نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو اپنا آئیڈیل اور رول ماڈل بنائیں : مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی
آپ علماء سے صرف نماز روزہ زکوٰۃ کے مسائل ہی نہ معلوم کریں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق مسائل دریافت کریں؛ مفتی محمد رفیق پورکر
فقہ شافعی کے منتخب مسائل نامی کتاب کی رسم اجرا تقریب سے علماء کا خطاب
ممبئی (نمائندہ خصوصی) نوی ممبئی پنویل کے مسجد صفہ مسلمان ناکہ میں فقہ شافعی کے منتخب مسائل اور علمی باتیں نامی کتاب کی رسم اجرا کی ایک عظیم الشان تقریب منعقد کی گئی، اس کی صدارت کوکن کے معروف عالم دین اور انجمن دردمندان تعلیم وترقی ٹرسٹ کے صدر مفتی محمد رفیق پورکر مدنی نے کی، جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے نوجوان فاضل، ماہر تعلیم، معروف اسلامی اسکالر اور المعہدالعالی الاسلامی حیدرآباد کے نائب ناظم مفتی محمد عمر عابدین قاسمی مدنی شریک ہوئے، اس موقع پر مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی نے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ صرف ایک امام نہیں تھے بلکہ وہن انقلابی شخصیت کے مالک تھے، وہ محض ایک فقیہ نہیں تھے بلکہ جامع العلوم و الکمالات تھے، وہ بیک وقت محدث، فقیہ، ادیب وشاعر اور بہترین منتظم اور ایڈمنسٹریٹر بھی تھے، ان کی زندگی مسلمانوں کے لیے ایک اسوہ، نمونہ اور آئیڈیل ہے، مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی نے اس موقع پر بطور خاص نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ آپ صرف امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی فقہ پر عمل کریں، بلکہ آپ کو چاہیے کہنامام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر نگاہ رکھیں، اس سے سبق سیکھیں، امام شافعی ماہر تیز انداز اور کامیاب نشانہ باز تھے، انہیں ایسی جسمانی ورزش سے خوب لگاؤ تھا، علم کے ساتھ ساتھ انہیں ان چیزوں سے بھی دلچسپی تھی۔ مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی نے علمائے کرام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سلف کی زندگی کا ہمیں مطالعہ کرنا چاہیے، اور ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، تاریخ بتاتی ہے کہ علماء اور فقہاء کرام کے درمیان اختلافات ہمیشہ رہے ہیں، اور یہ علمی زندگی کی علامت ہے، مگر ان اختلافات کو کبھی نفرت یا عصبیت تک نہیں پہنچانا چاہیے، مفتی عابدین نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ امام شافعی نے امام مالک سے بھی استفادہ کیا اور امام محمد بن حسن شیبانی کے سامنے بھی زانوئے تلمذ تہ کیا، مگر وہ دونوں اساتذہ اور مکاتب فکر کا خوب احترام کرتے تھے، امام شافعی نے اپنے ان دونوں ہی اساتذہ سے مسائل میں اختلاف کیا، مگر ان علمی اختلافات نے کبھی قلبی احساسات کو متاثر نہیں ہونے دیا، مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی نے علما سے گزارش کی کہ فقہی مسائل میں اختلاف ہمیشہ سے اور ہمیشہ رہیں گے، ہم اپنی رائے پر قائم رہیں، مگر مسلکی اختلافات کو امت کے انتشار اور عوامی خلفشار کا ذریعہ نا بننے دیں، باہمی احترام و اعتراف کو رواج دیں۔ امام شافعی اس حیثیت سے بھی علماء کےلیے قابل اتباع ہیں کہ انہوں نے قرآن سنت پر بھی دس ترس حاصل کی اور فقہ و قیاس کو بھی سیکھا، اس امتزاج نے ان میں نصوص شریعت کا فہم، غور و فکر کا سلیقہ اور مسائل کو حل کرنے میں مختلف مصادر سے استفادہ کا منہج پیدا کیا۔ اخیر میں انہوں نے فقہ شافعی کے منتخب مسائل کے مرتبین بالخصوص مولانا فیض ملا اور انجینئر فیض خطیب کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی.

اس موقع پر صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے معروف عالم دین مفتی محمد رفیق پورکر نے عوام اور بالخصوص نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے معاشرے کا بڑا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ دین صرف نماز روزہ حج اور زکوٰۃ کا نام ہے، اس کے علاوہ دین نہیں ہے، اس لئے وہ صرف نماز روزہ حج زکوٰۃ کے تعلق سے ہی مسائل معلوم کرتے ہیں، زندگی کے دیگر اہم شعبوں بالخصوص معاملات، تجارت، معیشت، فاینانس اور دیگر شعبہ حیات کے تعلق سے بالکل انجان بن کر زندگی گذار تے ہیں، جبکہ ایسا نہیں ہے، اسلام واحد ایسا مذہب ہے جو زندگی کے تمام شعبوں میں مکمل رہنمائی کرتا ہے، کوئی بھی ایسا گوشہ نہیں ہے جس کی جانب اسلام نے رہنمائی نہ کی ہو، اس لئے میں اپنے نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ آپ زندگی کے جس شعبے سے بھی وابستہ ہوں، آپ اس شعبے کے تعلق سے اپنے علماء سے شریعت کی مکمل رہنمائی حاصل کریں، جانے انجانے میں غیر اسلامی طریقے پر عمل کرکے اپنی عاقبت خراب نہ کریں، اگر آپ نے اپنے علماء سے مسائل کو معلوم کیا اور شریعت کی روشنی میں اپنی زندگی گزاری تو یاد رکھیں کہ دنیا بھی سنورے گی اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک سرخرو ہوں گے. تقریب کے آغاز میں معروف عالم دین، ماہر نفسیات اور جامع مسجد ممبئی میں واقع فیملی فرسٹ کے ڈائریکٹر مفتی محمد اشفاق قاضی نے آج کی تقریب کے انعقاد پر روشنی ڈالتے ہوئے فقہ شافعی کے منتخب مسائل نامی کتاب کا تفصیلی تعارف پیش کیا اور ساتھ ہی حیدرآباد سے تشریف لائے نوجوان عالم دین مفتی محمد عمر عابدین قاسمی مدنی کا تعارف بھی کرایا، اس موقع پر مفتی محمد اشفاق قاضی نے عوام اور نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ گوگل، چیت جی پی ٹی کو اپنا رہنما نہ بنائیں بلکہ علماء کرام کو اپنا رہنما اور رہبر مانیں اور اپنے تمام مسائل کا حل انہیں سے معلوم کریں، انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سرجری اور آپریشن کے تعلق سے گوگل اور چیت جی پی ٹی بہترین رہنما ثابت ہوسکتا ہے لیکن کبھی کوئی شخص گوگل اور چیٹ جی پی ٹی پر بھروسہ کرکے اس سے سرجری اور آپریشن کا طریقہ نہیں معلوم کرتا ہے لیکن دین کے معاملے میں اتنا لاپرواہ اور جری ہوگیا ہے کہ وہ اپنے تمام شرعی مسائل گوگل اورچیٹ جی پی ٹی سے ہی حل کرنا چاہتا ہے جوکہ انتہائی خطرناک رجحان ہے. اس موقع پر مولانا مدثر مقادم شیخ الحدیث جامعہ فیض العلوم کالستہ نے بھی خطاب کیا، اس موقع پر مفتی محمد رفیق پورکر نے مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی کا شال اوڑھاکر اور گلدستہ پیش کرکے استقبال کیا جبکہ مفتی محمد اشفاق قاضی نے بصیرت آن لائن کے چیف ایڈیٹر مولانا غفران ساجد قاسمی کا استقبال کیا.

واضح رہے کہ تقریب کا آغاز عبدالہادی شیخ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، نعت نبی کا نذرانہ انیس سلمان لولا نے پیش کیا، تقریب کی نظامت کے فرائض مفتی مظفر سین ناظم مدنی انگلش اسکول شری وردھن نے انجام دیا، تقریب کا اہتمام علماء کمیٹی پنویل نے کیا، اس موقع پر کثیر تعداد میں علماء و دانشوران شریک ہوئے جس میں بطور خاص مولانا عبداللہ خطیب شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ کوکن مہاڈ، مولانا رجب برمارے مہتمم شاہدہ للبنات مہاڈ، مولانا اسحاق گھارے مہتمم جامعہ اسلامیہ کوکن مہاڈ، مفتی اسحاق پٹیل شیخ الحدیث دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ، مولانا عبدالکریم تانڈیل نائب صدر مدرسہ قاسم العلوم شری رنگاتلی، مولانا ارشد

ساٹھویلکر مہتمم جامعہ حسینیہ شری وردھن، مولانا ابراہیم ڈونگرکر استاذ حدیث و ادب جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور وغیرہ قابل ذکر ہیں. اس موقع پر مقامی معززین بھی کثیر تعداد میں شریک ہوئے جن میں عبداللہ خطیب، ایم شبیر تامبے اور ایم سعود بطور خاص قابل ذکر ہیں.
Comments are closed.