عقل و عشق کا معرکہ: جاوید اختر کے ‘رومانوی الحاد’ کا علمی رد

 

​تحریر: الطاف جمیل شاہ (سوپور، کشمیر)

 

​پیش لفظ

​دورِ حاضر میں سوشل میڈیا نے فکری مباحث کو ڈرائنگ رومز سے نکال کر عوامی چوراہوں تک پہنچا دیا ہے۔ حال ہی میں معروف شاعر و نغمہ نگار جاوید اختر اور ممتاز عالمِ دین مفتی شمائل ندوی کے درمیان ہونے والا مکالمہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جسے انٹرنیٹ پر کروڑوں کی تعداد میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہ گفتگو محض دو افراد کا ٹکراؤ نہیں تھی، بلکہ یہ "قدیم مذہبی بیانیے” اور "جدید ملحدانہ افکار” کے درمیان ایک علمی معرکہ تھا۔

​عام طور پر ملحدین یہ تاثر دیتے ہیں کہ مذہب صرف عقیدت اور جذبات کا نام ہے جبکہ الحاد عقل اور سائنس کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ تاہم، اس مناظرے نے اس متھ (Myth) کو پاش پاش کر دیا ہے۔ زیرِ نظر تحریر میں اس مکالمے کے ان فکری اور منطقی پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ جب الحاد کا سامنا ٹھوس علمی روایت سے ہوتا ہے، تو وہ کس طرح دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

علمی مکالمہ اور جذباتی الحاد

​جاوید اختر اور مفتی شمائل ندوی کے درمیان ہونے والا حالیہ مکالمہ دراصل "عقلیت بمقابلہ جذباتیت” کا ایک شاہکار نمونہ بن کر ابھرا ہے۔ جہاں جاوید اختر نے اپنی گفتگو کو شاعری، جذبات اور روایتی سماجی اعتراضات تک محدود رکھا، وہیں مفتی شمائل ندوی نے خالص علمی، سائنسی اور منطقی دلائل سے ان کے مقدمے کو بے وزن کر دیا۔

​اس مناظرے کے فکری پہلوؤں کا ایک عالمانہ جائزہ درج ذیل ہے:

​۱. تصورِ خدا اور ڈیزائن آرگیومنٹ (Argument from Design)

​مفتی شمائل ندوی نے اپنی بحث کا آغاز کائنات کی "درستگی اور نظم” (Fine-Tuning) سے کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ کائنات کا ذرہ ذرہ ایک عظیم ذہانت (Supreme Intelligence) کی گواہی دے رہا ہے۔

​دلیل: اگر ایک عام سی گھڑی یا سوفٹ ویئر بغیر کسی ڈیزائنر کے وجود میں نہیں آ سکتا، تو اتنی پیچیدہ کہکشائیں اور ڈی این اے (DNA) کا حیاتیاتی کوڈ خود بخود کیسے بن سکتا ہے؟

​جاوید اختر کا تضاد: جاوید اختر کے پاس اس سائنسی نظم کا کوئی ٹھوس جواب نہیں تھا۔ وہ بار بار اسے "اتفاق” (Chance) قرار دیتے رہے، جو کہ خود ایک غیر منطقی اور غیر سائنسی موقف ہے۔

​۲. اخلاقیات کا منبع (Source of Morality)

​بحث کا سب سے نازک موڑ وہ تھا جب "اچھائی اور برائی” کے پیمانے پر بات ہوئی۔

​مفتی صاحب کا موقف: اگر خدا کا وجود نہیں، تو اخلاقیات محض ایک سماجی سمجھوتہ بن کر رہ جاتی ہیں۔ مادہ پرستی میں "اچھا” اور "برا” طے کرنے کا کوئی مستقل پیمانہ نہیں ہوتا۔

​جاوید اختر کی بے بسی: انہوں نے "انسانیت” اور "سماجی ضرورت” کا سہارا لینے کی کوشش کی، لیکن وہ یہ بتانے میں ناکام رہے کہ اگر کوئی طاقتور شخص ظلم کرے، تو ملحدانہ نقطہ نظر سے اسے روکنے کی آفاقی اخلاقی بنیاد کیا ہوگی؟

​۳. سائنس اور الحاد: ایک منطقی ٹکراؤ

​جاوید اختر عموماً سائنس کا سہارا لیتے ہیں، لیکن جب مفتی صاحب نے کوانٹم فزکس اور بگ بینگ کے حوالے سے "خالق کی ضرورت” پر بات کی، تو جاوید اختر دفاعی پوزیشن پر آگئے:

​علمی شکست: جاوید اختر اکثر مقامات پر علمی جواب دینے کے بجائے طنز یا موضوع بدلنے کی کوشش کرتے رہے، جو کہ ایک مفکر کی علمی پسپائی کا واضح اشارہ ہے۔ مفتی صاحب نے ثابت کیا کہ اسلام سائنس کا مخالف نہیں، بلکہ سائنس خود خدا تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے۔

​۴. ‘خالق کا خالق کون؟’ – ایک منطقی مغالطہ

​ملحدین کا مشہور سوال ہے کہ "اگر خدا نے سب کو بنایا، تو خدا کو کس نے بنایا؟” مفتی صاحب نے اس کا جواب درج ذیل نکات سے دیا:

​تسلسل کا محال ہونا: اگر خدا کا بھی کوئی بنانے والا ہو، تو وہ "خدا” نہیں بلکہ "مخلوق” بن جائے گا۔ منطق کی رو سے یہ سلسلہ (Infinite Regress) کہیں نہ کہیں ایک ایسی ہستی پر رکنا لازم ہے جو "واجب الوجود” (Self-Existent) ہو، یعنی جسے کسی نے نہ بنایا ہو بلکہ وہ سب کا بنانے والا ہو۔

​وقت اور مکان کی قید: وقت اور مکان (Space & Time) کائنات کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔ خدا ان کا خالق ہے، اس لیے وہ ان کے قوانین کے تابع نہیں ہو سکتا۔ یہ کہنا کہ "خدا کو کس نے بنایا” ایسا ہی ہے جیسے کوئی پوچھے کہ "بیچلر (کنوارے) کی بیوی کا نام کیا ہے؟” سوال ہی اپنی تعریف میں تضاد رکھتا ہے۔

​۵. قانونِ علیت (Law of Causality)

​ملحدین کہتے ہیں کہ ہر چیز کا ایک سبب (Cause) ہوتا ہے۔

​تکنیکی رد: قانونِ علیت صرف ان چیزوں پر لاگو ہوتا ہے جن کی ابتدا ہوئی ہو (حادث ہو)۔ کائنات کی ابتدا بگ بینگ سے ثابت ہے، اس لیے اسے ایک "خالق” کی ضرورت ہے۔ لیکن خدا "قدیم” ہے (ہمیشہ سے ہے)، اس لیے اس پر علیت کا قانون لاگو ہی نہیں ہوتا۔

​حاصلِ کلام

​یہ مناظرہ ثابت کرتا ہے کہ جاوید اختر کا الحاد دراصل ایک "رومانوی الحاد” ہے جو صرف شاعری اور سطحی اعتراضات پر قائم ہے، جبکہ مفتی شمائل کا مقدمہ ٹھوس علمی اور عقلی بنیادوں پر استوار ہے۔ جاوید اختر کا پلہ "اداکاری اور لسانی روانی” میں بھاری ہو سکتا ہے، لیکن "علم اور سچائی” کے ترازو میں مفتی صاحب کا مقدمہ ناقابلِ تردید ہے۔ الحاد کے پاس صرف "سوال” ہیں، جبکہ اسلام کے پاس "جواب” اور "نظام” دونوں ہیں۔

آخری بات

 

​اہلِ علم کا وقار اور ناقدین کی کج فہمی

​مفتی یاسر ندیم واجدی اور مفتی شمائل ندوی جیسے متبحر عالمِ دین درحقیقت قوم و ملت کے قلب کی تسکین اور فکری اثاثہ ہیں۔ الحاد کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے یہ ہستیاں ایک ایسی چٹان کی مانند کھڑی ہیں جو اسلامی علوم و معارف کی روشنی میں دینِ مبین کا دفاع کر رہی ہیں۔

​کچھ نامعلوم دانشور اور علم و ادب کی خوشبو سے محروم لوگ، جو اپنے حجروں میں بیٹھ کر ان جلیل القدر علماء پر جرح کرتے ہیں یا ان کے علمی مکالمے کو مسلکی رنگت دے کر متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ دراصل ذہنی پراگندگی کا شکار ہیں۔ جن کی اپنی کوئی علمی حیثیت نہیں، وہ ان شہسواروں کے قد کاٹھ کا اندازہ کیسے لگا سکتے ہیں جنہوں نے علمی میدان میں اپنے معارف کی دھاک بٹھا دی ہے؟

​اس معرکے کا سب سے خوبصورت اور معنی خیز پہلو وہ لمحہ تھا جب یہ دونوں (مفتی یاسر اور مفتی شمائل) مل کر مسکراتے ہیں۔ یہ مسکراہٹ دراصل ان سطحی ناقدین کے لیے ایک خاموش پیغام ہے کہ: "دیکھو! ہم علم و محبت کے دلدادہ ہیں، تمہارے کوسنوں اور مسلکی تعصبات سے ہم گھبرانے والے نہیں”۔ یہ تصویر گواہ ہے کہ جب اخلاص اور علم یکجا ہو جائیں تو پھر سطحی ناقد و لاعلم دانشوروں کے سامنے سینہ سپر ہونا کتنا سہل ہو جاتا ہے۔

Comments are closed.