اتحاد کی مشترک بنیادیں
محمد نفیس خان ندوی
اتحاد کا نعرہ کوئی نئی صدائے بازگشت نہیں، بلکہ انسانی تہذیب و تمدن کا ابدی و آفاقی درس ہے۔ تاریخ کے سرد اوراق اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ جب قومیں انتشار کے تھپیڑوں میں بہہ گئیں تو ان کی اجتماعی قوت مٹی میں مل کر رہ گئی؛ اور جب کبھی انہوں نے اتحاد کا دامن تھاما تو وہ طاقتیں بھی لرز اٹھیں جن کے رعب کے سامنے سنگلاخ پہاڑوں تک کو ہیبت طاری ہو جایا کرتی تھی۔
انتشار درحقیقت وہ مہلک زہر ہے جو قوموں کی رگوں سے عزم و حوصلہ نچوڑ لیتاہے اور قافلۂ ملت کو بے وزن، بے سمت اور بے توقیر بنا دیتا ہے۔
قرآن مجید نے اسی ابدی قانون کو ایک نہایت جامع اور بلیغ آیت میں یوں بیان فرمایا:﴿وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُم وَاصْبِرُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾ (اپنے اندر جھگڑے پیدا نہ کرو، ورنہ کمزور ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی)
لفظ ’رِیح‘ یہاں محض ہوا نہیں بلکہ ایک بلاغی استعارہ بھی ہے؛ وہ قوتِ محرکہ جو جہازوں کے بادبانوں کو بھر دیتی ہے، پرندوں کو آسمان عطا کرتی ہے، اور قوموں کو تاریخ کے افق پر متمکن کر دیتی ہے۔ جب یہی ہوا رُک جائے تو کارواں بھی ساکن ہو جاتا ہے، اور کشتیٔ ملت بے جان ہو کر رہ جاتی ہے۔
لیکن اتحاد نہ تو محض نعرہ ہے، نہ جلوس وسیمینار، اور نہ ہی چند جذباتی خطابات کا حاصل۔ اتحاد ایک فکری، تہذیبی اور عمرانی فلسفہ ہے؛ یہ یکسانیت (Uniformity) نہیں بلکہ وحدت فی الکثرت کی وہ لطیف حقیقت ہے جس میں تنوع کے رنگ مٹائے نہیں جاتے بلکہ ایک بڑے مقصد کے تحت ہم آہنگ کیے جاتے ہیں۔
*اختلافِ رائے انسانی فطرت کا تقاضا ہے، لیکن اختلاف کو ضد میں بدل دینا عقل و دانش کے خلاف ہے۔*
مختلف ذہنوں، روایتوں اور مسالک کے درمیان اتحاد اس وقت تک جنم نہیں لے سکتا جب تک یہ اصرار ترک نہ کر دیا جائے کہ ہر شخص کو ایک ہی فکری سانچے میں ڈھلنا ہے۔
*آج کے دور میں تقریباً ہر ملی اور قومی جماعت اتحاد کا نعرہ بلند کرتی ہے، مگر اس کے ساتھ ہی ایک خفیف مگر مؤثر تاثر بھی دیتی ہے کہ یہ کاروانِ وحدت صرف اسی کے پلیٹ فارم سے ہی ممکن ہے؛ لہٰذا ہر تنظیم اور ہر جماعت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسی کے ساز سے ہم ساز ہو جائے۔*
یہ طرزِ عمل نہ صرف اتحاد کی روح کو مجروح کرتا ہے بلکہ اسے ایک تنگ نظری کی زنجیروں میں جکڑ دیتا ہے، جہاں ہر گروہ اپنے دائرہ کو مرکزِ کائنات سمجھتا ہے اور دوسروں کی شمولیت کو اپنی شرائط پر مشروط کر دیتا ہے۔
تجربات شاہد ہیں کہ ایسے خود ساختہ انحصار نے کئی عظیم تحریکوں کو ابتدائی مراحل میں ہی ختم کر دیا، کیونکہ حقیقی اتحاد تو وسعت قلبی اور مشترکہ افق کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، نہ کہ ذاتی یا جماعتی اجارہ داری پر۔
فکری سطح پر دیکھا جائے تو یہ طرزِ عمل دراصل نفسیاتی برتری(Psychological Superiority)اور خودساختہ مرکزیت کا مظہر ہے، جس میں اتحاد کی دعوت اپنی اصل معنویت کھو کر محض اپنی قیادت و سیادت کے اثبات کا ذریعہ بن جاتی ہے۔اس نوع کی کوششیں ہمیشہ اختلافات کو کم کرنے کے بجائے انہیں شدید تر کرتی ہیں، اور ملت کی توانائی کو ضائع کرنے کا سبب بنتی ہیں۔
درحقیقت اتحاد کی اصل روح کسی ایک فکر یا جماعت کے گرد گردش کرنے کا نام نہیں، بلکہ وہ مشترک اور آفاقی بنیادیں ہیں جن پر مختلف افکار و آرا کے حامل افراد بھی اپنے فکری امتیازات کے باوجود شانہ بہ شانہ کھڑے ہو سکیں، اور جنہیں باہمی احترام، وسعتِ نظر اور مقصد کی یگانگت ایک مضبوط رشتے میں باندھ دیتی ہے۔
اسی حقیقت کی طرف قرآن مجید میں حبل اللہ (اللہ کی رسی) کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا گیا ہے، جو دراصل توحید، رسالت اور اعلیٰ اخلاقی اصولوں پر قائم ایک جامع اور مشترکہ بنیاد ہے۔
یہ بنیاد اس قدر مستحکم اور فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ ہے کہ اس پر مختلف مسالک اور متنوع ذہنیتیں بھی اپنی انفرادی شناخت کے ساتھ اکٹھا کھڑی ہو سکتی ہیں۔
اسی اصول کے تحت اقوامِ عالم کے درمیان بھی ایک وسیع انسانی بنیاد پر اتحاد ممکن ہے: جہاں انسانی وقار، بنیادی حقوق اور اجتماعی ترقی وہ مشترک اقدار بن جائیں جن پر مختلف مذاہب و طبقات کے لوگ متحد ہو سکتے ہیں۔
جہاں تک مسلم امت کا تعلق ہے تو اس کے اندر اتحاد کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہے۔ مسالک اور آراء کے اختلافات کے باوجود، ایک وسیع دائرہ میں اہل سنت و الجماعت کی تمام جماعتیں قرآن کی تعلیمات، سیرتِ رسول ﷺ اور اسلام کی بنیادی دعوت و اقدار پر متفق ہیں۔ یہی وہ ضابطۂ مشترک ہے جو ملت کو ایک لڑی میں پرو سکتا ہے۔
اعتقادی یکسانیت نہ مطلوب ہے نہ ممکن، مگر عملی اتحاد-جس میں ملت ایک جسمِ واحد کی طرح حرکت کرے-نہ صرف ممکن ہے بلکہ ناگزیر بھی۔
اتحاد کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ کوئی جماعت اپنے اصول یا اعتقادی بنیادوں سے دستبردار ہو جائے؛ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کو اپنی حدود میں مکمل آزادی ہو، *مگر جب ملت کے وجود یا اس کے اجتماعی مفادات پر کوئی آنچ آئے تو سب ایک ہی صف میں کھڑے ہو جائیں۔ مساجد، مدارس اور دینی ادارے کسی ایک جماعت کی ملکیت نہیں، یہ ملت کی امانتیں ہیں، اور ان کا تحفظ پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔*
اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اکثر ذاتی، مسلکی یا جماعتی مفاد بن جاتا ہے۔ جب تک ملی مفاد کو ذاتی مفادات پر مقدم نہ کیا جائے، حقیقی وحدت کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ نعرے تو بہت لگے، مگر حقیقت یہ ہے کہ سنجیدہ حکمتِ عملی، مضبوط مشترکات اور واضح ایجنڈے کے بغیر کوئی قوم متحد نہیں ہوئی۔.
آج وقت کا سب سے اہم تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنے مشترکات کو پہچانیں، انہیں مضبوط کریں، اور ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیں جس پر پوری امت اعتماد کے ساتھ کھڑی ہو سکے۔ اگر ہم اس قرآنی ہدایت، تاریخی تجربے اور عملی ضرورت کو سمجھ کر آگے بڑھیں تو ملت کی وحدت نہ صرف ممکن ہے بلکہ یقینی ہے،ان شاء اللہ!
Comments are closed.