تعددِازواج مرض یا نسخہء کیمیا

محمداحسان اشاعتی
خادم تدریس جامعہ تحفیظ القرآن بسرا
تعددِازواج (بہو وواہ )کے خلاف جو ہرزہ سرائی کی جارہی ہے اور اس کے غیر آئینی (اسوودھانک )ثابت کرنے کی جو جدو جہد کچھ نا عاقبت اندیش اشخاص اور فطرتِ انسانیہ سے چشم پوشی کرنے والے افراد کی طرف سے کی جاری ہے ، وہ جگ ظاہر ہے ۔
کچھ مہینے پہلے لکھنؤ کے ایک شخص نے سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا جس میں اس نے تین طلاق ،حلالہ ، تعددِازواج سمیت تمام مسلمانوں کے پرسنل لاء پر اعتراض جتایا ہے ؛ اس میں یہ کہا گیا کہ تین طلاق آئی پی سی کی دھارا ۴۹۸ کے تحت ایک ظلم ہے اور حلالہ آئی پی سی کی دھارا ۳۷۵ کے تحت بلاتکار (زنا ) ہے اور بہو وواہ دھارا ۴۹۴ کے تحت ایک جرم ہے چنانچہ بھارتی دنڈ سہیتا ۱۸۶۰ کے مطابق سب پر برابری کے ساتھ نافذ ہونا چاہئے ۔ حالانکہ جس تعدد ازواج کو شجرِممنوعہ قرار دیا جارہا ہے اور اس کے نام پر اس قدر واویلا مچایا جارہا ہے اگر اس کا تحقیقی جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ جسے وہ جنوں بتلا رہے ہیں وہ عینِ خرد ہے ، جس کو ظلم ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ در حقیقت قدرت کی طرف سے انصاف کا مستحکم نمونہ ہے ۔
عموما یہ بات کہی جاتی ہے کہ ایک بیوی کی رہتے ہوئے دوسری سے شادی کرنا ،پہلی پر سراسر ظلم اور اتیاچار ہے ، ہوس پرستی اور رواجِ عالم وانسانیت کے عمومی نہج سے گم گشتکی ہے گویا ایک سے زائد ، چار بیویوں تک رکھنے کی اجازت قطعی نامناسب ، مشتمل بر ظلم ہے ۔ لیکن جب حقیقت کے آئینے سے دیکھا گیا تو غیروں نے بھی تسلیم کیا کہ تعددِازواج کی اجازت نا صرف مناسب بلکہ بسا اوقات بہت سے امراض کا واحد علاج اور فطرتِ انسانی اور طبیعتِ بشری کے بالکل موافق ہے۔ وہ اس طر ح کہ اللہ نے انسانوں کی تخلیق کامقصد صلاح وتقوی کے ساتھ اپنی بندگی قرار دیا ہے اس میں کسی طرح کی کوتاہی اور تخلف ناقابلِ قبول ہے اور جو چیز اس صلاح و تقوی کے لئے مانع ثابت ہو ،اور اس میں کمی کوتاہی کا ذریعہ ہو ، وہ بھی ناقابلِ برداشت ہے ؛ تجربات اور دورِ حاضر کے حالات عینی شاہد ہیں کہ تعددِازواج کی ممانعت حصولِ تقوی کے لئے بڑی رکاوٹ اور انسان کے فطری ، طبعی تقاضوں کو بے جا طور پر جبراً قہراً دبانے کا سبب بھی ہے قدرتی طور پر کوئی انسان قوی الشہوت ہوتا ہے اور عورت ہمیشہ ایک حالت میں نہیں ہوتی ، عورت ہر ماہ پانچ یا سات دن ایسے حالات سے گزرتی ہے کہ شریعت نے ان میں مجامعت ناجائز قرار دیا ہے جبکہ مرد اس طرح کے حالات سے دوچار نہیں ہوتا ؛ پس اس کو جنسی تقاضوں کے پورا کرنے میں دقتیں پیش آتی ہیں ۔
اسی طریقے پر عورتوں کو حالتِ حمل میں بھی دوری بنائے رکھنا ضروری ہوتا ہے ،مزید براں یہ کہ وضعِ حمل کے بعد کچھ مدت احتیاط برتنا طبی اعتبار سے ضروری ہوتا ہے ؛ اب ایسی صورت حال میں وہ رجال جو قوی الشہوت ہیں اگر ان کو متعدد نکاح کی اجازت نہ دی گئی تو عین ممکن ہے کہ وہ غیر شرعی اور نا جائز راستہ اختیار کرلینگے ۔
آج کثرتِ زنا، جنسی بے راہ روی ، طوائف خانوں کی بہتات ؛ در اصل اسی تعددِ ازواج کے حکم سے چشم پوشی اور اس نظریہ سے منکرانہ رویہ اختیار کرنے کے نتیجے میں ہے ؛ اگر تعددِ ازواج کے اسلامی نظریے کو اپنایا گیا ہوتا تو نہ تو اس قدر دواعیِ زنا ہوتے ، نہ کثرتِ زنا اور نہ جنسی کج روی اس درجے ہوتی ۔
مگر افسوس مغربی تہذیب کی تقلید نے اس طرح قوتِ بینائی اور قوتِ شنوائی کو سلب کر لیا کہ اس نظریے سے انکار کے نتائج سامنے ہونے باوجود دائرہ احساس میں نہیں آپارہے ہیں ۔
جب کبھی کسی کی بیٹی بہن کی انتہائی درندگی کے ساتھ اجتماعی یا انفرادی عصمت دری کا سانحہ پیش آتا ہے تو سوائے حکومتِ وقت کو برا بھلا کہنے اور ان ریپسٹ کو دوچار گالیاں دیکر پھانسی کا مطالبہ کرنے کے اور کسی ذمہ راری کا احساس حاشیہء خیال میں بھی نہیں آتا ؛ ان واقعات اور ان نا خوشگوار قضیوں کے وقوع کی وجہ اور اصل بنیاد کی طرف توجہ مبذول ہی نہیں ہوتی ۔
اسلام کے کسی بھی حکم سے جب کبھی ذرا سی بھی بے توجہی اور غفلت برتی گئی ہمیشہ عامۃ الناس کو اس کا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور ہمارے سامنے جو حالتِ زار ہے وہ اسی حکم کی طرف سے بے اعتنائی برتنے بل کہ اس کی غلط تعبیر اور نا مناسب تصویر کشی کا انجامِ بد ہے ۔
بڑے تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف تو عورتوں کو مردوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کو کہا جاتا ہے ہر جگہ مردوعورتوں کے اختلاط کی دعوت دی جاتی ہے ، مرد وعورت کے درمیان کی دوریاں مٹائی جارہی ہیں جس سے جنسی ہیجان میں اضافہ فطری چیز ہے اور دوسری طرف مرد کو پابند بنایا جارہا ہے کہ ایک سے زائد زوجہ ہرگز نہ ہونے پائے ، جو کہ انسانی جذبات کے ساتھ کھلواڑاور جنسی اور فطری تقاضوں کا بڑی بے رحمی کے ساتھ خون ہے ؛ نیز یہ عورتوں پر ظلم تو در کنار ،سراپا رحمت ہے کیونکہ یہ بات بھی سروے سے ثابت ہو چکی ہے کہ عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے اب اگرایک کے لئے فقط ایک عورت سے نکاح کی اجازت ہو توبدیہی طور پر بہت سی عورتیں بے جوڑا رہ جائیں گی یا کم از کم لڑکوں کا ملنا دشوار ہوگا جیسا کہ فی زماننا ایسا ہونا کوئی امرِ جدیدنہیں ہے؛تعددِ ازواج کے توسط سے ایک سے زائد خواتین کے نان ونفقہ کی کفالت اور معاشی مسئلے کا حل بھی ہو جاتا ہے اور ساتھ ساتھ ان کو ایک با عزت زندگی گزارنے کا مستحکم اور قابلِ اعتماد سہارا حاصل ہوجاتاہے جو ہر عورت کے لئے ایک اہم ضرورت ہے ۔ ہرعورت کو ایک پر امن سائے کی حاجت ہوتی ہے جو اس کو تمام تر مصائب اور ناسازگار حالات سے تحفظ کا سامان فراہم کرے۔
ایسا بھی نہیں کہ یہ تعددِ ازواج کا حکم کوئی لازمی ہے بل کہ یہ ایک امر مباح ہے اور وہ بھی مشروط بہ عدل ؛ لہذا یہ کہناتو قطعاً لغواور تہمتِ محض ہے کہ دوسری سے یا اس سے زیادہ سے نکاح کرنے کی صورت میں پہلی پر ظلم ہے چنانچہ اس شخص کے لئے جو ایک سے زائد نکاح کرنے کی صورت میں ظلم کا اندیشہ رکھتاہو اس کو ایک ہی پر اکتفا کا حکم دیا گیا جیسا کہ قرآن مجیدمیں ہے کہ فان خفتم الا تعدلوا فواحدۃ
کہ اگر ایک سے زائد بیویاں رکھنے کی استطاعت نہ ہو ،ظلم کا اندیشہ ہو ،ان کے درمیان انصاف نہ کر سکنے کا خدشہ ہو تو ایک ہی پر بس کرے ۔
پس شریعتِ اسلامیہ کا یہ مسئلہء تعددِ ازواج بھی اپنے بقیہ مسائل کی طرح غائت درجے کا موزوں ، طبیعتِ انسانیہ اور بشری تقاضوں کے یکسر مناسب اور متضمن بر مصالح کثیرہ ہے

Comments are closed.