جہاد کا حقیقی مفہوم: امن، عدل اور جدوجہد

 

محمد انعام الحق قاسمی

ریاض ، مملکت سعودی عرب

13 دسمبر 2025

اسلام میں جہاد کا مفہوم ظلم و ناانصافی کے خلاف جدوجہد اور حق و انصاف کے قیام کی کوشش کرناہے۔ بدقسمتی سے بعض حلقے، خصوصاً مغربی میڈیا اور بھارت میں انتہا پسند ہندو تنظیموں نے ملکی اور عالمی دونوں سطحوں پر سب سے زیادہ اس مقدس مفہوم کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔اسے کبھی ’’لو جہاد‘‘،کبھی ’’تعلیم جہاد‘‘ ، کورونا جہاد ، کبھی زمین جہاد اور نہ جانے جہاد کی کتنی قسمیں اور منفی اصطلاحات ایجاد کرلی گئی ہیں، اور ان کے ذریعے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے۔

لغوی تعریف

لفظ ِ”جہاد” عربی زبان میں مادہ (جَهد یا جُهد) سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے طاقت اور مشقت کے ساتھ بھرپور کوشش کرنا۔ جہاد کا مطلب ہے اپنی پوری طاقت اور کوشش کو کسی نیک مقصد کے لیے صرف کرنا۔

لغت کی کتابوں میں اس کے معنی یہ بیان ہوئے ہیں:

بذلُ أقصی ماَ یَستطیعہُ الإنسانُ → انسان اپنی مرغوب چیز حاصل کرنے یا ناپسندیدہ چیز سے بچنے کے لیے انتہائی کوشش کرنا ہے۔

اسلامی تصور: اسلام میں جہاد کا مقصد امن قائم کرنا، عدل نافذ کرنا، مظلوموں کی مدد کرنا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہے، اور عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے تمام وسائل کو استعمال کرنا ہے۔ یعنی اسلامی نقطہء نظر سے لفظِ جہاد کا اِطلاق اَعلیٰ و اَرفع مقاصد کے حصول، قیام ِامن، فتنہ فساد کا خاتمہ اور ظلم و ستم، جبر و تشدد اور وحشت و بربریت کو مٹانے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے پر ہوتا ہے۔ ایک مسلمان ساری زندگی جھوٹ، منافقت، دجل، فریب اور جہالت کے خاتمہ کے لئے شیطانی قوتوں سے مصروف جہاد رہتا ہے۔ لفظِ جہاد کے حقیقی معنی سے لوٹ مار، غیظ و غضب، قتل و غار تگری کی بو تک نہیں آتی بلکہ اس کا معنی پاکیزہ، اعلیٰ وارفع مقاصد کے حصول کی کاوشوں پر دلالت کرتاہے۔

شرعی اِصطلاح : جہاد کا معنی اپنی تمام تر جسمانی، ذہنی، مالی اور جانی صلاحیتوں کو اللہ کی رضا کی خاطر وقف کر دینا ہے۔ گویا بندے کا اپنی تمام ظاہری و باطنی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو اَعلی و اَرفع مقاصد کے حصول کے لیے اللہ کی راہ میں صرف کرنے کو جہاد کہا جاتا ہے۔ جہاد کا ترجمہ جنگ و جدال یا Holy war کرنا درست نہیں، لفظِ جہاد کا ترجمہ صرف جنگ و جدال اور لڑائی وغیرہ کرنا قطعا درست نہیں ہے کیونکہ خالص جنگ کے لئے قرآن و حدیث میں لفظِ جہاد نہیں بلکہ لفظ ’’حرب‘‘ اور ’’قتال‘‘ استعمال ہوتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ قرآن ۲۳ سال کی مدت میں وقفہ وقفہ سے اترا۔ جیسے حالات پیداہوتے تھے اسی کے مطابق اللہ کی طرف سے احکام نازل کر دئيے جاتے تھے۔ اس ۲۳ سال کو دو مختلف مدتوں میں تقسیم کیاجاسکتا ہے۔ ایک ۲۰ سال کی مدت اور دوسرے تین سال کی مدت، ۲۰ سال کی مدت میں قرآن میں وہ احکام اترے جو ایمان، اخلاص، عبادت، اخلاق، عدل، اصلاح سے تعلق رکھتے تھے ۔اُس وقت پیغمبرِ اسلام کے مخالفوں نے یکطرفہ طورپر حملہ کر کے اہل اسلام کے لیے دفاع کا مسئلہ پیدا کردیا تھا۔ گویا قرآن میں جہاد بمعنٰی قتال کی آیتوں کی حیثیت استثناء کی ہے اور دوسری آیتوں کی حیثیت عموم کی۔

 پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ اُس وقت مکہ پر مشرک لوگوں کا اقتدار قائم تھا۔ اُس وقت مکہ میں آپ کی حیثیت داعی کی تھی اور بقیہ لوگوں کی حیثیت مدعو کی۔ مکہ کے سردارانِ کفار و مشرکین آپ کے نظریۂ توحید کے دشمن بن گئے اور آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے لگے۔ اِسی حال میں تیرہ سال گزر گئے۔ اِسی دوران مکہ اور اطرافِ مکہ اور مدینہ کے بہت سے لوگ اسلام قبول کرکے آپ کے ساتھی بن گیے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ مکی دَور کے آخر میں آپ کے ساتھیوں نے آپ سے اِصرار کیا کہ ہم مشرکینِ مکہ کے خلاف لڑیں گے۔ اُس وقت آپ کے ساتھیوں کی تعداد مجموعی طورپر تقریباً اتنی ہی تھی جتنی کہ غزوۂ بدر کے موقعہ پر شریک ہونے والے صحابہ کی تھی۔ لیکن اُس وقت آپ نے جنگ کا فیصلہ نہیں کیا، بلکہ آپ نے اپنے ساتھیوں کو یہ جواب دیا کہ: إصبروا، فإنی لم أومر بالقتال یعنی تم لوگ صبر کرو، کیوں کہ مجھ کو جنگ کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب، اسلام کی ایک اہم تعلیم کو بتاتاہے۔،وہ تعلیم یہ ہےکہ اُن کے لئے غیر سیاسی میدان میں پُرامن جدوجہد کرنا ہے، نہ کہ مسلّح ٹکراؤ کرنا۔ اِسی بات کو دورِ تابعین میں مسیّب ابن رافع تابعی نے اِس طرح بیان کیا کہ کچھ اجتماعی چیزیں وہ ہیں، جن کا تعلق صرف حُکّام سے ہوتا ہے۔ اِسی لئے اُن کو )صَوافی الأُمراء(کہاجاتا ہے،یعنی حاکموں کا میدان (جامع بیان العلم، جلد 2، صفحہ 144)۔ علماء کے اتفاق کے مطابق، مسلّح جد وجہد کا تعلق، صوافی الامراء سے ہے، یعنی اُس کا فیصلہ صرف حکام کرسکتے ہیں، نہ کہ عوام ۔

مکی دَور کے تیرہ سالوں میں اہلِ اسلام کا اقتدار قائم نہیں ہوا تھا، اِس لیے مکی دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم کے باوجود جنگ اور قتال کا فیصلہ نہیں فرمایا۔ اِس کے بعد جب ہجرت کا واقعہ پیش آیا اور مدینہ میں پیغمبر اسلام کا اقتدار قائم ہوگیا تو آپ نے دفاع کے لیے جنگ کی اجازت دی۔ اِسی زمانے میں غزوۂ بدر (2 ہجری)، غزوۂ اُحُد (3ہجری) اور غزوۂ حُنَین (8ہجری) کے واقعات پیش آئے، یہ سب دفاعی غزوات تھے۔ کسی غیر حکومتی گروہ کو مسلح جہاد کی ہرگز اجازت نہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جہاد اسلام میں صرف دفاعی ہے یا اقدامی ، اہل علم کا اس میں اختلاف ہے، محققین کی رائے یہی ہے کہ اقدامی جہاد کے دلائل قوی ہیں۔

اسلام میں اگر چہ دفاع کے لیے جنگ کی اجازت ہے، لیکن اسی کے ساتھ شدت سے اِعراض کا حکم دیا گیا ہے، یعنی دفاع کے حالات پیدا ہونے کے باوجود آخری حد تک جنگ سے اِعراض کی کوشش کی جائے گی اور جب اِعراض کی تمام کوششیں ناکام ہوجائیں گی تو اُ س وقت آخری چارۂ کار کے طور پر دفاعی جنگ کی جائے گی۔ اِس سلسلے میں یہ بات نہایت اہم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صرف تین بار باقاعدہ جنگ ہوئی، یعنی بَدر اور اُحد اور حُنین کی جنگ۔ اس کے سوا جن واقعات کو ’غزوہ‘ کہا جاتا ہے، وہ یا تو صرف پُرامن مہم تھیں،مثلاً غزوۂ تبوک (9 ہجری)، یا جنگ کی حالت پیدا ہونے کے باوجود جنگ سے اِعراض، مثلاً غزوۂ خندق (5 ہجری) یا بعض واقعات کی صورت میں صرف جھڑپیں ۔غزوۂ خیبر (7 ہجری) کی نوعیت اِسی قسم کی ہے۔

جنگ کے باقاعدہ واقعات بھی اِس طرح ہوئے کہ اُن میں عملاً صرف آدھے دن کی لڑائی ہوئی، یعنی دوپہر کے بعد جنگ کا آغاز اور شام تک جنگ کا خاتمہ، جیسا کہ غزوۂ بدر اور غزوۂ احد اور عزوۂ حنین کے موقع پر پیش آیا۔ اِس لحاظ سے یہ کہنا درست ہوگا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے 23 سالہ دورِ نبوت میں مجموعی طورپر صرف ڈیڑھ دن کے لیے جنگ کی۔

ایک اہم تاریخی حقیقت

مختلف روایات میں غزوات کی تعداد 19، 24 یا 27 بیان ہوئی ہے۔ ان میں سے صرف چند میں حقیقی جنگ ہوئی، باقی میں دشمن مقابلے سے پہلے ہی پسپا ہو گیا یا صلح ہوگئی۔ سیرت نگاروں کے مطابق رسول اللہ ﷺ کے دور کے تمام غزوات میں مسلمان شہداء کی تعداد تقریباً 250سے 300 کے درمیان تھی، جبکہ مشرکین اور دشمنوں کے مقتولین کی تعداد600 سے700 کے قریب رہی۔ اس طرح کل ملا کر دونوں طرف کے مقتولین کی تعداد ایک ہزار سے کم رہی۔ رسول اللہ ﷺ کی غزواتی زندگی کا مقصد قتل و قتال نہیں بلکہ دفاع، ظلم کے خاتمے اور دین کی آزادی تھا۔ اکثر غزوات میں اصل مقصد دشمن کو دباؤ میں لا کر صلح یا امن قائم کرنا تھا، اور کئی غزوات خونریزی کے بغیر ختم ہو گئے۔

پروپیگنڈہ اور بدنامی

مغربی و بھارتی پروپیگنڈہ: مغربی ممالک اور بھارت میں بعض انتہا پسند گروہ جہاد کو دہشت گردی کے مترادف قرار دیتے ہیں تاکہ اسلام کو بدنام کیا جا سکے۔

لو جہاد: ایک من گھڑت اصطلاح جس کے ذریعے مسلمانوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ شادی یا محبت کے ذریعے ہندو عورتوں کو اسلام میں داخل کرتے ہیں۔ یہ سراسر جھوٹ اور نفرت انگیز پروپیگنڈہ ہے۔

تعلیم جہاد: مسلمانوں کے تعلیمی اداروں کو بدنام کرنے کے لیے یہ اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، حالانکہ تعلیم دینا اور علم پھیلانا اسلام کا بنیادی فریضہ ہے۔

دیگر اصطلاحات: ’’زمین جہاد‘‘، ’’آبادی جہاد‘‘ ، کورونا جہاد وغیرہ جیسے الفاظ بھی اسی مہم کا حصہ ہیں، جن کا مقصد مسلمانوں کو شک و شبہ میں ڈالنا اور معاشرتی نفرت کو ہوا دینا ہے۔

حقیقت اور ردِعمل: اسلام کا پیغام امن، عدل اور انسانیت ہے۔جہاد کا اصل مقصد ظلم کے خلاف جدوجہد اور حق کی سربلندی ہے، نہ کہ کسی قوم یا مذہب کو نقصان پہنچانا۔انتہا پسندانہ پروپیگنڈہ دراصل مسلمانوں کو کمزور کرنے اور معاشرتی تقسیم پیدا کرنے کی سازش ہے۔

جہاد اسلامی ایک مقدس جدوجہد ہے جو امن، انصاف اور مظلوموں کی حمایت کے لیے کی جاتی ہے۔ ’’لو جہاد‘‘ اور ’’تعلیم جہاد‘‘ وغیرہ جیسی اصطلاحات اسلام کو بدنام کرنے کی سیاسی و سماجی سازش ہیں، جنہیں حقیقت کے آئینے میں رد کرنا ضروری ہے۔

جہاد کی اقسام اور وضاحت :جہاد فرضِ کفایہ (اجتماعی ذمہ داری)ہے اور جہاد فرضِ عین اس وقت ہوجاتاہے(جب دشمن حملہ کرے)۔

اس طرح "جہاد” کا تصور محض جنگ نہیں بلکہ ایک جامع جدوجہد ہے جو انسان اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے۔

جہاد کی ہر قسم کی بنیاد قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ قرآن نے جہاد بالنفس، جہاد بالمال، جہاد باللسان اور جہاد بالقتال سب کو بیان کیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی فضیلت اور عملی مثالیں پیش کی ہیں۔

جہاد بالنفس: (نفس کے خلاف جدوجہد)

قرآن: ﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾ [العنكبوت: 69]

"جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں دکھا دیتے ہیں۔”

حدیث: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "المُجاهدُ من جاهدَ نفسَه في الله”یعنی اصل مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کو اللہ کے لیے قابو میں رکھے۔

جہاد بالمال: (مال کے ذریعے جدوجہد)

قرآن: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ﴾ [التوبة: 41]”نکل پڑو ہلکے اور بھاری، اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جانوں سے جہاد کرو۔”

حدیث: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "من جهز غازياً في سبيل الله فقد غزا”

"جو کسی مجاہد کو سامان فراہم کرے، وہ خود بھی جہاد میں شریک سمجھا جائے گا۔”

جہاد باللسان: (زبان و قلم کے ذریعے جدوجہد)

قرآن: ﴿وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا﴾ [الفرقان: 52]

"قرآن کے ذریعے ان سے بڑا جہاد کرو۔” یعنی حق بیان کرنا اور باطل کو ردّ کرنا۔

حدیث: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جاهِدوا المشركينَ بأموالكم وأنفسكم وألسنتكم””مشرکین کے خلاف اپنے مال، جان اور زبان سے جہاد کرو۔”

جہاد بالقتال :(دفاعی جنگ)

قرآن: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ [البقرة: 190] "ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو کیونکہ اللہ تعالی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”

حدیث: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ””اللہ نے ضمانت دی ہے کہ جو اس کی راہ میں نکلے، اسے جنت میں داخل کرے گا۔”

اس طرح قرآن و حدیث نے جہاد کو ایک جامع تصور بنایا ہے، جس میں نفس کی اصلاح، مال کی قربانی، زبان و قلم کی خدمت، اور ضرورت پڑنے پر قتال سب کو شامل ہیں۔

۔۔۔۔۔:::۔۔۔۔۔

Comments are closed.