داڑھی کی سنت کا مذاق اُڑانے کا حکم
محمد انعام الحق قاسمی
ریاض ، مملکت سعودی عرب
یہ ایک سنجیدہ اور حساس دینی مسئلہ ہے ۔اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی بھی دینی حکم، سنت، یا شعائرِ اسلام کا مذاق اُڑانا سخت گناہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذاق دراصل تحقیر اور استخفاف کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور دین کے کسی حصے کی تحقیر کرنا ایمان کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔بالخصوص اگر مذاق اڑانے والے علمائے کرام اور سونے پر سہاگہ فضلائے دار العلوم ہوں۔
اگر کوئی داڑھی کو بطور سنت جانتے ہوئے اس کا مذاق اُڑائے ،یہ بہت بڑا گناہ ہے:
• علماء کے مطابق یہ عمل کفر تک لے جا سکتا ہے کیونکہ یہ دین کی ایک ظاہر سنت کی توہین ہے۔
• قرآن میں ہے کہ دین کا مذاق اُڑانے والوں کے بارے میں فرمایا گیا:
“کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اُڑاتے ہو؟ بہانے نہ بناؤ، تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے ہو۔”
اگر کوئی داڑھی والے شخص کا مذاق اُڑائے، سنت کی نیت سے نہیں:
• اگر مقصد صرف کسی فرد کی شکل یا اسٹائل کا مذاق ہو، نہ کہ سنت کی تحقیر، تو یہ بھی گناہ ہے مگر کفر نہیں۔
• یہ اخلاقی اور شرعی طور پر غلط ہے، کیونکہ کسی مسلمان کی تحقیر کرنا منع ہے۔
اگر لاعلمی یا جہالت کی وجہ سے مذاق کرے:
• تب بھی یہ عمل گناہ ہے۔
• مگر حکم اس کی نیت اور علم کے مطابق ہوگا۔
• ایسے شخص کو نرمی سے سمجھانا بہتر ہے۔
ایک اہم نقطہ
داڑھی اسلام کی ایک واضح سنت ہے۔ اس کا احترام واجب ہے۔ مذاق اُڑانا دل کی سختی اور دین سے دوری کی علامت ہے، اس لیے ایسے شخص کو سختی کے بجائے حکمت اور محبت سے سمجھانا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔
مونچھیں کم کرو، داڑھیوں کو بڑھاؤ
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَمَرَ بِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَاءِ اللِّحْيَةِ .
صحيح المسلم 69
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَاءِ اللِّحَى .
سنن أبي داود 4199
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ، وَفِّرُوا اللِّحَى، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ ”. وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ.
صحيح البخاري 109
1- صحیح مسلم (69)
نبی کریم ﷺ نے مونچھیں کم کرنے (یا اچھی طرح ترشوانے) اور داڑھی کو بڑھنے دینے کا حکم فرمایا۔
2- سنن ابی داود (4199)
رسول اللہ ﷺ نے مونچھیں کم کرنے اور داڑھیوں کو بڑھانے کا حکم دیا۔
3- صحیح بخاری (109)
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
"مشرکوں کی مخالفت کرو، داڑھیوں کو بڑھاؤ اور مونچھوں کو اچھی طرح کم کرو۔”
اورعبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے، اور جو حصہ مٹھی سے زیادہ ہوتا اسے کاٹ دیتے۔
رسولِ رحمت ﷺ کا فرمان:
"مونچھیں کم کرو، داڑھیوں کو بڑھاؤ” یہ صرف ایک ظاہری ہدایت نہیں،یہ اطاعت کی خوشبو ہے، یہ نسبتِ مصطفوی ﷺ کا نشان ہے،یہ مسلمان کی پہچان اور اس کے وقار کا تاج ہے۔
داڑھی…
سنتِ انبیاء کی یادگار، وقارِ مومن کی علامت، اور اطاعتِ رسول ﷺ کا روشن چراغ۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل:
حج یا عمرہ کے موقع پر داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے،اور جو زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے۔یہ عمل بتاتا ہے کہ سنت صرف الفاظ نہیں،عمل اور ادب کا نام ہے۔
سنت کو اپنانا چہرے کی تبدیلی نہیں،دل کی روشنی ہے۔یہ بندگی کا اعلان ہے،اور محبتِ رسول ﷺ کا اظہار۔
احادیث کا جامع خلاصہ
ان تمام روایات میں نبی کریم ﷺ نے دو باتوں کا واضح حکم دیا ہے:
• مونچھیں اچھی طرح کم کرنا / کم سے کم چھوٹی کرنا۔
• داڑھی کو بڑھنے دینا
اور ایک روایت میں یہ اضافہ ہے:
• "مشرکوں کی مخالفت کرو” یعنی ظاہری شناخت میں مسلمانوں کا امتیاز برقرار رکھو۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل بھی بیان ہوا ہے کہ وہ حج یا عمرہ کے موقع پر داڑھی کو مٹھی میں پکڑ کر جو زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے تھے۔
۔۔۔۔۔:::۔۔۔۔۔۔۔
Comments are closed.