خدا کی عدالت میں غزہ کی چیخیں

 

محمد نفیس خان ندوی

 

غزہ کی سرزمین آج بھی لہو سے وضو کر رہی ہے، کھنڈروں سے اٹھتی چیخیں روح کو چیرتی ہوئی گزر رہی ہیں۔

زیتون کے باغوں میں معصوموں کی خاموش ہنسی اب سرد ماتم بن چکی ہے۔ ہوا کا ہر جھونکا ایک مصلوب خواب کی آخری سسکی لیے پھر رہا ہے، ملبوں کے نیچے دبی ہوئی ننھی ہڈیاں زمانے کے سینے پر زخم بن کر اُبھر رہی ہیں۔ راکھ ہوتے ہوئے خوابوں کی دھیمی دھیمی سسکیاں ہوا میں تحلیل ہو کر بھی سنائی دیتی ہیں۔

ٹوٹے ہوئے ہاتھ جب آسمان کی طرف اٹھتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے انسانیت کی پوری تاریخ خدا کی عدالت میں مجرمانہ کھڑی لرز رہی ہے.

 

یہ المناک منظر صرف انسانوں کے لیے نہیں، پوری کائنات کے سکوت پر ایک گہرا سوال ہے—کہ ظلم کب تک طمطماتا رہے گا اور معصومیت کب تک خون میں لت پت رہے گی؟

 

ان چیخوں کا شور اتنا بلند ہے کہ ایک ملحد بھی خاموش نہیں رہ سکتا۔وہ کہتا ہے کہ *“اگر خدا ہے تو وہ خاموش کیوں ہے؟ ظلم کو فوراً روکتا کیوں نہیں؟”* یہ سوال جذبات کا نہیں فلسفہ کا سوال ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک سادہ غلط فہمی چھپی ہے:

خدا کو دنیا میں ہر لمحہ مداخلت کرنے والی قوت سمجھ لینا، جیسے وہ کٹھ پتلیاں ہلانے والا کوئی بے صبر تماشائی ہو۔

 

اگر ہر ظلم ہوتے ہی خدا ہاتھ روک دے، ہر گولی چلتے ہوا میں ٹھہر جائے، ہر ظالم فورا ہی بجلی کی لپیٹ میں آجائے، اور ہر مظلوم کی چیخ نکلتے ہی ظالم کا گلا کٹ کر گر جائے تو انسان کا اختیار، اس کی آزادی، اس کی اخلاقی قیمت—سب ختم ہوجائیں۔ دنیا ایک بے احساس روبوٹک میدان بن جائے، نہ آزمائش باقی رہے نہ ذمہ داری، نہ خیر کا وزن رہے نہ شر کی قباحت!

 

دلچسپ بات یہ ہے کہ جو شخص خدا کو نہیں مانتا وہ بھی ظلم کو غلط، انصاف کو ضروری، معصوم کے خون کو قیمتی اور ظلم کے خلاف آواز کو اخلاقی فرض سمجھتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ اخلاقی احساس کہاں سے آیا؟ اگر کائنات محض اتفاقات کا نتیجہ ہے، اور انسانی وجود کیمیائی ارتقاء کا اندھا سفر’ تو ظلم، انصاف، اخلاق، اور انسانیت—یہ تمام الفاظ بے معنی ہو جاتے ہیں۔ ایک خالص ملحدانہ دنیا میں غزہ کے بچوں کا قتل بھی “حادثہ” ہی ہوگا، اس کے پیچھے کوئی مقصد نہیں، کوئی قدر نہیں، کوئی اخلاقی وزن نہیں۔ لیکن انسان اس سوچ کو قبول نہیں کر پاتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ظلم بے معنی نہیں ہو سکتا، اور مظلوم کی چیخ خلا میں گم نہیں ہوتی۔ یہی شعور اس بات کی دلیل ہے کہ ہم محض مادہ نہیں، بلکہ اخلاقی کائنات کے مسافر ہیں۔

 

حقیقت یہ ہے کہ دنیا سزا و جزا کی جگہ نہیں بلکہ امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں ظالم کو مہلت دی جاتی ہے تاکہ انسان کا اختیار اور اس کی اخلاقی حالت پوری طرح ظاہر ہو سکے۔ اگر ہر ظلم پر خدا فوراً لگا مارتا تو انسان کبھی بھی اپنے اختیار کے ساتھ آزمایا نہ جاتا۔

 

غزہ کا واقعہ انسانیت کی اخلاقی درجہ بندی کر رہا ہے—کہ کون ظالم کے ساتھ کھڑا ہے اور کون مظلوم کے ساتھ، کون لاتعلق ہے اور کس دل میں انسانیت کی چنگاری باقی ہے؟!

 

یاد رکھیے غزہ کی چیخیں اس زمین کے کانوں تک محدود نہیں، وہ آسمانی عدالت کی دہلیز پر دستک دیتی ہیں۔ اس عدالت میں کوئی لاپروائی نہیں، کوئی سمجھوتہ نہیں۔ انسانوں کی عدالتیں طاقتوروں کے دباؤ میں جھک جاتی ہیں، اقوام متحدہ وقت کے دھارے میں بہہ جاتا ہے، حدیثِ انصاف لکھنے والے صحافی خاموش کروائے جاتے ہیں، اور حکومتیں اپنے مفاد کی قید میں انسانیت کو فروخت کر دیتی ہیں۔ لیکن خدا کی عدالت میں کوئی سفارشی نہیں، کوئی پروپیگنڈا نہیں، کوئی فریب نہیں۔ وہاں غزہ کا ایک قطرہ خون بھی ضائع نہیں جاتا۔

 

تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ خدا کی خاموشی’ خاموشی نہیں مہلت ہوتی ہے ۔ فرعون، نمرود، ہٹلر، موسولینی، اور فسطائیت کی تمام شکلیں—سب کو ڈھیل ملی، مگر اس ڈھیل کے بعد ایسی گرفت آئی کہ وہ تاریخ کے سبق بن گئے۔ خدا کی گرفت فوری نہیں ہوتی، مگر جب ہوتی ہے تو پوری تاریخ کا دھارا بدل دیتی ہے۔ اس لیے غزہ کی آزمائش بھی اسی تاریخی و اخلاقی سنت کا ایک باب ہے۔

 

اصل سوال یہ نہیں کہ خدا خاموش کیوں ہے۔ *اصل سوال یہ ہے کہ انسان کیوں خاموش ہے؟* غزہ کی چیخیں انسانوں کے کانوں میں پڑتی ہیں مگر دل بے حس ہیں۔ ضمیر بے آواز ہیں، یہ خدا کی نہیں، انسانیت کی خاموشی ہے۔ خدا نے زمین پر عدل قائم کرنے کی ذمہ داری انسان کے ہاتھ میں دی ہے، اور جب انسان اپنی ذمہ داری چھوڑ دیتا ہے تو ظلم بڑھتا ہے، برگ و بَر لاتا ہے، اور اپنی ساریں حدیں پار کرجاتا ہے..

 

اگر خدا نہ ہو تو غزہ کے شہیدوں کا کوئی بدلہ نہیں، ظالم کبھی نہیں پکڑے جائیں گے، اور انصاف ایک وہم بن کر رہ جائے گا۔ لیکن اگر خدا ہے – اور عقل، اخلاق اور کائناتی نظم سب اسی کی گواہی دیتے ہیں- تو پھر کوئی قطرۂ خون ضائع نہیں جاتا، کوئی ظلم بغیر حساب کے نہیں جاتا، اور آخرت میں ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب ظالم اپنی پوری تاریخ کے ساتھ کھڑا ہوگا اور مظلوم اپنی پوری عظمت کے ساتھ سربلند ہوگا، یہی حقیقت غزہ کے صبر اور قربانی کو اخلاقی معنویت عطا کرتی ہے۔

 

خدا خاموش نہیں، وہ اپنے طریقے سے تاریخ کو حرکت دے رہا ہے۔ خاموش وہ ضمیر ہیں جن میں غیرت مرچکی ہے۔ غزہ کا خون سازشوں میں نہیں گم ہوگا؛ یہ تاریخ کی نئی سمت بنانے والے ابواب میں شامل رہے گا۔ خدا کی حکمت کبھی فوری نہیں ہوتی، مگر اس کا عدل ہمیشہ مکمل ہوتا ہے۔

 

غزہ کے بچے جنہیں دنیا نے بے یار و مددگار چھوڑ دیا، وہ خدا کی عدالت میں گواہی دینے کے لیے جا رہے ہیں۔ ان کے آنسو ایڑیاں نہیں رگڑتے، عرش کو ہلا دیتے ہیں۔ دنیا کے فیصلے عارضی ہیں، مگر وہاں کے فیصلے قطعی اور حتمی!

 

ایک دن آئے گا جب زمین کی گہرائیاں کھلیں گی،وقت کے پردے ہٹیں گے،اور غزہ کی چیخیں فیصلہ بن کر اٹھیں گے،تب دنیا دیکھے گی کہ خدا نے کبھی خاموشی اختیار نہیں کی تھی؛خاموش تو انسان تھا —جو چیخیں سنتا تھا مگر سنتا نہیں تھا،ظلم دیکھتا تھا مگر دیکھنا نہیں چاہتا تھا۔جس کو اختیار تھا اس بربریت کو روکنے کا مگر وہ تماشائی بنا رہا، جو اپنےذاتی مفاد کی خاطر بہانے تلاشتا رہا اور سارا الزام خداکے سر دھرتا رہا۔۔۔۔

 

جب وہ دن آئے گا—اور لازم آئے گا—تو خدا کی عدالت میں غزہ کی چیخیں صرف چیخیں نہیں ہوں گی؛ وہ فیصلہ بن کر گونجیں گی۔ وہ ظالموں کے تخت گرائیں گی اور مظلوموں کے چہروں کو نور بخشیں گی۔ زمین کے سب آنسو ایک ایک کر کے گنے جائیں گے اور ظلم کا ہر قطرہ آسمانی عدالت میں گواہی دے گا۔

 

خدا خاموش نہیں، وہ دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، بس ایک عظیم دن کا انتظار ہے جس کا وعدہ کیا گیا ہے!!

Comments are closed.