدار کی بحث پارٹی فورم سے نکل کر عوامی منچ تک آ چکی ہے—اور یہی کسی بھی حکومت کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ صورتِ حال ہوتی ہے۔
کانگریس کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ اس کی طاقت ہمیشہ تنظیمی نظم و ضبط اور ہائی کمان کے فیصلوں کی پابندی میں رہی ہے۔موجودہ حالات میں دہلی کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے کہ وہ کرناٹک میں سیاسی بیانیے کو اقتدار کی کشمکش سے نکال کر حکمرانی اور کارکردگی کی سمت واپس لے آئے۔عوام نے کانگریس کو اس امید کے ساتھ مینڈیٹ دیا تھا کہ بی جے پی کے دور کے بعد ریاست میں استحکام، سماجی انصاف اور علاقائی توازن قائم ہوگا—نہ کہ ایک نئی اندرونی سیاسی لڑائی۔
بیلگاوی اجلاس کی ایک اہم مگر نسبتاً کم زیرِ بحث آنے والی پیش رفت وہ مسودۂ قانون ہے جو نفرت انگیز تقاریر، اشتعال انگیز بیانات اور سماجی بائیکاٹ کے انسداد کے لیے پیش کیا گیا۔ گزشتہ برسوں میں نفرت پر مبنی سیاست نے سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اور ایسے میں اس نوعیت کی قانون سازی ناگزیر ہو چکی تھی۔یہ مجوزہ قانون اگر غیر جانبداری، آئینی حدود اور شفاف نگرانی کے ساتھ نافذ کیا گیا تو یہ ریاست میں سماجی توازن بحال کرنے کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے ممکنہ غلط استعمال کے خدشات کو نظرانداز کرنا بھی دانش مندی نہیں ہوگی۔
بیلگاوی اجلاس نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ کرناٹک کی سیاست اس وقت دو راستوں کے بیچ کھڑی ہے۔ ایک راستہ عوامی مسائل، ترقی اور اعتماد کی بحالی کی طرف جاتا ہے، جبکہ دوسرا اقتدار، عہدوں اور اندرونی کشمکش کے گرد گھومتا ہے۔وزیر اعلیٰ سِدّارامیا کا اپنی مدت مکمل کرنے کا عزم اسی وقت بامعنی ہوگا جب حکومت کی ترجیحات بیانات سے نکل کر عمل، عوامی رابطے اور شفاف حکمرانی کی صورت اختیار کریں۔ بصورتِ دیگر، اجلاس تو ہر سال ہوں گے، مگر عوام کا اعتماد خاموشی سے ایوان سے باہر نکلتا رہے گا۔
؎ چراغوں کا دھواں ہے اور خالی کرسیاں ہیں
اب اس ایوان میں بس گفتگو کی ہڈیاں ہیں
haleemmansoor@gmail.com
Comments are closed.