کس نے کہا خدا ظلم نہیں روکتا؟
محمد اللہ قیصر
ملحدین کو ظلم سے پریشانی ہے، اور انسان ہونے کے ناطے ہونی بھی چاہیے، بہت اچھی بات ہے، اسلیے وہ پوچھتے ہیں کہ اگر خدا ہے تو ظلم کیوں نہیں روکتا؟ قتل و غارتگری، ظلم و تعدی، اور سماجی نا انصافی عام ہے، ظلم و جبر کا استمرار اس بات کی دلیل ہے کہ خدا نہیں۔
پہلی بات تو یہ جان لینی چاہیے کہ خدا صرف انسانوں کو سکون فراہم کرنے کے لیے نہیں بیٹھا ہے، اور مشکلات سے مصائب کا آپشن ہی ختم ہو جائے تو صبر اور اس پر اجر کے کیا معنی رہ جائیں گے، برائی کی صلاحیت ہی نہ رہے تو سب فرشتے کی طرح ہو جائیں، پھر بندوں کو اختیار دینا چہ معنی دارد، اختیار کا مطلب ہی ہے کہ دونوں کی صلاحیت موجود ہو، پھر ایک پر اجر اور دوسرے پر سزا کا اعلان کیا جائے، تب جا کر امتحان مکمل ہوگا، ورنہ تو جبر ہو جائے گا،اور آپ بندوں پر جبر کے بھی مخالف ہیں
اب رہی بات کہ خدا ظلم کو کیوں نہیں روکتا؟ تو عرض ہے کہ کس نے کہا کہ خدا ظلم نہیں روکتا؟ ظلم و جبر کو روکتا ہے، مگر اپنے طریقے سے وہ آپ کے خود ساختہ طریقوں کا پابند نہیں ہے، ظلم کو روکنے کے اس اپنے طریقے ہیں۔
ہاں بالکل یہ صحیح ہے کہ ظالم کے ” فائٹر جیٹ” کو روکنے کے لیے وہ فرشتوں کو فائٹر جیٹ پر نہیں بھیجتا، میزائل کے مقابلے انٹی میزائل آسمان سے نہیں آتے، ٹینک شکن گولے آسمان سے نہیں برستے، ہر انسان کو بلٹ پروف جیکٹ فراہم نہیں کرتا، اور نہ انسانوں کے اندر سے ظلم کی صلاحیت کو ختم کرتا ہے
بلکہ خدا کے اپنے طریقے ہیں جو دور رس، طویل مدتی اثرات کے حامل، اور دائمی نوعیت کے ہیں، جس سے ظلم کا خاتمہ طویل مدت کے لیے ہوجائے چناں چہ اولا تو اس نے ظلم سے ابا اور نفرت انسان کی فطرت میں ڈال دی، لیکن دنیا میں بے شمار مغریات اور ظلم پر اکسانے والی چیزیں پہلے سے موجود ہیں، بے پناہ مال و دولت، بالا دستی کے لیے رسہ کشی، وسائل پر قبضہ کے لیے رسہ کشی، عصبیت کی نوع بہ نوع شکلیں، آپسی دشمنی وغیرہ وغیرہ ان سب کی موجودگی میں غالب گمان ہے کہ انسان ظلم کی طرف مائل ہوگا لہذا اولا خدا انسانوں کی ذہن سازی کرتا ہے، تعلیم و تزکیہ کے ذریعہ اس کی ذہنی و فکری تربیت کرتا ہے، اس سے انسان کی ذہنی ساخت ایسی ہو جاتی ہے کہ ظلم سے نفرت کرنے لگتا ہے، وہ تربیت کرتا ہے کہ ظلم خدا کی ناراضگی بڑا ذریعہ ہے، ظلم سے اجتناب پر انعامات کا اعلان کرتا ہے،
مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا”
” اس کے سبب ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی شخص کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک جان کو (قتل سے بچا کر) زندہ رکھا اس نے گویا تمام انسانوں کو زندہ رکھا”
اس کے علاؤہ بندوں سے اپنے بارے میں کہتا ہے کہ تمہارا رب ظالم نہیں، لہذا تم بھی ظلم سے بچو
” وماربُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ” تمہارا رب اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا "ولَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا” اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا حديث قدسی ہے : «يا عبادي! إني حرمت الظلم على نفسي، وجعلته بينكم محرمًا، فلا تظالموا میرے بندو! میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر حرام کیا ہے اور تمہارے درمیان بھی اسے حرام قرار دیا ہے، اس لیے تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو،
خدا ظلم کی شناعت و قباحت اور اس پر سزا کا اعلان کرکے بندوں کی فکری تربیت کرتا ہے تاکہ بندہ پہلے تو اپنے اختیارات کے غلط استعمال سے اور ظلم سے خود ہی رک جائے، لیکن اگر غلط ماحول کی وجہ سے کسی کی شیطنت حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے تو حفاظتی تدبیر اختیار کرتے ہوئے لوگوں سے کہتا ہے کہ ان ظالم طبیعتوں سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے قوت حاصل کرو، تاکہ وہ ڈریں اور ظلم سے باز رہیں۔وَأَعِدُّوا۟ لَهُم مَّا ٱسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍۢ وَمِن رِّبَاطِ ٱلْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِۦ عَدُوَّ ٱللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَءَاخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ ٱللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ۚ
” اور ان کے لیے جتنی قوت ہوسکے تیار رکھو اور جتنے گھوڑے باندھ سکو تاکہ اس تیاری کے ذریعے تم اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو اور جو اُن کے علاوہ ہیں انہیں ڈراؤ، تم انہیں نہیں جانتے، اللہ انہیں جانتا ہے”
اس کے باجود بندہ پھر بھی ظلم سے نہیں رکتا اور خدا کے عطاء کردہ اختیارات کا غلط فائدہ اٹھا تا ہے تو اس کی روک تھام کے لیے، اسے ظلم سے روکنے کے لیے خدا نے تین سطحوں پر انتظام کیا ہے
1 مظلوم کو دفاع کا پورا حق دیا ہے، بلکہ دفاع پر اجر کا وعدہ کرکے مظلوم کو معنوی قوت فراہم کرتا ہے
مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ”جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے تو وہ شہید ہے“
2 سماج اور صاحب اقتدار کو مظلوم کی نصرت اور ظالموں کے تعاقب کا حکم دیا ہے
فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِۚ-فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ
"پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر اگر پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں اصلاح کردو اور عدل کرو بےشک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں”
3 ظالموں کی سزا کا اعلان کیا ہے، آخرت میں تو سزا ملے گی ہی دنیا میں بھی حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ظالموں کو سزا دے
وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ
"اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقلمندو کہ تم کہیں بچو”
ہاں خدا کا یہ طریقہ نہیں کہ ظالم کے ہتھیار کے سامنے دوسرے ہتھیار لے کر فرشتوں کو بھیج دے، اس کے فائٹر جیٹ کے مقابلہ زیادہ ایڈوانس فائٹر جیٹ بھیجے، بلکہ ظالموں کو ایسی سزائیں دیتا ہے جس سے لوگ عبرت حاصل کر سکیں، ہم آئے دن اپنے سماج میں دیکھتے ہیں کہ ظلم کرنے والے کو کبھی نہ کبھی بدترین حالات سے گذرنا پڑتا ہے، ذلت اٹھانی پڑتی ہے، قوت اور شوکت چھین لی جاتی ہے، ظالم خود بچ جاتا ہے تو اس ظالم کی نسلیں خدائی عتاب کا شکار ہوتی ہیں تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں، ظالموں کو عبرتناک سزائیں ملیں، ان کو نشان عبرت بنادیا گیا، فرعون، شداد اور ایسے کتنے ظالم حکمرانوں کے نشانات اب بھی باقی ہیں، جاننے والے جانتے ہیں کہ انہیں کتنی بدترین سزائیں ملیں، ماضی قریب میں نہروں کے ہاتھوں سپر پاور کی ذلت کسی سے مخفی نہیں، پوری دنیا ایک طرف نہتے مظلوم ایک طرف اب بھی میدان میں ڈٹے ہیں، اسے نصرت خداوندی کے علاؤہ کوئی اور نام دینا حقیقت سے نظریں چرانا ہے
شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں
الله ينصر الدولة العادلة وإن كانت كافرة ولا ينصر الدولة الظالمة وإن كانت مؤمنة "اللہ انصاف پسند حکومت کی مدد کرتا ہے اگر چہ وہ کافر ہو، اور ظلم کرنے والی حکومت کی مدد نہیں کرتا آگرہ وہ مومن ہو”
اب آپ خود فیصلہ کریں ظلم سے روکنے کے لیے خدا نے کتنی سطح پر انتظامات کیے ہیں، پہلے ذہن سازی کی، پھر مظلوم کو دفاع کا حق دیا، پھر سماج کو ظالم کے خلاف کھڑا ہونے کی ترغیب دی، پھر حکومت کو حکم دیا کہ وہ ظالم کو سخت سزا دے، تو یہ خدائی پلان بندگان خدا کے درمیان سے ظلم کے خاتمہ کے لیے زیادہ اثر انداز ہوگا یا فقط ظالم کو قوت کے ساتھ وقتی طور پر ظلم سے روکنا؟ بندوں کی ذہن سازی نہ کی جائے، صرف طاقت سے ظلم کو روک دیا جائے تو ظلم پسند طبیعت ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہے گی، جب زیادہ قوت حاصل ہوگی پھر وہ ظلم کی کوشش کرے گا اس کے بر خلاف اگر ظلم کو روکنے کے اس خدائی پلان پر عمل کیا جائے ، اور فطرت میں ظلم سے نفرت کے جذبہ کو مضبوط کیا جائے تو دنیا سے ظلم کے خاتمے میں کوئی شک رہ جاتا ہے۔
آج ظلم کے خاتمہ کے لیے آپ کے خودساختہ اصول و قوانین پر عمل ہوتا ہے، آپ اپنے اصول و قوانین وضع کرتے ہیں لیکن کیوں ظلم ختم ہونے کے بجائے بڑھتا چلا جا رہا ہے؟ جس کو قوت حاصل ہوتی ہے وہ دوسرے پر چڑھ دوڑتا ہے۔
اور حیرت یہ بھی ہے کہ کرہ ارض پر بسنے والی کوئی انسانی جماعت ظلم کے خاتمے کے لیے خدائی پلان پر عمل درآمد کرتی ہے تو آپ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کہتے ہیں، مظلوم سے ہمدردی ہے لیکن ظالم کو سزا دی جاتی ہے تو آپ کی چیخیں نکل پڑتی ہیں، "عشق قاتل سے بھی مقتول سے یارانہ بھی”
یہ دوہری چال آپ کیوں چلتے ہیں
اگر واقعی ظلم سے نفرت ہے تو نافذ ہونے دیں خدائی پلان کو پھر دیکھیں کس طرح دنیا امن و امان کا گہوارہ بنتی ہے؟
Comments are closed.