اونٹ آیا پہاڑ کے نیچے — یا جاوید اختر؟

 

ایڈووکیٹ مفتی اسامہ ندوی

 

کہتے ہیں اونٹ کو اپنے قد و قامت پر بڑا ناز ہوتا ہے، مگر جب وہ کسی بلند پہاڑ کے سائے میں آتا ہے تو اس کا غرور خود بخود زمیں بوس ہو جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی منظر دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا کے اسپیکر ہال میں اس وقت دیکھنے کو ملا، جب الحاد، دہریت اور انکارِ خدا کے حوالے سے شہرت پانے والے جاوید اختر کا سامنا *برادرِ مکرم مفتی شمائل ندوی* سے ہوا۔

اسی لمحے محسوس ہوا کہ اونٹ اور پہاڑ کی مثال شاید کمزور ہے—یہ تمثیل تو خود جاوید اختر پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے۔

میں ٹھیک ساڑھے نو بجے کانسٹی ٹیوشن کلب پہنچ چکا تھا۔ ہال میں ابتدا میں وحیین فاؤنڈیشن کے چند منتخب کارکن موجود تھے، جبکہ دوسری طرف شبنم ہاشمی پورے تیور اور لشکر کے ساتھ مورچہ زن تھیں۔ ان کے انداز، اعتماد اور نگاہوں سے صاف جھلک رہا تھا کہ وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ جاوید اختر اپنی شہرت، زبان دانی اور نام نہاد فکری چمک دمک سے اس مکالمے کو یکطرفہ بنا دیں گے۔

ان کا بھروسہ شخصیت پر تھا، اور ہمارا بھروسہ ربِ کائنات پر۔

رفتہ رفتہ وحیین فاؤنڈیشن کے مدعو شرکاء پہنچنے لگے—تقریباً ستر فیصد نوجوان علماء، کچھ عصری جامعات کے طلبہ، اور چند باحیا خواتین۔ دوسری جانب جاوید اختر نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسرز، ریسرچ اسکالرز اور مختلف ایکٹیوسٹوں کی ایک منظم فوج جمع کر رکھی تھی۔ ان کے چہرے، نشست و برخاست اور باڈی لینگویج سے یوں لگ رہا تھا جیسے یہ لوگ خدا کو نہیں، کسی بھی ماورائی حقیقت کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں۔

نشستوں کے انتظام کے دوران جاوید اختر کی ٹیم سے ایک خاتون آگے بڑھیں اور نہایت آمرانہ لہجے میں فرمایا:

“آگے کی قطاروں میں یونیورسٹی کے پروفیسرز بیٹھیں گے، آپ لوگ پیچھے تشریف لے جائیں۔”

میں نے سکون سے جواب دیا:

“آپ ایک جانب جسے چاہیں بٹھا دیں، دوسری جانب مفتی صاحب کے مدعوئین بیٹھیں گے۔”

یہ سن کر ان کے چہرے پر ناگواری ابھری، کیونکہ ان کے دل میں یہ پختہ گمان بیٹھا ہوا تھا کہ دہلی کی فضا میں دہریت کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

بحث کا آغاز ہوا۔ پہلے مرحلے میں مفتی شمائل ندوی نے نہایت متوازن، شائستہ مگر بھرپور علمی انداز میں گفتگو کی۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ

وجود خدا کو سائنس یا جذبات سے نہیں،بلکہ دلائل سے ثابت کریں گے ایسے ہی آپ کے دلائل بھی عقلی ہونے چاہئے ہم آج وجودِ باری تعالیٰ کو عقلِ سلیم، منطقِ صحیح اور فطری استدلال سے ثابت کرتے ہیں ، نہ کہ نعروں، طنز یا انکارِ محض سے۔

اس کے مقابلے میں جاوید اختر پوری نشست کے دوران کسی ایک نکتے کا بھی مدلل جواب نہ دے سکے۔ ہر سوال کے جواب میں محض انکار، جذباتی جملے، اور غیر متعلقہ مثالیں پیش کرتے رہے۔ دلیل کے میدان میں جب قدم ڈگمگانے لگے تو کبھی طنز کا سہارا لیا، کبھی موضوع بدلنے کی کوشش کی، حتیٰ کہ غزہ کا حوالہ دے کر بحث کو جذباتی رنگ دینے کی ناکام سعی بھی کی—جس کا نہایت وقار، سنجیدگی اور علمی بصیرت کے ساتھ جواب دیا گیا۔

ایک دلچسپ اور معنی خیز پہلو یہ بھی رہا کہ مفتی شمائل ندوی نے اردو اور انگریزی کے امتزاج سے گفتگو کی، مگر یہی انگریزی جاوید اختر کے لیے “باؤنسر” ثابت ہوئی۔ وہ بار بار امپائر (سوربھ دویدی) سے شکایت کرتے رہے کہ انہیں بات سمجھ میں نہیں آ رہی۔ ہم سب اس منظر سے محظوظ ہوتے رہے، کیونکہ جس شخص کی تعلیم، تربیت اور فکری نشوونما انگریزی ماحول میں ہوئی ہو، اس کا انگریزی نہ سمجھ پانا محض اتفاق نہیں بلکہ قدرت کی ایک خاموش تادیب تھی—اسی خدا کی جانب سے جس کا وہ انکاری ہے۔

جب گھڑی نے ایک بجنے کا اعلان کیا تو بحث اپنے اختتام کو پہنچی۔ ہم نے مفتی شمائل ندوی اور مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب کو دلی مبارکباد پیش کی۔ اس کے محض ایک منٹ بعد جاوید اختر، ان کی ٹیم اور ان کے تمام ہم نوا اس طرح ہال سے غائب ہو گئے جیسے کسی نے یکایک روشنی بجھا دی ہو۔

اس کے برعکس ہمارے حلقے میں ایک گھنٹے تک ملاقاتیں، تصویریں، اور علمی گفتگو کا سلسلہ جاری رہا—یہ فرق محض حاضری کا نہیں، *اطمینانِ قلب اور فکری فتح* کا تھا۔

جاوید اختر کو خدا کی صفتِ قادرِ مطلق پر شدید اعتراض تھا، مگر واضح اور مضبوط جواب سن کر وہ محض جذبات کے سہارے دلیل کو پلٹنے کی کوشش کرتے رہے، جو کامیاب نہ ہو سکی۔ الحمدللہ، نوجوان علماء کی اس باوقار، باعلم اور پُراعتماد جماعت نے ایک دہریے کو اس کی فکری حقیقت دکھا دی، اور یوں امت کی جانب سے *فرضِ کفایہ* بخوبی ادا ہو گیا۔

یہ مکالمہ محض ایک نشست نہیں تھا، بلکہ یہ اعلان تھا کہ

الحاد شور مچا سکتا ہے، مگر دلیل آج بھی ایمان کے پاس ہے۔

اللہ تعالیٰ اس کوشش کو قبول فرمائے، حق کی اس آواز کو دوام عطا کرے، اور نوجوان علماء کو مزید استقامت و بصیرت سے نوازے۔

Comments are closed.