بین مذاہب مذاکرات اور شرعی ہدایات
محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔
مدرسہ نور الاسلام موئی کلاں کنڈہ پرتاپگڑھ 9506600725
تمہید
یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ایسی مخلوق بنایا ہے، جس میں عقل و شعور اور فہم و ادراک کی غیر معمولی صلاحیت رکھی گئی ہے ، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جیسے انسان کے ظاہری رنگ و روپ شکل و صورت اور آواز وغیرہ میں فرق رکھا گیا ہے ،اسی طرح اس کی فکر ،سوچ اور مزاج و مذاق میں بھی فرق اور تنوع ہے ، جس کا ہم سب شب و روز مشاہدہ کرتے ہیں ۔ یہ فرق اور تنوع زندگی کے ہر میدان میں ہے ، یہ اختلاف مادی چیزوں میں بھی ہے اور معنوی چیزوں میں بھی ہے ، اسی اختلاف فکر و نظر اور تنوع ذوق و مزاج کی وجہ سے دنیا میں سینکڑوں ادیان و مذاھب موجود ہیں اور جو گروہ جس دین کو قبول کرتا ہے وہ اسی پر پورا یقین رکھتا ہے ، قرآن مجید جو خود خالق حقیقی کی اتاری ہوئی کتاب ہے ،اس میں بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو ساری انسانیت ایک دین پر قائم ہوتی ، یہ اختلاف دین اگر چہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہے ،لیکن اس کے پیچھے بھی اللہ تعالیٰ ہی کی مشئیت کار فرما ہے ۔
معلوم یہ ہوا کہ جب خود اللہ تعالیٰ نے انسان کو راہ ہدایت اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا ہے، اس کو ارادہ و اختیار کی قوت دی ہے اور اس کے سوچ میں اختلاف رکھا ہے، تو اب نوع انسانی کو ہدایت کی طرف لانے کا یہی طریقہ اور راستہ ہے کہ قوموں کے درمیان تبادلئہ خیال ہو اور ڈبیٹ و مکالمہ کا راستہ اختیار کیا جائے ، جس کو قرآن مجید نے دعوت الی اللہ اور مجادلئہ حسنہ سے تعبیر کیا ہے جو خیر امت کے لئے شہادت حق کا ایک پر امن راستہ ہے ۔( مستفاد از علماء اور خواص امت ۔مقام اور ذمہ داریاں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی)
البتہ حوار اور مذاکرات کا مقصد دعوت الی اللہ ہو کیونکہ اس امت کی بعثت ہی دعوت الی اللہ کے لیے ہوئی ہے ۔
حوار اور مذاکرات کا مقصد مخاطب کی غلط فہمی کو بھی دور کرنا ہو اور ساتھ ہی اس کا ایک بڑا اور اہم مقصد نفرت و عداوت کے جذبات کو ختم کرنا یا کم کرنا ہو کیونکہ بہتر گفتگو عام طور پر رائیگاں نہیں جاتی ۔
غرض یہ اسلام ایک منزل من اللہ اور آفاقی دین ہے، جو عقلِ انسانی، فطرتِ سلیمہ اور اخلاقِ فاضلہ سے ہم آہنگ ہے۔ چونکہ انسانی معاشرہ فکری، مذہبی اور تہذیبی تنوع رکھتا ہے، اس لیے اختلافِ رائے ایک فطری امر ہے۔ اسلام نے اس اختلاف کو تصادم اور کشمکش کا ذریعہ بنانے کے بجائے مکالمہ، دعوت اور استدلال کا راستہ دکھایا۔ قرآنِ مجید نے اس اسلوب کو نہایت جامع انداز میں “حکمت، موعظتِ حسنہ اور جدالِ احسن” کے اصولوں میں سمو دیا، جو ہر دور اور ہر ماحول میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
عصرِ حاضر میں، جب بین المذاہب مکالمات، ملحدین اور منکرینِ خدا سے مباحثات، اور سوشل میڈیا پر مناظرانہ گفتگو عام ہو چکی ہے، ان قرآنی اصولوں کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے۔ بدقسمتی سے عملی صورتِ حال یہ ہے کہ اکثر مباحث دلیل کے بجائے جذبات، شخصیات اور گروہی تعصبات کے گرد گھومنے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ حق پوری طرح واضح ہو پاتا ہے اور نہ ہی مکالمہ کسی مثبت علمی نتیجے تک پہنچتا ہے۔
نیت کی اصلاح: دعوت یا غلبہ؟
اسلامی مکالمے کی بنیاد نیت کی درستگی پر ہے۔ داعی یا مناظر کا مقصد مخالف کو زیر کرنا، وقتی دادِ تحسین حاصل کرنا یا اپنی علمی برتری جتانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اصل مقصد حق کی توضیح اور خیر خواہی ہے۔ قرآنِ مجید میں دعوت کو “حکمت” کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر نیت میں اخلاص نہ ہو تو مضبوط ترین دلیل بھی غیر مؤثر ہو جاتی ہے۔
حکمت: مخاطب کے فکری پس منظر کا لحاظ
حکمت کا تقاضا ہے کہ گفتگو مخاطب کے فکری، علمی اور نفسیاتی پس منظر کو سامنے رکھ کر کی جائے۔ ملحد یا منکرِ خدا سے محض نقلی دلائل کے ذریعے بات کرنا اکثر مؤثر ثابت نہیں ہوتا، بلکہ وہاں عقل، فطرت اور کائناتی نظم پر مبنی استدلال کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح بین المذاہب مکالمے میں مشترک انسانی اقدار ،جیسے عدل، اخلاق، سچائی اور انسانی وقار ،کو بنیاد بنانا دعوت کے اثر کو بڑھاتا ہے۔
موعظتِ حسنہ: اسلوب کی شائستگی
اسلام نے دعوت اور مباحثے میں اخلاقی اسلوب کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ سخت لہجہ، طنز، تحقیر اور تمسخر نہ صرف دعوت کی روح کے منافی ہیں، بلکہ مخاطب کے دل کو بھی بند کر دیتے ہیں۔ سیرتِ نبوی ﷺ اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ شدید مخالفت اور اذیت کے باوجود آپ ﷺ نے حلم، بردباری اور شائستگی کو کبھی ترک نہیں کیا۔ یہی اخلاقی وقار اسلامی مکالمے کی اصل قوت ہے۔
جدالِ احسن: شخصیت نہیں، دلیل محورِ بحث ہو
جدالِ احسن کا بنیادی اصول یہ ہے کہ بحث کا محور دلائل ہوں، نہ کہ اشخاص۔ مخالف کی نیت پر حملہ کرنا، اس کے پس منظر کو نشانہ بنانا یا طعن و تشنیع سے کام لینا اسلامی طریقۂ مکالمہ نہیں۔ اعتراض کا جواب وضاحت سے، دلیل کا جواب دلیل سے، اور اختلاف کے باوجود احترام ،یہی جدالِ احسن کا حقیقی مفہوم ہے۔
علمی دیانت اور حدود کی پاس داری
اسلام علمی امانت پر غیر معمولی زور دیتا ہے۔ غیر مستند حوالہ جات، سیاق و سباق سے کٹی ہوئی آیات یا احادیث، اور ایسے سائنسی یا فلسفیانہ مباحث جن پر گفتگو کرنے والے کو مکمل عبور نہ ہو، مکالمے کو کمزور بنا دیتے ہیں۔ داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علمی حدود کو پہچانے اور صرف وہی بات بیان کرے، جس کا اسے صحیح علم ہو۔
اختلاف میں عدل و انصاف
عدل اسلامی اخلاق کی بنیاد ہے، اور یہی عدل مکالمے میں بھی مطلوب ہے۔ اگر مخالف کوئی درست نکتہ پیش کرے تو اسے تسلیم کرنا کمزوری نہیں بلکہ اخلاقی قوت کی علامت ہے۔ اسی طرح ہر سوال کو بدنیتی پر محمول کرنا یا سازش سمجھ لینا مکالمے کو تعصب کی طرف لے جاتا ہے۔ منصفانہ رویہ ہی اختلاف کو علمی اور نتیجہ خیز بناتا ہے۔
نتائج کا معاملہ: ذمہ داری اور توکل
اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، داعی کی ذمہ داری محض پیغام پہنچانا ہے۔ کسی مناظرے یا مکالمے کے بعد فتح و شکست کے شور میں اصل مقصد اکثر پسِ پشت چلا جاتا ہے۔ حق کی کامیابی ہمیشہ فوری اور ظاہری نہیں ہوتی، لیکن وہ اپنے اثرات ضرور چھوڑتی ہے۔
بعد از مکالمہ رویہ: اعتدال اور توازن
کسی بھی علمی یا فکری مکالمے کے بعد شخصیت پرستی اور اندھی مخالفت ،دونوں افراط و تفریط کی صورتیں ہیں۔ متوازن رویہ یہ ہے کہ مضبوط دلائل کو سراہا جائے، کمزوریوں کی نشاندہی مہذب اور علمی انداز میں کی جائے، اور مجموعی طور پر مکالمے کے کلچر کو فروغ دیا جائے، نہ کہ نفرت اور انتشار کو۔
اسلامی مکالمہ شور، تضحیک اور انا کی کشمکش کا نام نہیں، بلکہ یہ علم، اخلاق اور خیر خواہی کا حسین امتزاج ہے۔ جدالِ احسن ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بات اتنی مضبوط ہو کہ عقل مطمئن ہو جائے، اور اسلوب اتنا پاکیزہ ہو کہ دل بند نہ ہو۔ اگر ان اصولوں کو عصرِ حاضر کے فکری اور مذہبی مکالموں میں سنجیدگی سے اپنایا جائے تو اختلاف نزاع کے بجائے رہنمائی اور مدد مل سکتی ہے نیز اصلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
مذاکرہ میں حصہ لینے والے کے لیے مطلوبہ اوصاف
ڈبیٹ اور مذاکرات کی کامیابی میں بڑا دخل بحث کرنے والے کے اخلاق اور طرز گفتگو کا ہوتا ہے ۔
اس میں بنیادی چیز وہ ہے جسے قرآن مجید نے ،، قول حسن،، سے تعبیر کیا ہے ۔ و قولوا للناس حسنا ،، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو جب فرعون کو دعوت دینے کے لیے بھیجا تو ہدایت دی گئی ۔
فقولا لہ قولا لینا ،،
اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا ،، ادعوا الی سبیل ربک بالحکمة الخ
فریق مخالف کے ساتھ عام سلوک کے اعتبار سے خوش اخلاقی سے پیش آنا ضروری ہے ، سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں ہمارے لیے سب سے بہترین نمونہ ہے ۔
فریق مخالف کے ساتھ عدل و انصاف کا رویہ ، صبر و تحمل بردباری ،اور برداشت
اپنے مخاطب کی زبان اور اصطلاحات سے واقفیت یہ اوصاف بھی مذاکرات کرنے والے کے لیے بے حد ضروری ہیں ۔
حوار کا ابتدائی موضوع
یہاں یہ بھی سوال ہوتا ہے کہ حوار کا ابتدائی اور بنیادی موضوع کیا ہونا چاہیے ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید خود اس کی رہنمائی کرتا ہے کہ ان امور کی پہلے دعوت دی جائے جو جو دونوں کے درمیان مشترک ہو ۔
قل یا اھل الکتاب تعالوا الی کلمة سواء بیننا و بینکم الا نعبد الا اللہ الخ
کلمئہ اخریں
عصر حاضر میں پوری دنیا میں بین مذاہبِ مذاکرات اور حوار کی بڑی اہمیت ہے ، لیکن ہندوستان جیسے ملک میں جو دینا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے اور جہاں تکثریری سماج ہے، اس ملک میں تمام مذاہبِ کے لوگ آباد ہیں اور مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کا یہ رنگارنگ ملک ہے ، اس لئے اس کی اہمیت نسبتا دوسری جگہوں کے مقابلے میں یہاں زیادہ ہے ، ہندوستان کا یہ ملا جلا معاشرہ ماضی بعید سے رہا ہے ، اس کی قدامت پر بھی قدامت لگ چکی ہے ۔
اگر یہاں جمہوری انداز اور اور حدود و آداب کی روشنی میں مذاکرات ہوں تو اس سے پر امن ماحول قائم ہوگا ، مفاہمت کا مزاج پیدا ہوگا ، بقاء باہم کے اصول پر تمام مذاہبِ کے ماننے والے ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے عادی ہوں گے ۔ جمہوریت کو استحکام ملے گا اور ہمہ مذہبی کلچر کو قبول عام ہوگا ۔
چلتے چلتے اس بات کی وضاحت بھی ہو جائے بین مذاہبِ مذاکرات کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم وحدت ادیان کے قائل ہیں ہرگز نہیں ،اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف قابل قبول دین وہ اسلام ہے اور اور مذہب قابل قبول نہیں ہے ۔
بعض لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ تمام مذاہبِ ایک ہیں ، منزل ایک ہے اور راستے الگ الگ ہیں ،اسلام کی نظر میں ایک ہی راستہ ہے جو اللہ کی رضا و خوشنودی کی طرف آتا ہے ،اس کے سوا جو راستے ہیں ، وہ انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں ۔
Comments are closed.