پردےاورحجاب کی حکمت

 

ایک ٹی وی اینکر کاسوال ۔”کیا یہ طے کریں گے کہ مہیلائیں (خواتین)کیا پہنیں گی اورکیانہیں”

مفتی احمدنادرالقاسمی

جامعہ نگر نئی دہلی

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ٹی وی اینکر کا یہ سوال ہی غلط ہے۔ یہ سوال اس وقت درست ہوتاجب مہیلائیں۔ یعنی خواتین اپنی مرضی کالباس پہنتیں۔ وہ تو کبھی بھی اپنی مرضی کالباس پہنتی ہی نہیں ہیں۔ یاتو اپنے ماں باپ کی مرضی کے مطابق کپڑے پہنتی ہیں۔یااپنے شوہر اورسسرال کے رسم ورواج اوراقدار ومریاداکے مطابق لباس زیب تن کرتی ہیں۔یاملازم پیشہ ہوتی ہیں تو اپنے آفس  کے طے کردہ معیارواندازکالباس پہنتی ہیں۔تعلیمی مراحل میں یونیفارم کی پابندیاں ہوتی ہیں۔اوراگر آزاد ہوتی ہیں تو پوری دنیاکے فیشن ڈیزائنر کے بنائے ہوئے لباس کی گرویدہ ہوتی ہیں۔یامردوں نے جوطے کردیاہے یورپ۔ امریکہ۔ افریقہ اورایشیائی ملکوں میں وہ پہنتی ہیں۔اپنی مرضی کالباس زیادہ سے زیادہ دس فیصد خواتین پہنتی ہیں اس میں بھی صرف جوریڈی میڈ کی بجائے خود اپنے حساب سے ٹیلرسے سلواتی یاساڑی۔ سوٹ اورمیکسی وغیرہ پہنتی ہیں۔ان کے علاوہ جتنی بھی خواتن ہیں وہ دوسرے ذرائع کے طے کردہ لباس ہی پہنتی ہیں۔توپھریہ سوال کہ “کیاآپ طے کریں گے کہ خواتین کیاپہنیں اورکیانہ پہنیں یہ آپ طے کریں گے؟۔“بالکل بےمعنی ہوکررہ جاتاہے۔ظاہرہے خواتین ایک خاذب نظرجنس ہے۔اس سے یہ مطالبہ فطرت انسانی اورانسانی اقداروشائستگی کاتقاضاہےکہ اس سے کہاجائےکہ آپ کالباس پورے جسم کےلئے ساتر اورشائستہ ہوناچاہئے۔تاکہ خواتین کی بےلباسی۔یانیم برہنہ جسمانی بےپردگی کی وجہ سےجو اخلاقی انارکی کےخطرات ہیں وہ پیدانہ ہوں۔اورہرممکن خواتین کوسماج میں تحفظ فراہم ہو۔کیایہ معقول بات ہےکہ ایک خاتون مکمل لباس میں نہ ہو اوراس کی طرف دوسروں کی نظرنہ اٹھے۔یہ توانسان کےدیکھنے والی صفت پر ہی پابندی لگادینے والی بات ہوگی کہ انسان آنکھ رہتے ہوئےبھی دنیاکونہ دیکھے یااپنی آنکھ ہی بند کرلے۔ایک مہذب سماج کے لئے اس طرح کاسوال زیب نہیں دیتا۔بلکہ اسے یہ کہناچاہئےکہ خواتین کوبھی چاہئیے کہ وہ شائستہ یاجسم کوچھپانے والا لباس پہنے اورمردکوبھی چاہئیے کہ خواتین کسی بھی مذھب اورقوم کی ہو انھیں عزت ووقاردینے کاجذبہ رکھے۔اگریہ جذبہ سماج میں عام ہوگا توسماجی اعتبار سےتہذیبی اور اخلاقی بلندی پہ جائےگا۔

اسلامی اعتبار سے نقاب وحجاب کسی دوسری اقوام سے کسی ضد کانتیجہ نہیں ہے ۔بلکہ شائستگی اوروقار حاصل کرنے اورمردوں کی فطری چاہت جو بغیرجائزرشتوں کے قیام کے پیداہوتی ہے۔ اس سے تحفظ کی خاطرہے۔

اگر اسلامی لباس اورحجاب ونقاب کواس پہلوسے دیکھاجائےگاتوکبھی ذہن میں منفی اعتراض پیدانہیں ہوگا۔ انسان کے اندرکا ہوس پرستانہ شیطان اسے خواتین کی طرف لذت اندوزی سے دیکھنے پرآمادہ کرتاہے۔اورانسان کے اندراگرخواتین کی عزت اوروقارنہ ہوتو وہ ہرممکن تاک جھانک کی کوشش کرتاہے۔اس سے انکارنہیں کیاجاسکتا۔ اس کا ایک ہی علاج ہےکہ مرداپنےاندر خواتین کے تعلق سے عزت ووقارکے جذبات پیداکرے۔اوراپنی خواہشات کوجائزدائروں تک محدود رکھے۔ اورخواتین اپنی جسمانی ساخت اورجاذبیت۔ یعنی ایٹریکشن کےپہلوکومدنظررکھتےہوئے جسمانی پردہ کالحاظ رکھے۔اس زاویئے سے دیکھاجائے تو بات مرضی کی نہیں ہے۔بلکہ بات سیفٹی اورشائستگی کی سامنےآتی ہے۔جس کے مرداورخواتین دونوں پابندہیں۔کم از کم اس بات پرتوضرورغور کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے کہ جن ملکوں میں خواتین کے پردے کارواج ہے ان ملکوں میں خواتین کے ساتھ زیادتی اورعصمت دری کے واقعات سب سے کم ہیں۔ان ملکوں کے مقابلے جہاں خواتین میں پردہ کی کوئی پابندی نہیں یاجہاں پردے کااہتمام نہیں ہے۔آپ خود بھارت کے دیہاتی علاقوں جہاں ہرقوم میں شائستہ اورساترلباس کاچلن ہے۔اورشہروں میں جہاں آزادی اورلباس کے معاملہ میں نرمی برتی جاتی ہے وہاں عصمت دری اورخواتین کے زیادتی کاتناسب بہت زیادہ ہے۔بلکہ دیہاتوں میں تو نہ کےبرابرہے۔ یہ ہے پردےاورحجاب کی حکمت۔.

Comments are closed.